سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-152 Fatwa no: 1447-152

ايك بیوہ اور تین بیٹوں میں تقسیم میراث کا طریقہ کار

براہ راست فتویٰ
سوال :
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت سورۃ مسئلہ یہ ہے کہ ایک آدمی نے اپنے پیچھے ایک مکان چھوڑا، اب اس مکان میں تین اس کے بیٹوں کا حصہ بنتا ہے اور ایک اس کی بیوہ ہے اور جو بیوہ ہے وہ ان بیٹوں کی سگی ماں نہیں ہے تو اس صورت میں تحریری فتوی چاہیے کہ کتنا حصہ کس کا بنتا ہے جزاک اللہ خیرا۔
جواب :

شریعت مطہرہ کی تعلیمات کے مطابق سب سے پہلےمیت کے ترکہ میں   سے اس کی تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالا جائے گا ،تاہم اگر کسی نے اپنے ذمے لیا ہو تو مذکورہ اخراجات ترکہ سے نکالنے کی ضرورت نہیں ، اس کے بعد اگر میت کے ذمے کسی کا قرض واجب الادا ہو تو اس کو ادا کیا جائے گا اس کے بعد  اگر میت نے  کسی غیر وارث کے لئے کوئی جائز وصیت کی ہو تو  اس کو میت کے تہائی مال میں  سے نافذ کیا جائے گا ،اس کے بعد باقی مال میت کے ورثا میں ان کے شرعی حصوں کے بقدر تقسیم ہوگا۔
بصورت مسؤلہ درج بالا ترتیب کے مطابق یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات ،قرض کی ادائیگی اور نفاذِ وصیت(اگر ہو تو) کے بعد مرحوم کے باقی ماندہ ترکہ(مذکورہ مکان سمیت مرحوم کی تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیداد) کےکل 24 حصے بنائے جائیں گے جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو آٹھواں حصہ یعنی 24 میں سے  3 حصے  دئےجائیں گے  جبکہ باقی 21 حصوں میں سے ہر ایک بیٹے کو7    حصے دئے جائیں گے۔ 
نوٹ:اگر مذکورہ مکان میں اتنی  گنجائش ہو کہ درجہ بالا ترتیب کے مطابق تمام ورثاء میں تقسیم ہوسکتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ ایک دو ورثاء  اس مکان میں سے باقیوں کا حصہ خرید کو ان کو ان کے  حصے کی رقم دے دیں  ۔
قال تبارك و تعالى:
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ .....  وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ.....الخ              (النساء 12،11)
و في السراجي في الميراث:
و العصبة : كل من يأخذ ما أبقته أصحاب الفرائض و عند اكإنفراد يحرز جمير المال...اما العصبة بنفسه فكل ذكر لا تدخل في نسبته الى الميت أنثى و هم اربعة اصناف : جزء الميت و اصله.....الخ
( فصل في العصبات ، ص53 ، المكتبة البشرى)
و في الهندية:
التركة تتعلق بها حقوق أربعة. . . . . ثم بالدين وأنه لا يخلو إما أن يكون الكل ديون الصحة أو ديون المرض . . . . . ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين إلا أن تجيز الورثة أكثر 
من الثلث ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث . . . . . الخ
(كتاب الفرائض، الباب الأول في تعريف الفرائض،6/ 447 ، دارالفكر)
و في الدر:
العصبات النسبية ثلاثة عصبة بنفسه وعصبة بغيره. . . . . ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل ثم أصله الأب ويكون مع البنت) بأكثر  . . . . . الخ
(كتاب الفرائض، فصل في العصبات،6/ 773 ، دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب