نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہماری جامعہ مسجد واقع سیکٹر ایف سیون اسلام آباد جو محکمہ اوقاف کی مسجد ہے اور اسی پلاٹ پر ایک مدرسہ بھی بنا ہوا ہے جو وفاق المدارس کے ساتھ ملحق ہے اور سرکار میں رجسٹرڈ بھی ہے البتہ اتنی بات ہے کہ اوقاف کی طرف سے نقشے میں چھوٹا سا مدرسہ دیا گیا تھا جبکہ خطیبِ مسجد نے اپنی صوابدید پر تھوڑا سا بڑا مدرسہ بنایا لیکن تھا وہ عارضی ہی ۔اس کے علاوہ چونکہ مسجد کا پلاٹ بڑا تھا اور مسجد اور امام و مؤذن کے گھر اور مدرسہ کی تعمیر کے بعد بھی اس پلاٹ میں کچھ جگہ خالی تھی اس لئے تقریبا 2002 میں اس وقت کے خطیبِ مسجد نے عارضی طور پر ایک کینٹین اور مؤذن نے ایک کھوکا بنایا تھا۔پھر 2008 میں اوقاف کی طرف سے ایک نئے خطیب کی تقرری ہوئی اور 2013 میں ریٹائرڈ خطیب نے جو کہ مدرسے کا مہتمم بھی تھا مدرسہ سے شعبہ کتب (درس نظامی) کو حالات خراب ہونے کی وجہ سے ختم کر کے صرف شعبہ حفظ کی ایک ہی کلاس باقی رکھی ،پھر 2014 میں اوقاف کی طرف سے موجودہ خطیب نے ریٹائرڈ خطیب کی رضامندی سے ان کو کچھ رقم دے کر مذکورہ کینٹین ان سے لے لی اور مؤذن کی رضامندی سے کچھ رقم دیکرکھوکا بھی لے لیا ۔اس کے بعد موجودہ خطیب نے وہ عارضی کھوکا اور کینٹین پرانی جگہ سے ختم کر کے مذکورہ پلاٹ کے ایک دوسرے کونے میں عارضی طور پر بنا دیے ۔اوقاف اور محکمہ سی ڈی اے ان کینٹینوں اور کھوکے وغیرہ کی باقاعدہ اجازت تو نہیں دیتی لیکن عارضی طور پر جب تک یہ چیزیں چلتی ہیں تب تک چلائی جاتی ہیں، ہاں محکمے کے علم میں یہ چیزیں ہوتی ہیں۔ چونکہ عام طور پر اسلام آباد میں باقی جگہوں پر بھی بنائے ہوئے کھو کے وغیرہ خطباء حضرات کے اختیار میں ہوتے ہیں اس لئے مذکورہ کینٹین اور کھوکے کا کرایہ موجودہ خطیب بوجہ معاشی ضروریات کے خود خرچ کر تا رہا۔اس کے بعد پھر 2015 میں ریٹائرڈ خطیب جب فوت ہو گئے اور مدرسہ بھی مکمل طور پر ختم ہوا یعنی شعبہ حفظ بھی ختم ہوا۔اس کے بعد 2020 میں موجودہ خطیب نے شبہ حفظ کا مدرسہ دوبارہ شروع کر دیا۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ مذکورہ کھوکا اور کینٹین کا کرایہ موجود ہ خطیب بوجہ مجبوری اپنی ذاتی ضروریات وغیرہ میں خرچ کر سکتا ہے یا نہیں ؟اس کے بارے میں شرعی حکم سے آگاہ کریں۔
وقف زمین کو واقف(چاہے شخص ہو یا کوئی ادارہ)نے جس مقصد کیلئے وقف کیا ہو اس مقصد کے علاوہ کسی اور کام میں اس زمین کو استعمال کرنا جائز نہیں۔
بصورت مسؤلہ چونکہ مذکورہ زمین اوقاف کی طرف سے مسجد اور مدرسہ کیلئے وقف کی گئی ہے اس لئے اصولی طور پر تو اس میں کینٹین اور کھوکا وغیرہ بنانا جائز نہیں ،تاہم مصالحِ مسجد یا مدرسہ کیلئے یعنی اگر مسجد اور مدرسہ کے اخراجات کا مکمل انتظام اوقاف نہ کرتی ہو اورلوگوں کی طرف سے بھی کوئی تعاون نہ ہوتو پھر اس میں کینٹین اور کھوکا بنانے کی گنجائش ہے لیکن اس صورت میں بھی ان سے حاصل ہونے والا کرایہ امام و خطیب کیلئے اپنی ذاتی ضروریات میں خرچ کرنا جائز نہیں بلکہ وہ کرایہ مذکورہ مسجد اور مدرسہ کے اخراجات میں استعمال کرنا لازم ہے ،البتہ مصالح مسجد یا مدرسہ کیلئے کینٹین وغیرہ بنانے کی صورت میں اس بات کی گنجائش ہے کہ امام یا خطیب اس کا معقول کرایہ(جتنا کرایہ اس جگہ میں کینٹین اور کھوکے کا ہوتا ہے) مقرر کرکے اس کو خود یا کسی ملازم کے ذریعے چلائے اوراس کا کرایہ مسجد و مدرسہ کی ضروریات میں صرف کریں جبکہ باقی نفع اپنے لئے استعمال کریں ۔نیز مسؤلہ صورت میں اگرامام نے کینٹین اور کھوکا محض اپنی معاشی ضرورت کیلئے نہیں بلکہ مصالح مسجد و مدرسہ کیلئے بنائے ہوں تو چونکہ اس نے یہ تعمیر اپنے میسے سے کی ہے اس لئے وہ کرایہ میں سے اپنا تعمیری خرچ بھی وصول کرسکتا ہے ۔
في الدر المختار:
’’ولا يجوز أخذ الأجرة منه ولا أن يجعل شيئا منه مستغلا ولا سكنى‘‘.
(كتاب الوقف ، 4 /358 ، دار الفكر)
في الهندية:
وإن كانت أرض الوقف سبخة لا ينتفع بها كذا في فتاوى قاضي خان وقد اختلف كلام قاضي خان ففي موضع جوزه للقاضي بلا شرط الواقف حيث رأى المصلحة فيه، وفي موضع منعه منه ولو صارت الأرض بحال لا ينتفع بها. . . . الخ
(كتاب الوقف ، الباب الرابع،2 /401 ، دار الفكر)
و فيه ايضا:
ولا يجوز تغيير الوقف عن هيئته فلا يجعل الدار بستانا ولا الخان حماما ولا الرباط دكانا إلا إذا جعل الواقف إلى الناظر ما يرى فيه مصلحة الوقف كذا في السراج الوهاج.
(كتاب الوقف ، الباب الرابع ،2/ 490 ، دار الفكر)
و فيه ايضا:
البقعة الموقوفة على جهة إذا بنى رجل فيها بناء ووقفها على تلك الجهة يجوز بلا خلاف تبعاً لها، فإن وقفها على جهة أخرى اختلفوا في جوازه، والأصحّ أنه لا يجوز كذا في الغياثية .
(كتاب الوقف ، الباب الثاني ،2/ 362 ، دار الفكر)
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔