سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-155 Fatwa no: 1447-155

ایک ہی عورت کا دودھ پینے والے بچوں کا آپس میں نکاح کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
نصیبہ کا بیٹا عثمان اور لبنہ کا بیٹا حسیب اللہ ہے۔ان دونوں عورتوں نے آپس میں ایک دوسرے کے بیٹوں کو دودھ پلایا ہے اور ایک تیسری عورت جس کا نام زیب النساء ہے اور اس کی بیٹی کا نام اریبہ ہے ۔پھر نصیبہ نے اریبہ کو بھی دودھ پلایا ہے لیکن زیب النساء نے نصیبہ کے بیٹے عثمان کو دودھ نہیں پلایا ہے ۔اب مسئلہ یہ ہے کہ آیا لبنہ کے بیٹے حسیب اللہ کا نکاح اریبہ کے ساتھ جائز ہے یا نہیں کیونکہ اریبہ اور حسیب اللہ دونوں نے ایک ساتھ نصیبہ کا دودھ پیا ہے اور دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر اریبہ اور حسیب اللہ کا نکاح آپس میں جائز نہیں ہے تو آیا اریبہ کاحسیب اللہ کےچھوٹے بھائی شفیع اللہ کے ساتھ نکاح جائز ہے یا نہیں اور شفیع اللہ نے اپنی ماں کے علاوہ کسی بھی عورت کا دودھ نہیں پیا ہے؟

جواب :

بصورت مسولہ اگر حسیب اللہ اور اریبہ دونوں نے مدت رضاعت (ڈھائی سال)کے دوران نصیبہ کا دودھ پیا ہوں تو اس صورت میں یہ دونوں آپس میں رضاعی بہن بھائی ہیں اس لئے ان کا آپس میں نکاح شرعا ً جائز نہیں۔تاہم اریبہ کا حسیب اللہ کے چھوٹے بھائی شفیع اللہ کے ساتھ رضاعت کا رشتہ ثابت نہیں اس لئے ان دونوں کا آپس میں نکاح جائز ہے بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ ہو  ۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
ولو أرضعت امرأة صغيرين من أولاد الأجانب صارا أخوين لكونهما من أولاد المرضعة فلا يجوز المناكحة بينهما إذا كان أحدهما أنثى، والأصل في ذلك أن كل اثنين اجتمعا على ثدي واحد صارا أخوين أو أختين أو أخا وأختا من الرضاعة فلا يجوز لأحدهما أن يتزوج بالآخر ولا بولده كما في النسب  . . . .  الخ
(كتاب الرضاع ، فصل في المحرمات بالرضاع، 4/ 2، دار الفكر)
الفتاوى الهندية:
يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعا أو ولد لهذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعا فالكل إخوة الرضيع وأخواته وأولادهم أولاد إخوته وأخواته وأخو الرجل عمه وأخته عمته وأخو المرضعة خاله وأختها خالته وكذا في الجد والجدة.
(كتاب الرضاع ، 1/343 ، دار الفكر)
الدر المختار:
(ولا حل بين رضيعي امرأة) لكونهما أخوين وإن اختلف الزمن والأب (ولا) حل (بين الرضيعة 
وولد مرضعتها) أي التي أرضعتها (وولد ولدها) لأنه ولد الأخ . . . . .  الخ
تحته في الشامية:
(قوله لكونهما أخوين) أي شقيقين إن كان اللبن الذي شرباه منها لرجل واحد أو لأم إن لم يكن كذلك، وقد يكونان لأب كما إذا كان لرجل امرأتان وولدتا منه فأرضعت كل واحدة صغيرا فإن الصغيرين أخوان لأب، حتى لو كان أحدهما أنثى لا يحل النكاح بينهما كما ذكره مسكين ح.
(قوله وإن اختلف الزمن) كأن أرضعت الولد الثاني بعد الأول بعشرين سنة مثلا وكان كل منهما في مدة الرضاع (قوله وولد مرضعتها) أي من النسب، أما الذي من الرضاع فإنه وإن كان كذلك لكنه فهم حكمه من قوله ولا حل بين رضيعي امرأة ح وأطلقه فأفاد التحريم وإن لم ترضع ولدها النسبي بخلاف ما إذا كان الولدان أجنبيين فإنه لا بد من ارتضاعهما من امرأة واحدة كما أفادته الجملة الأولى ولهذا لم يستغن بها عن هذه الجملة، وما في البحر والمنح رده في النهر، وشمل أيضا ما لو ولدته قبل إرضاعها للرضيعة أو بعده ولو بسنين.
(كتاب النكاح ،باب الرضاع ،  3/ 217 ، دار الفكر)

 

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب