نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی سعودی عرب میں ہے،اس کو علم ہوا،کہ اس کی بیوی کام کرنے کےلئے کھیتوں میں جاتی ہے۔شوہر نے سختی سے منع کیا،لیکن پھر بھی وہ گئی تھی،اس پر شوہر کو غصہ آیا ،اور غصہ میں کہا کہ اگر آج کے بعد تو کھیتوں میں کام کرنے کےلئے نکل گئی تو تو میری ماں بہن ہوگی۔پھر کچھ عرصہ کےلئے بیوی گھر میں رہی،لیکن پھر ضرورت پڑی اور بامرمجبوری وہ گھر کے دیگر خواتین کے ساتھ ایک بار پھر کھیتوں میں چلی گئی۔اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا شوہر کے اس کہنے کی وجہ سے کوئی طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں ؟ اگر واقع ہوئی ہے تو کونسی طلاق واقع ہوئی ہے۔رہنمائی فرمائیں۔
الجواب حامداومصلیا
بصورتِ مسئولہ ان الفاظ کی وجہ سے شخصِ مذکور کی بیوی پرکوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے،بلکہ یہ کلام لغواور بیکارہے،البتہ بیوی کو ماں یابہن کہناکراہت سے خالی نہیں ہے،اس لئے اسےگریزکرناچاہئے،نیز خاتون کو بھی عقلمندی سے کام لینا چاہئے ،شوہر کے باربار منع کرنے کے باوجود گھر سے باہر نکلنا نہ صرف یہ کہ ازدواجی زندگی کےلئے تباہ کن ہے،بلکہ خاتون گناہ کا ارتکاب بھی کرتی رہی ہے۔اس لئے اس کو اپنے کئے ہوئے پر توبہ کرکے آئندہ کےلئے احتیاط کرنا چاہئے۔
حاشية ابن عابدين:والذي في الفتح وفي أنت أمي لا يكون مظاهرا وينبغي أن يكون مكروها فقد صرحوا بأن قوله لزوجته يا أخية مكروه وفيه حديث رواه أبو داود أن رسول الله سمع رجلا يقول لامرأته يا أخية فكره ذلك ونهى عنه ومعنى النهي قربه من لفظ التشبيه ولو لا هذا الحديث لأمكن أن يقول هو ظهار لأن التشبيه في أنت أمي أقوى منه مع ذكر الأداة ولفظ يا أخية استعارة بلا شك وهي مبنية على التشبيه لكن الحديث أفاد كونه ليعين ظهارا حيث لم يبين فيه حكما سوى الكراهة والنهي فعلم أنه لا بد في كونه ظهارا من التصريح بأداة التشبيه شرعا ومثله أن يقول لها يا بنتي أو يا أختي ونحوه.(كتاب الطلاق:مطلب بلاغات محمد-رحمه الله: ص:3/ 470:ط:ايج،ايم،سعيد)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 28 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔