سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-154 Fatwa no: 1447-154

ایک تولہ سونا کے بقدر رقم دیکرسونے کے موجودہ ریٹ کے اعتبار سےمطالبہ کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
2006 میں فی تولہ سونا 13,000 روپے کا تھا۔دو دوست سلیم اور نواز سونا خریدنے کے لیے مارکیٹ گئے۔دونوں کے پاس الگ الگ 13,000 روپے تھے۔نواز نے اپنے 13,000 روپے سے ایک تولہ سونا خریدا۔سلیم کے پاس 13,000 روپے نقد ہی رہے۔اسی دوران ان کا تیسرا دوست شیر محمد آیا اور اس نے کہا کہ "مجھے پیسوں کی ضرورت ہے، مجھے قرض دے دو۔"سلیم نے اپنے 13,000 روپے نقد شیر محمد کو قرض دے دیے جبکہ نواز نے اپنا خریدا ہوا ایک تولہ سونا شیر محمد کو قرض دے دیا۔اب 2025 میں شیر محمد قرض واپس کرنے آیا:اس نے سلیم کو 13,000 روپے واپس کیے اور نواز کو ایک تولہ سونا واپس کیا۔اب سوال پیدا ہوا،سلیم کہتا ہے کہ "ہم دونوں نے برابر مالیت (13,000 روپے) قرض دیا تھا،لیکن آج میرے 13,000 روپے میں ایک تولہ سونا خریدنا ممکن نہیں جبکہ نواز کو وہی سونا واپس ملا جس کی موجودہ قیمت 3 لاکھ روپے سے زیادہ ہے،لہٰذا سوال یہ ہے کہ کیا سلیم کو بھی ایک تولہ سونا کی موجودہ قیمت کے برابر رقم ملنی چاہیے؟یا ایسا کرنا سود (ربا) کے زمرے میں آئے گا کیونکہ قرض کی واپسی اصل رقم سے زیادہ ۔

جواب :

شریعت مطہرہ کی تعلیمات کے مطابق قرض کا ضابطہ یہ ہے کہ جو چیز قرض لی جائے واپسی میں اسی کا مثل لوٹانا ضروری ہے،معاہدہ کے تحت کمی و زیادتی کرنے کی صورت میں سود لازم آئے گا جو ناجائز او رحرام ہے ۔
بصورت مسؤلہ اگر سلیم بھی نواز کی طرح شیر محمد کو ان 13000 روپوں کا سونا خریدکر قرض دیتا تب تو اس کو یہ حق حاصل ہوتا کہ وہ واپسی پر نواز سے ایک تولہ سونا یا اس کی موجودہ قیمت کا مطالبہ کرتا لیکن چونکہ سلیم نے شیر محمد کو 13000 روپے دئے تھے اس لئے واپسی کی صورت میں سلیم صرف اسی 13000 روپوں کا ہی حق دار تھا جو شیر محمد اس کو دے چکا ہےاس لئے سلیم کو ایک تولہ سونا یا اسکی موجودہ قیمت کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ورنہ یہ  سود  ہوگا۔
في بدائع والصنائع:
(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض، فأما إذا كانت غير مشروطة فيه ولكن المستقرض أعطاه أجودهما؛ فلا بأس بذلك؛ لأن الربا اسم لزيادة مشروطة في العقد، ولم توجد، بل هذا من باب حسن القضاء، وأنه أمر مندوب إليه قال النبي - عليه السلام -: «خيار الناس أحسنهم قضاء» .
(كتاب القرض، فصل في شرائط ركن القرض،1/18، دار الكتب العلمية)
و في العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية:
(سئل) في رجل استقرض من آخر مبلغا من الدراهم وتصرف بها ثم غلا سعرها فهل عليه رد مثلها؟(الجواب) : نعم ولا ينظر إلى غلاء الدراهم ورخصها كما صرح به في المنح في فصل القرض مستمدا من مجمع الفتاوى.
 (كتاب الوقف، باب القرض،1/279 ، دار المعرفة)
و في رد المحتار:
قوله ( كل قرض جر نفعا حرام ) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمام.
 (كتاب البيوع ، مطلب كل قرض جر نفعا حرام،5/166 ، دار الفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب