سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-161 Fatwa no: 1447-161

بلا اجازت وارث كا حصہ فروخت کر کے اس کو رقم دینے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہماری باب دادا کی جائیداد کافی عرصے سے چلی آرہی تھی اور وہ ابھی تک تقسیم نہیں ہوئی تھی۔اس میں سے کچھ جائیداد میں نے بیچ دی لیکن چونکہ اس جائیداد میں میری پھوپھیاں  بھی شریک تھی اور ایک پھوپھی فوت ہوچکی ہے تو اب اس کی جگہ اس کی اولاد کا میرے ساتھ اس جائیداد میں حصہ بنتا ہے تو میں نے یہ سوچ کر کچھ جائیداد بیچ دی کہ جس جس کا میرے ساتھ اس جائیداد میں جتنا حصہ بنتا ہے  بیچنے کے بعد اتنی رقم میں ان کو دے دوں لیکن بیچنے کے بعد ایک دوست نے بتایا کہ ان ورثاء کا حصہ جو میں نے بیچ دیا یہ ان کی اجازت کے بغیر تھا اور اس طرح کرنے سے میں نے ان کا حق دبایا اور مجھے کسی بھی طرح اب یہ جائیداد واپس کر کے ان کو جائیداد ہی میں سے وہی حصہ دینا ہوگا جو ان کا تھا حالانکہ مین ان کو جائیداد بیچ کو ان کے حصے کے بقدر پیسے دے چکا ہوں جس کو انہوں نے لے بھی لیا ہے۔تو اب اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں کہ کیا واقعی یہ معاملہ درست نہیں ہوا اور مجھے ان کا حصہ خریدار سے واپس ان کو دلانا ہوگا؟

جواب :

مورث  اپنے بعد جو ترکہ (جائیداد )  چھوڑ جاتا ہے اس میں اس کے تمام شرعی ورثاءکا حق ہوتا ہے اور کسی انسان کو حق نہیں کہ وہ کسی دوسرے کی ملک  اس کی اجازت کے بغیر بیچے یا اس میں کسی بھی  قسم کا تصرف کرے۔البتہ بلااجازت بیچنے کی صورت میں بیع موقوف رہتی ہے اور پھر اگر مالک اجازت دے دے تو وہ بیع درست ہوجاتی ہے ورنہ مالک کو اس کا حق واپس دلانا ہوگا۔ بصورت مسؤلہ جب ورثاء نے اپنے حصے کی جائیداد کی رقم قبول کرلی تو یہ ان کی طرف سے اپنا حصہ بیچنے پر رضامندی اور اجازت ہے اس لئے مذکورہ معاملہ درست ہوچکا ہے اور اب ان کا حصہ جائیداد کی صورت میں ان کو دلانا ضروری نہیں ۔
و في شرح المجلة:
لايجوز لاحد ان يتصرف في ملك غيره بلا إذنه او وکالة منه او ولاية عليه، وإن فعل کان ضامنًا‘‘.
(مادة :96 ، 1/ 61 ، دار الکتب العلمیة، بیروت)
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام:
إلا أنه يشترط في إجازة صاحب المال، أو وكيله، أو وليه، أو وصيه، أربعة أشياء:
وجود البائع والمشتري والمجيز، وكون المبيع والثمن قائمين للإجازة، وقوع الإجازة قبل الفسخ، وفي الإجازة بشرط وجود ذلك الشرط وإذا كان الثمن من العروض وجوده فإذا هلك أحد الأربعة الأولى، أو لم يوجد شرط من البواقي فالإجازة غير جائزة.  . . . . . الخ
(الكتاب الأول البيوع ، الفصل الثاني ،1/ 405 ، دار الجيل)

فتح القدير:
ومنها شرط النفاذ وهو الملك والولاية، حتى إذا باع ملك غيره توقف النفاذ على الإجازة ممن له الولاية.
(كتاب البيوع ،6/ 248 ، دار الفكر)
فقه البيوع:
198- البيع الموقوف ما توقف نفاذه على إذن غير العاقد.
199- الفضولي من تصرف في حق الغير نيابة عنه بغير إذنه. وبيعه موقوف على إذن من له الإجازة. فإن باع فضولي مال غيره، فالبيع موقوف على إجازة المالك. فإن أجازه نفذ البيع من وقت العقد.
202۔ .....  الإجازة من قِبل المالك قد تكون قولا بما يدل على رضاه بالبيع، مثل قوله: "أجزت". وقد تكون فعلا، مثل أن يقبل الثمن أو بعضه، أو يهبه للمشتري. أما إن كان حاضرا وقت البيع وسكت، فالسكوت لا يعتبر إجازة.
(2/1196 ، معارف القرآن كرتشي)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب