نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
عمره كيلئے جانے والے حضرات سے بعض اوقات یہ غلطی ہوجاتی ہے کہ وہ بغیر احرام کے میقات سے گزر جاتے ہیں ۔مجھ سے بھی پہلی بار عمرہ کرتے ہوئے یہ غلطی ہوئی تھی اور پھر پوچھنے پر بتایا گیا کہ ایک دم اور ایک قضاءعمرہ مجھ پر لازم ہوچکا ہے لیکن ساتھ یہ بھی بتایا گیا کہ اگر میں دوبارہ میقات جاکر احرام کی حالت میں وہاں سے دوبارہ آؤں تو دم تو ساقط ہوجائے گا لیکن عمرہ کرنا پڑے گا۔اب اس حوالے سے دو چیزیں پوچھنی ہیں؛
(1) کتنے وقت کے اندر اندر اگر آدمی دوبارہ میقات چلا جائے تو دم ساقط ہوجاتا ہے؟ اسی وقت جانا ضروری ہے یا اس میں وقت کی کوئی قید نہیں ہے؟
(2) بغیر احرام کے میقات سے تجاوز کرنے کی وجہ سے جو دوبارہ میقات سے احرام کی حالت میں آکر عمرہ کرنا ہوتا ہے وہ قضاء ہی کی نیت سے کیا جائے گا یا نہیں مطلق نیت بھی کافی ہوگی؟برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔جزاکم اللہ خیرا ً
بصورت صحت سوال؛
(1) بغیر احرام کے میقات سے تجاوز کرنے کی وجہ سے لازم ہونے والا دم سال کے اندر اندر مطلق نیت سے عمرہ یا حج کرنے سے ساقط ہوجاتا ہے لیکن سال گزرنے کے بعد قضاء عمرہ کرنے سے ہی مذکورہ دم ساقط ہوگا۔
(2) سال کے اندر اندر مطلق نیت سے عمرہ کرنا کافی ہوجاتا ہے لیکن سال گزرنے کے بعد لازما ً قضاء کی نیت سے عمرہ کرنا ہوگا بصورت دیگر قضاء عمرہ اس کے ذمے باقی رہا گا۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
ولو جاوز ميقاتا من المواقيت الخمسة يريد الحج أو العمرة فجاوزه بغير إحرام ثم عاد قبل أن يحرم وأحرم من الميقات، وجاوزه محرما لا يجب عليه دم بالإجماع؛ لأنه لما عاد إلى الميقات قبل أن يحرم، وأحرم التحقت تلك المجاوزة بالعدم، وصار هذا ابتداء إحرام منه، ولو أحرم بعد ما جاوز الميقات قبل أن يعمل شيئا من أفعال الحج ثم عاد إلى الميقات، ولبى سقط عنه الدم، وإن لم يلب لا يسقط، وهذا قول أبي حنيفة، وقال أبو يوسف، ومحمد: يسقط لبى أو لم يلب.
(كتاب الحج ، فصل بيان مكان الإحرام ، 1/ 253، دار الكتب العلمية)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق:
(قوله: ومن دخل مكة بلا إحرام ثم حج عما عليه في عامة ذلك صح عن دخول مكة بلا إحرام، وإن تحولت السنة لا) ؛ لأنه تلافى المتروك في وقته؛ لأن الواجب عليه تعظيم هذه البقعة بالإحرام كما إذا أتاها بحجة الإسلام في الابتداء بخلاف ما إذا تحولت السنة؛ لأنه صار دينا في ذمته فلا يتأدى إلا بإحرام مقصود كما في الاعتكاف المنذور فإنه يتأدى بصوم رمضان من هذه السنة دون العام الثاني.
تحفة الفقهاء:
ثم الآفاقي إذا لزمه الحج أو العمرة بسبب مجاوزته الميقات في دخول مكة من غير إحرام فأحرم في تلك السنة لما وجب عليه بسبب المجاوزة أو لحجة الإسلام أو للحجة التي وجبت عليه بسبب النذر فإنه يسقط عنه ما وجب عليه بسبب المجاوزة . . . . . . . ولو تحولت السنة لا يسقط عنه إلا بتعيين النية بالإجماع لأنه صار دينا عليه فلا بد من تعيين النية.
(كتاب المناسك ،باب الإحرام ،1/ 397 ، دار الكتب العلمية)
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔