سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-158 Fatwa no: 1447-158

بارش اور ٹب ویل دونوں کے پانی سے سیراب شدہ زمین کی فصل میں عشر کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
اس سال گرمی شدید تھی ،اب تک بارشیں بھی کم تھی جس کی وجہ سے نہر خشک تھا اور ٹیوب ویل میں پانی بعض جگہوں پر بہت کم ہوچکا تھا۔ہم نے 7، 6 دفعہ آب پاشی ٹیوب ویل سے  کی۔گرمی کے شروعات میں کچھ بارشیں ہوئیں اور کچھ اب بھی ہوچکی ہیں لیکن اب یہ کیسے معلوم کریں گے کہ ہمارے فصل میں ہم عشر ادا کریں گے یا نصف عشر ؟کیا اس کے لئے کوئی ضابطہ ہے یا پھر عدد شمار کریں گے کہ کتنی مرتبہ بارش ہوئی اور کتنی مرتبہ ٹیوب ویل لگا کر پانی دیا گیا ہے؟دوسری بات یہ بھی ہے کہ کبھی 3، 2 روز  مسلسل بارش ہوتی ہے  اور کبھی ہر دوسرے یا تیسرے دن حالانکہ فصل کو آب پاشی کی ضرورت تقریبا ً دس دن بعد ہوتی ہے تو کیا یہ 3 ، 2  دن کی مسلسل بارش  ایک عدد شمار کریں گے یا کئی عدد؟

جواب :

جو زمین بارانی ہو یعنی عموما ً بارش کے پانی سے سیراب ہوتی ہو اس زمین کی مجموعی پیداوار میں عشر (پیداوار کا دسواں حصہ)واجب  ہوتا ہے اور اس کے برعکس وہ زمین جو عموما ً نہر ، ٹیوب ویل  یا تالاب کے پانی سے سیراب ہوتی  ہو اس میں نصف عشر(پیداوار کا بیسواں حصہ )واجب ہوتا ہے جبکہ وہ زمین جو بارانی بھی ہو  اور ٹیوب ویل یا نہر وغیرہ کے پانی سے بھی سیراب ہوتی ہو تو اس صورت میں  تناسب کا اعتبار کیا جائے گا یعنی اگر وہ زمین بارش کے پانی سے زیادہ سیراب ہوئی ہو تو اس میں عشر واجب ہوگا اور اگر ٹیوب ویل یا نہر کے پانی سے زیادہ سیراب ہوئی ہو تو اس میں نصف عشر واجب ہوگا لیکن اگر دونوں کا تناسب بھی برابر ہو تو اس صورت میں فقہاء ِ کرام نصف عشر کے وجوب کے قائل ہیں۔
بصورت مسؤلہ چونکہ  مذکورہ زمین بارش اور ٹیوب ویل دونوں کے پانی  سے  سیراب ہوئی ہے اس لئے  بارش اور ٹیوب ویل کے پانی میں سے جس کا تناسب زیادہ ہو اسی کے مطابق عمل کیا جائےگا ،یعنی اگر بارش کے پانی کا تناسب زیادہ ہوتو مجموعی پیداوار کا عشر ادا کرنا لازم ہوگا اور اگر ٹیوب ویل کے پانی کا تناسب زیادہ ہو یا دونوں کا تناسب برابر ہوتو نصف عشر ادا کیا جائےگااور مذکورہ فصل کو اگرچہ دس دنوں بعد پانی کی ضرورت ہوتی ہے لیکن چونکہ ہر مرتبہ کی بارش کا فصل کی بڑھوتری میں کچھ نہ کچھ دخل ضرور ہوتا ہے اس لئے ہر مرتبہ کی بارش  ایک الگ عدد شمار ہوگی۔
في الدر المختار وحاشية ابن عابدين:
(و) يجب (نصفه في مسقي غرب) أي دلو كبير (ودالية) أي دولاب لكثرة المؤنة وفي كتب الشافعية أو سقاه بماء اشتراه وقواعدنا لا تأباه ولو سقى سيحا وبآلة اعتبر الغالب
     ولو استويا فنصفه وقيل ثلاثة أرباعه (بلا رفع مؤن) أي كلف (الزرع) وبلا إخراج البذر
(قوله: ولو استويا فنصفه) كذا في القهستاني عن الاختيار؛ لأنه وقع الشك في الزيادة على النصف فلا تجب الزيادة بالشك (قوله وقيل ثلاثة أرباعه) قال في الغاية قال به الأئمة الثلاثة فيؤخذ نصف كل واحد من الوظيفتين ولا نعلم فيه خلافا اهـ أي؛ لأن نصفه مسقي سيح ونصفه مسقي غرب، فيجب نصف العشر ونصف نصفه ورجح الزيلعي الأول قياسا على السائمة إذا علفها نصف الحول فإنه تردد بين الوجوب وعدمه فلا يجب بالشك قال في اليعقوبية وفيه كلام وهو أن الفرق بينهما ظاهر؛ لأن في الأصل أي المقيس عليه سبب الوجوب ليس بثابت يقينا وهنا سببه ثابت يقينا والشك في نقصان الواجب وزيادته باعتبار كثرة المؤنة وقلتها، فاعتبر الشبهان شبه القليل وشبه الكثير فليتأمل. اهـ.
قلت: فيه نظر؛ لأن سبب الوجوب في السائمة موجود أيضا وهو ملك نصابها وإنما الشك في الإسامة وهو شرط الوجوب لا سببه كما مر أول كتاب الزكاة وهنا أيضا وقع الشك في شرط وجوب الزيادة على النصف مع تحقق سبب أصل الوجوب وهو الأرض النامية بالخارج تحقيقا فتدبر.
 (كتاب الزكوة،باب زكاة الركاز،2/ 328، دار الفكر)
و في الفتاوى الهندية :
وما سقي بالدولاب والدالية ففيه نصف العشر، وإن سقي سيحا وبدالية يعتبر أكثر السنة فإن استويا يجب نصف العشر كذا في خزانة المفتين.
(كتاب الزكوة،الباب السادس في زكاة الزرع والثمار ، 1/ 186، دار الفكر)
و في البحر الرائق شرح كنز الدقائق:
وإن سقي بعض السنة بآلة والبعض بغيرها فالمعتبر أكثرها كما مر في السائمة والعلوفة، وإن استويا يجب نصف العشر نظرا للفقراء كما في السائمة ـ
(كتاب الزكوة،باب زكوة العشر ، 2/ 256، دار دار الكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب