سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-153 Fatwa no: 1447-153

ایک بیوہ اور پانچ بیٹوں میں تقسیم میراث

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی مرااور اس نے اپنی جائیداد چھوڑی جس میں منقولی اور غیر منقولی دونوں طرح کی اشیاء ہیں جبکہ مرحوم کے ورثاء میں ایک بیوی اور پانچ بیٹے ہیں ۔اس کے علاوہ مرحوم کی کوئی بیٹی نہیں ہیں ۔اب اس حوالہ سے آپ حضرات رہنمائی فرمائیں کہ مرحوم کی تمام جائیداد اس کے ورثاء میں کیسے تقسیم ہوگی ؟اور اس بیوی اور بیٹوں کی موجودگی میں مرحوم کے بھائی اور بہنوں کو میراث میں سے کچھ حصہ ملے گا یا نہیں ان کو کچھ نہیں ملے گا؟
جواب :

بصورت مسؤلہ سب سے پہلے مرحوم کے ترکہ (مرحومہ کی تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیداد)  سے اس کے کفن دفن کے اخراجات نکالے جائیں گے  لیکن اگر کسی نے یہ اخراجات اپنے ذمہ لئے ہوں تو مرحوم کے ترکہ سے نکالنے کی ضرورت نہیں ،اس کے بعداگر مرحوم کے ذمے کوئی قرض ہو تو اس کو ترکہ سے  ادا کیا جائیگا،اس کے بعد اگر مرحوم  نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو مذکورہ ترکہ کے ایک تہائی میں نافذ کیا جائیگا،اس کے بعداگر سوال میں ذکر شدہ ورثاء کے علاوہ مرحوم  کا کوئی اور وارث نہ ہو تو  مرحوم کے باقی ماندہ ترکہ کے کل چالیس حصے بنائیں جائیں گے جن میں سے پانچ(5) حصے(یعنی آٹھواں حصہ) مرحوم  کی  بیوہ کو ملیں گے اور باقی پینتیس(35) حصوں میں سے ہر ایک بیٹے کو سات(7) حصے ملیں گے جبکہ مرحوم کے بھائی اور اس کی بہنیں اپنے مرحوم بھائی کی میراث سے محروم رہیں گے  ۔قال تبارك و تعالى:
وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ.....الخ      (النساء: 12)
السراجي في الميراث:
و العصبة : كل من يأخذ ما أبقته أصحاب الفرائض و عند اكإنفراد يحرز جمير المال...اما العصبة بنفسه فكل ذكر لا تدخل في نسبته الى الميت أنثى و هم اربعة اصناف : جزء الميت و اصله.....الخ
( فصل في العصبات ، ص53 ، المكتبة البشرى)

الهندية:
التركة تتعلق بها حقوق أربعة. . . . . ثم بالدين وأنه لا يخلو إما أن يكون الكل ديون الصحة أو ديون المرض . . . . . ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين إلا أن تجيز الورثة أكثر من الثلث ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث . . . . . الخ
(كتاب الفرائض، الباب الأول في تعريف الفرائض،6/ 447 ، دارالفكر)
الدر:
العصبات النسبية ثلاثة عصبة بنفسه وعصبة بغيره. . . . . ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل ثم أصله الأب ويكون مع البنت) بأكثر  . . . . . الخ
(كتاب الفرائض، فصل في العصبات،6/ 773 ، دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب