سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-163 Fatwa no: 1447-163

بھتیجوں کی موجودگی میں بھتیجیاں اور بھانجے وراثت سے محروم ہونگے

براہ راست فتویٰ
سوال :

ہماری ایک پھوپھو جن کا نام ہاجرہ ملک شناختی کارڈ نمبر 6-2153297-54400 ،عمر 79 سال میں مورخہ 3 جون 2025 کو وفات پاگئی ہیں ان کی کوئی  اولادنہیں تھی اور ان کے شوہر بھی 31سال قبل وفات پاگئے تھے جبکہ بہن بھائیوں میں سے بھی اب کوئی بھی زندہ نہیں ان کے وارثان میں دو بھتیجے دوبھتیجیاں اور ایک بھانجا رہ گیا ہے۔
ان کی چھوڑی ہوئی وراثت میں کوئٹہ  شہر میں ایک جائیداد ہے جو کہ انہیں اپنے والد کی طرف سے وراثت میں ملی تھی جو  ان کے نام ہاجرہ ملک پر منتقل ہوچکی تھی ۔شریعت کے مطابق ان کی چھوڑی ہوئی وراثتی  جائیداد میں  مندرجہ بالا رشتوں  میں سے کون کون وارث بن سکتا ہےاس مسئلہ پر برائے مہربانی شریعت کے مطابق فتوی درکار ہے۔

جواب :

بصورت مسؤلہ سب سے پہلےاگر ہاجرہ ملک  مرحومہ کے ذمے کوئی قرض ہو تو اس کو ترکہ(مذکورہ جائیداد سمیت مرحومہ کی تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیداد) سے ادا کیا جائیگا،اس کے بعد اگر مرحومہ  نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو مذکورہ ترکہ کے ایک تہائی میں نافذ کیا جائیگا،اس کے بعداگر سوال میں ذکر شدہ ورثاء کے علاوہ مرحومہ کا کوئی اور وارث نہ ہو تو  مرحومہ کا باقی ماندہ ترکہ  صرف اسکے دو بھتیجوں میں برابریعنی آدھا آدھا  تقسیم ہوگا جبکہ مرحومہ کے بھتیجیاں اور بھانجا مرحومہ کی وراثت سے محروم ہونگے۔
و في السراجي في الميراث:
ذو الرحم : هو كل قريب ليس نذي سهم و لا عصبة و كانت عامة الصحابة  يرون توريث ذوي الأرحام ، و به قال أصحابنا  . . . . . والصنف الثالث : ينتمي الى أبوي الميت ، و هم : أولاد الأخوات و بنات الإخوة و بنو الإخوة لأم. 
(باب ذوي الأرحام، ص  116 ، البشرى)
و في الدر المختار:
 قاله المصنف في شرحه قلت: وفي إطلاقه نظر ظاهر لتصريحهم بأن ابن الأخ لا يعصب أخته كالعم لا يعصب أخته وابن العم لا يعصب أخته وابن المعتق لا يعصب أخته بل المال للذكر دون الأنثى لأنها من ذوي الأرحام قال في الرحبية:. . . . وليس ابن الأخ بالمعصب من مثله أو فوقه في النسب.
 (كتاب الفرائض، فصل في العصبات،6/ 774 ، دار الفكر) 
و فيه ايضا:
وفي إطلاقه نظر ظاهر لتصريحهم بأن ابن الأخ لا يعصب أخته كالعم لا يعصب أخته وابن العم 
لا يعصب أخته وابن المعتق لا يعصب أخته بل المال للذكر دون الأنثى لأنها من ذوي الأرحام قال في الرحبية: وليس ابن الأخ بالمعصب من مثله أو فوقه في النسب . . . . الخ
(كتاب الفرائض، فصل في العصبات،6/ 784 ، دار الفكر)
و في الهندية:
 فأقرب العصبات الابن ثم ابن الابن وإن سفل ثم الأب ثم الجد أب الأب وإن علا، ثم الأخ لأب وأم، ثم الأخ لأب ثم ابن الأخ لأب وأم، ثم ابن الأخ لأب ثم العم لأب وأم ثم العم لأب ثم ابن العم لأب وأم،. . . . الخ
 (كتاب الفرائض، الباب الثالث في العصبات،6/ 774 ، دار الفكر)

 

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب