نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہمارے گاؤں میں زیادہ تر لوگ زمیندار ہیں ،بعض لوگ اپنی زمینیں خود ہی کاشت کرتے ہیں جبکہ بعض لوگ کاشتکاروں کو اپنی زمین دیتے ہیں تاکہ وہ اس کو کاشت کریں اور ان کے ساتھ وہ پیداوار کی ایک مقدار مقرر کرلیتے ہیں کہ آپ پیداوار میں اتنا حصہ میرا ہوگا اور اتنا آپ کا لیکن اس چیز کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا کہ اس طرح زمین دینے کی صورت میں زمین دار کے ذمہ کیا کیا چیزیں لگائی جاسکتی ہیں اور کاشتکار کے ذمہ کیا چیزیں لگائی جاسکتی ہیں بلکہ وہ خود آپس میں اپنی رضامندی سے جیسے طے کرلیں بس اسی طریقے پر کام چلاتے ہیں ۔اس لئے آپ حضرات سے درخواست ہے کہ اس حوالے سے ہماری رہنمائی فرمائیں کہ کاشتکار کو اس طرح زمین دیتے ہوئے زمیندار اور کاشتکار میں سے کس کے ذمہ کیا چیز لگائی جاسکتی ہے اور خاص کر اس بات کو بھی خاطر ملحوظ رکھیں کہ فصلوں کیلئے کھاد ، سپرے کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور بعض فصلوں پر پلاسٹک بھی چڑھانا ہوتا ہے تاکہ فصل اچھی ہو ،اسی طرح ٹماٹر یا بعض دوسری فصلوں کیلئے لکڑیاں بھی لگانے پڑتی ہے۔ اسی طرح ہمارے ہاں لوگ پھر یہ ترتیب بھی کرتے ہیں کہ پیداوار خود لیتے نہیں بلکہ زمیندار اور کاشتکار کی بات نصف یا ثلث پیداوار پر ہوجاتی ہے یعنی آدھی پیدار مالک کی اور آدھی کاشتکار کی یا ثلث مالک کی اور دو ثلث کاشتکار کی اور پھر فصل تیار ہونے کے بعد اپنا اپنا حصہ لینے کی بجائے خود اس کو منڈی بیچنے کیلئے لیجاتے ہیں اور فروخت ہونے پر جو پیسے ملتے ہیں وہ پیسے آپس میں تقسیم کردیتے ہیں اپنے طے شدہ مقدار کے مطابق یعنی نصف نصف یا ایک اور دو ثلث کے اعتبار سے ۔ تو اس صورت میں پھر پیداوار کو بیچنے کیلئے ان کو بوریوں یا کریٹوں میں ڈالنا ہوتا ہے تو بوریوں یا کریٹوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے ایسے ہی منڈی تک کا کرایہ یہ تمام چیزیں درکار ہوتی ہے تو ان چیزوں کے بارے میں بھی خاص طور پر آگاہ کریں کہ یہ سارے اخراجات کس کے ذمہ ہوں گے ؟
آپ نے سوال میں جو صورت ذکر کی ہے اس کو بٹائی پر زمین دینا کہتا ہے اور بٹائی پر زمین دینے کی درجہ ذیل تین جائز صورتیں ہیں؛
(1)زمین ایک آدمی کی ہو اور بیج ، ٹریکٹر اور محنت دوسرے کی ہو۔
(2)زمین، ٹریکٹر اور بیج ایک آدمی کی طرف سے ہو جبکہ صرف محنت دوسرے کی طرف سے ہو۔
(3)زمین اور بیج ایک آدمی کی طرف سے ہو جبکہ ٹریکٹر اور محنت دوسرے کی طرف سے ہو۔
مذکورہ بالا تین صورتوں کے علاوہ بٹائی کی جو بھی صورت اختیار کی جائے گی وہ ناجائز ہوگی اس لئے اس سے اجتناب ضروری ہے۔البتہ ان تین جائز صورتوں میں پھرمزید تفصیل یہ ہے کہ جس عمل و محنت کا تعلق فصل کے ساتھ اس کے پکنے کے زمانہ تک ہو، جیسے پانی دینا (سینچائی)، حفاظت کرنا، جڑی بوٹیاں نکالنا، اندرونی نالیاں کھودنا اور پانی کی نالیوں کو برابر کرنا وغیرہ تو یہ کاشتکار کے ذمہ ہوگا چاہے وہ خود کرے یا کسی کو مزدوری دیکر اس سے کروائے اور جن امور کا تعلق فصل کے پکنے کے زمانہ تک اس پر ہونے والے اخراجات کے ساتھ ہو جیسے دوا ، سپرے ، کھاد ،لکڑیاں اور پلاسٹک وغیرہ کا خرچہ ،یہ تمام اخراجات مالک زمین اور کاشتکار پر ان کے حصوں کے تناسب سے لازم ہوں گے۔اس قسم کے اخراجات صرف کاشتکار کے ذمہ ڈالنے سے عقد فاسد ہوجاتا ہے۔
نیز پیداوار کاٹنے کے بعد اپنا اپنا حصہ لینے کی بجائے اس پیداوار کومشترکہ طور پر بیچنے کی صورت میں بوریوں اور کریٹوں میں پیک کرنےکے اخراجات اور گاڑی کے پٹرول کے اخراجات مالک اور کاشتکار پر ان کے حصوں کے تناسب سے لازم ہوں گے۔
الهندية:
ثم المزارعة على قول من يجيز المزارعة على نوعين: أحدهما أن تكون الأرض لأحدهما والثاني أن تكون الأرض لهما فإن كانت الأرض لأحدهما فهو على وجهين: أحدهما أن يكون البذر من أحدهما، والثاني أن يكون البذر منهما فإن كانت الأرض لأحدهما والبذر من أحدهما فهو على ستة وجوه: ثلاثة منها جائزة وثلاثة منها فاسدة أما الثلاثة الأول: فأحدها أن تكون الأرض من أحدهما والبذر والبقر والعمل من الآخر . . . . . والثاني أن يكون العمل من أحدهما والباقي من الآخر فهو جائز . . . . .والثالث أن تكون الأرض والبذر من أحدهما والعمل والبقر من الآخر فذلك جائز . . . . . وأما الثلاثة الفاسدة فأحدها أن تكون الأرض والبقر من أحدهما والباقي من الآخر فذلك فاسد . . . . . والثاني أن يكون البذر من أحدهما والباقي من الآخر وذلك فاسد . . . . . والثالث أن يكون البذر والبقر من واحد والعمل والأرض من الآخر وإنه فاسد . . . .الخ
(كتاب المزارعة، الباب الثاني في بيان أنواع المزارعة،5/238، دار الفكر)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
منها) : أن كل ما كان من عمل المزارعة مما يحتاج إليه لإصلاحه فعلى المزارع؛ لأن العقد تناوله وقد بيناه. (ومنها) : أن كل ما كان من باب النفقة على الزرع من السرقين وقلع الحشاوة، ونحو ذلك فعليهما على قدر حقهما، وكذلك الحصاد والحمل إلى البيدر والدياس وتذريته؛ لما ذكرنا أن ذلك ليس من عمل المزارعة حتى يختص به المزارع.
(كتاب المزارعة ،فصل في بيان حكم المزارعة الصحيحة، 6/ 182 ، دار الكتب العلمية)
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔