نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہمارے والدین کو فوت ہوئے تقریبا چھ سات سال ہو گئے ہیں ہمارے والد صاحب پرائیویٹ ملازمت کرتے تھے اور 1980 میں ریٹائرڈ ہو گئے تھے اور یہ گھر جس میں ہم اب رہ رہے ہیں اس کی تعمیر 1988 میں شروع ہوئی اور 1992 میں تکمیل ہوئی اور یہ گھرجس زمین پر تعمیر کیا گیا وہ زمین میرے والد صاحب نے پہلے ہی خرید رکھی تھی اور اس کے علاوہ والد صاحب نے پانچ مرلے کا ایک گھربھی بنایا ہوا تھا جو کہ بعد میں انہوں نے اس گھر کی تعمیر کے دوران بیچ دیا تھا۔
ہم چار بھائی اور چار بہنیں ہیں جب گھر کی تعمیر شروع ہوئی تو صرف میں اور دوسرے نمبر والا بھائی ملازمت کرتے تھے اور باقی بہن بھائی چھوٹے تھے ہم دونوں بڑے بھائیوں نے نہ صرف اس گھر کی تعمیر میں رقم لگائی بلکہ اس گھر کی تعمیر میں ہم نے دن رات محنت کی۔
ہمارا جو سب سے چھوٹا بھائی ہے اس نے 2024 میں اپنا گھر بنا لیا اور ادھر شفٹ ہو گیا باقی تین بھائی اب ہم اسی گھر میں رہائش پذیر ہیں اور بہنیں سب شادی شدہ ہیں۔
ہماری ایک بہن جو کہ ٹیچر ہے والدین کی زندگی میں بھی سب سے زیادہ اصرار کرتی تھی کہ گھر کے حصے کر دیں مگر انہوں نے نہیں کیے کیونکہ اس گھر کو بنانے میں اگر والد صاحب نے دو حصے رقم لگائی تو ایک حصہ ہم دونوں بھائیوں کا بھی اس گھر کی تعمیر میں لگا ہوا ہے اور اب یہی بہن فرماتی ہیں کہ ایک دن فجر کے بعد انہوں نے خواب دیکھا کہ وہ واش روم جانے لگتی ہے تو پیچھے سے آواز آتی ہے کہ حصے کر دو میں مڑ کر دیکھتی ہوں تو والد صاحب کفن میں ہوتے ہیں مجھے واش روم زور سے آیا ہوتا ہے تو میں واش روم چلی جاتی ہوں اور جب واپس آتی ہوں تو وہ دوبارہ اپنی بات دہراتے ہیں کہ حصے کر دو۔
میری بہن اس خواب کا ذکر تین مختلف علماء سے کر چکی ہیں تو وہ فرماتے ہیں کہ وراثت میں جو گھر ہیں اس کے حصے کر دیں مگر میرے خیال میں کہ وہ علماء کے علم میں شاید یہ بات نہیں لاتی کہ یہ گھر والد صاحب اور بھائیوں کی مشترکہ جائیداد ہے۔
ہم دونوں بھائیوں کی رقم سے اور والد صاحب کی رقم سے اس گھر میں دو مکمل پورشن اور تیسرا آدھا پورشن بنا تھا جو کہ بڑے بھائی نے پیسے خرچ کر کے بعد میں اس کو بھی مکمل کر لیا بلکہ چھت پر بھی ایک کمرہ بنایا اور 1988 سے لے کر اب تک ہم بھائی اس گھر میں خرچ کر رہے ہیں مگر ہمیں یہ بھی ٹھیک سے یاد نہیں کہ ہم اس گھر پر کتنا پیسہ لگا چکے ہیں۔
شروع میں والد صاحب نے ایک پورشن 10 سے 12 سال کرائے پر بھی دے رکھا تھا اور بعد میں دوسرے نمبر والا بھائی اس پورشن میں شفٹ ہوا تو تب بھی اس نے اس پر کافی خرچ کیا کیونکہ کرایہ داروں نے اس کا حشر کر دیا تھا۔
اب اس سلسلے میں ہمارے کچھ سوال ہیں شریعت کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔
(1) جو خواب ہماری بہن بیان کرتی ہے اس کا تعلق اس گھر کے حصوں سے بنتا ہے کہ نہیں۔
(2) جورقم ہم نے اس گھر کی تعمیر میں خرچ کی ہے جس کی یقینی مقدار ہم کو یاد نہیں اس کا کیا حل ہے وہ رقم ہم کیسے نکال سکتے ہیں۔
(3) ہم نے بہنوں کی شادیوں پر بھی خرچ کیا اس کا کیا حل ہے۔
(4) ہمارا تیسرے نمبر والا بھائی گھر کی تعمیر کے وقت چھوٹا تھا اور کام سیکھتا تھا اب وہ بھی کلیم کرتا ہے کہ میں نے بھی اس گھر کی تعمیر میں خرچ کیا ہے جس کا ہم بڑے بھائیوں کو کوئی علم نہیں اس کا کیا حل ہے۔
نوٹ: اس وقت جو ہم تین بھائی اس گھر میں رہائش پذیر یں ہم میں سے کوئی بھی فی الوقت باقی بہن بھائیوں کے حصے کی ادائیگی نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس پوزیشن میں ہیں کہ گھر کو بیچ دے اس صورت میں ہم کیا ہم کو کیا کرنا چاہیے؟
تنقیح:سائل سے فون کے ذریعےپوچھنے پر پتہ چلا کہ مذکورہ گھر کی تعمیر اور بہنوں کی شادیوں میں دونوں بھائیوں نے جو رقم خرچ کی اس میں کچھ رقم تو انہوں نے نقد کی صورت میں والدین کو دی کہ وہ گھر پر اور بہنوں کی شادی میں خرچ کریں اور کچھ پیسے انہوں نے خود براہ راست خرچ کئے یعنی گھر میں جو پیسے لگائے اس سے خود تعمیراتی سامان وغیرہ لایا اسی طرح بہنوں کیلئے خود سامان وغیرہ لیا لیکن یہ یاد نہیں کہ کتنے پیسےوالدین کو دئے اور کتنے خود لگائے اور دونوں قسم کے پیسوں کے بارے میں انہوں نے اس وقت کوئی بات نہیں کی کہ یہ پیسہ ہم بطور قرض دے رہے ہیں یا ایسے ہی دے رہے ہیں بلکہ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے نیک نیتی سے والدین کو سپورٹ کرنے کیلئے یہ پیسہ لگایا تھا کیونکہ ہمیں کبھی خیال بھی نہیں تھا کہ ہم آخر میں جدا ہوں گے۔
بصورت مسؤلہ؛
(1) مذکورہ خواب میں اگرچہ وراثت کی تقسیم کی طرف اشارہ ہے لیکن اس خواب کے بغیر بھی اسلامی تعلیمات کے مطابق مورث کے فوت ہوتے ہی اس کے شرعی ورثاء اس کی چھوڑی ہوئی میراث کے حق دار ہوتے ہیں جس کو جلد سے جلدتقسیم کر کے ہر وارث کو اس کا حصہ دینا چاہیے خصوصا ً جب ورثاء تقسیم کا مطالبہ کریں اس لئے آپ لوگ بھی جتنا جلد ممکن ہو تقسیم کر کے تمام ورثاء کو اس کا حصہ حوالہ کریں۔لہذا اگر آپ بھائیوں کیلئے یہ گھر بیچ کر اپنے لئےدوسرے گھر کا انتظام کرنا مشکل ہو جیسا کہ سوال سے واضح ہے تو اس کیلئے یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے کہ آپ تینوں بھائی اسی گھر میں رہیں اور اس گھر میں سے بہنوں اور چھوٹے بھائی کا حصہ ان کی رضامندی سے ان سے خرید لیں اور قیمت کی ادائیگی میں ان سے مہلت لے لیں اگر وہ اس پر راضی ہوں تو ٹھیک ہے ان کو پیسے آنے پر ادائیگی کریں لیکن اگر وہ اس پر راضی نہ ہوں تو اس صورت میں یہ گھر بیچ کر ان کو اپنا اپنا حصہ دے دیں اور اپنے لئے کرایہ کے گھر کا بندوبست کریں۔
(2) چونکہ آپ لوگوں نے اس وقت والد صاحب کو سپورٹ کرنے کیلئے گھر کی تعمیر میں پیسہ لگایا تھا اور قرض وغیرہ کی کوئی تصریح نہیں کی تھی اس لئے آپ کا لگایا ہوا پیسہ آپ کی طرف سے والد صاحب کیلئے ہدیہ تھا جس کا اب آپ لوگ مطالبہ نہیں کرسکتے۔
(3) چونکہ بہنوں کی شادیوں میں اپنا پیسہ لگاتے ہوئے ان سے واپسی کی بات نہیں ہوئی تھی اس لئے وہ پیسہ آپ کی طرف سے تبرع و احسان تھا جس کی واپسی کا اب مطالبہ کرنا درست نہیں۔
(4) اگر آپ کے چھوٹے بھائی کے پاس اس بات پر کوئی گواہ ہو کہ اس نے گھر کی تعمیر میں اپنا پیسہ لگایا ہے اور یہ صراحت کی تھی کہ میں اپنا پیسہ قرض کے طور پر لگا رہا ہوں اور بعد میں واپس لوں گا پھر تو اس کو اپنے شرعی حصے کے علاوہ اپنے دعوی کے بقدر رقم بھی دی جائے گی بصورت دیگر وہ صرف اپنے شرعی حصہ میراث کا مستحق ہوگا۔
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام
"أما إذا بنى للشركة بدون إذن شريكه فيكون البناء مشتركا والباني متبرعا بمصرفه على البناء وليس له الرجوع على شريكه بحصته من المصرف."
(الكتاب العاشر،الباب الاول،الفصل الثامن ،المادة 1173: 3/ 181، دار الحيل)
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية:
دفع إلى ابنه مالًا فأراد أخذه صدق أنه دفعه قرضًا؛ لأنه مملك. دفع إليه دراهم فقال له: أنفقها ففعل فهو قرض، كما لو قال: اصرفها إلى حوائجك، ولو دفع إليه ثوبا وقال: اكتس به ففعل يكون هبة ؛ لأن قرض الثوب باطل، لسان الحكام في هبة المريض وغيره.
(كتاب الدعوى ، 2/ 19 ، دار المعرفة)
رد المحتار:
دفع دراهم إلى رجل وقال: أنفقها ففعل فهو قرض، ولو دفع إليه ثوبًا وقال ألبسه نفسك فهو هبة. والفرق مع أنه تمليك فيهما أن التمليك قد يكون بعوض، وهو أدنى من تمليك المنفعة، وقد أمكن في الأول؛ لأن قرض الدراهم يجوز، بخلاف الثانية، ولوالجية.
(كتاب الهبة ، فصل في مسائل متفرقة، 5/ 710 ، دار الفكر)
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر:
ومن عمر دار زوجته بماله أي بمال الزوج بإذنها أي بإذن الزوجة فالعمارة تكون لها أي للزوجة؛ لأن الملك لها وقد صح أمرها بذلك، والنفقة التي صرفها الزوج على العمارة دين له، أي للزوج عليها أي على الزوجة؛ لأنه غير متطوع، فيرجع عليها لصحة الأمر، فصار كالمأمور بقضاء الدين. وإن عمرها أي الدار لها أي للزوجة بلا إذنها أي الزوجة فالعمارة لها أي للزوجة، وهو أي الزوج في العمارة متبرع في الإنفاق، فلا يكون له الرجوع عليها به.
(كتاب الخنثى ، مسائل شتى ،2/ 743 ، دار إحياء التراث العربي)
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔