سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-151 Fatwa no: 1447-151

آیت ِسجدہ سے وجوبِ سجدہ کا حکم مصحف سے پڑھنے کے ساتھ خاص نہیں ہے

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہم بچپن سے یہی سنتے آرہے ہیں کہ قرآن میں جو سجدہ کی آیات ہیں اس کو پڑھنے سے پڑھنے والے اور سننے والے پر سجدہ لازم ہوجاتا ہے لیکن ذہن میں کافی عرصہ سے یہ سوال آرہا ہے کہ یہ سجدہ صرف قرآن کے ساتھ خاص ہے یا یہ حکم مطلق ہے یعنی اگر قرآن کے علاوہ کبھی سبق پڑھاتے ہوئے کسی کتاب میں یہ آیت آجائے تو اس وقت تلاوت تو نہیں ہورہی ہوتی بلکہ سبق میں اس کو پڑھا جاتا ہے ۔ایسے ہی اگر کسی دیوار وغیرہ پر آیت ِسجدہ لکھی گئی ہو تو اس کو پڑھتے وقت بھی تو تلاوت نہیں ہورہی ہوتی تو کیا ان دونوں صورتوں میں بھی صرف اس آیت کو کتاب یا دیوار پر لکھا ہوا پڑھنے سے سجدہ سہو لازم ہوگا یا نہیں سجدہ کرنے کا حکم صرف قرآن میں آیت ِسجدہ پڑھنے کے ساتھ خاص ہے؟

جواب :

سجدہ ِ تلاوت کے وجوب کا سبب محض آیت سجدہ کا پڑھنا یاسننا ہے نہ کہ صرف قرآن پاک یعنی مصحف  سے پڑھنا یا سننا ،  اس لئے کسی کتاب میں یا دیوار پر لكهی ہوئی آیت ِسجدہ  پڑھنے سے اور یہاں تک کہ آیت ِ سجدہ کا لفظی ترجمہ پڑھنے اور اس کے سننے سے بھی سجدہ  واجب ہوجاتا ہے۔
نور الايضاح:
ويجب على من تلا آية ولو بالفارسية. . . . .الخ
و تحته في مراقي الفلاح:
"ولو" تلاها "بالفارسية" اتفاقا فهم أو لم يفهم لكونها قرآنا من وجه "
(كتاب الصلاة، باب سجود التلاوة، 184 ، المكتبة العصرية)
الدر المختار:
(يجب) بسبب (تلاوة آية) أي أكثرها مع حرف السجدة. . . . . (بشرط سماعها) فالسبب التلاوة وإن لم يوجد السماع، كتلاوة الأصم والسماع شرط في حق غير التالي ولو بالفارسية إذا أخبر (أو) بشرط (الائتمام) أي الاقتداء (بمن تلاها) فإنه سبب لوجوبها أيضا.
و تحته في الشامية:
(قوله بسبب تلاوة) احترز عما لو كتبها أو تهجاها فلا سجود عليه كما سيأتي. . . . . (قوله بشرط سماعها) فلا تجب على من لم يسمعها وإن كان في مجلس التلاوة شرح المنية.
(كتاب الصلاة، باب سجود التلاوة ، 2/ 105-103 ، دار الفکر)

الهداية شرح بداية المبتدي:
والسجدة واجبة في هذه المواضع على التالي والسامع سواء قصد سماع القرآن أو لم يقصد
لقوله عليه الصلاة والسلام السجدة على من سمعها وعلى من تلاها وهي كلمة إيجاب. . . .الخ
(كتاب الصلاة، باب سجود التلاوة ، 1/ 78، دار احياء التراث العربي)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب