نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک وراثتی مسئلہ کے متعلق قرآن و سنت کی روشنی میں فتوی چاہیے۔میرے پردادا کلابند نے اللہ مینہ اور سالومہ کےساتھ شادی کی،اللہ مینہ کے بطن سے دو بیٹے گلات شاہ اور جلال بند اور تین بیٹیاں مینکا ، جدا اور گل مینہ پیدا ہوئیں جبکہ دوسری بیوی سالومہ سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔کلابند کی پہلی بیوی اللہ مینہ اور دو بیٹیاں ، مینکا اور جدا ، کلابند کی حیات ہی میں فوت ہوگئی تھیں اور 1932 میں جب کلابند بھی فوت ہوئے تو ان کے ورثاء میں ان کی دوسری بیوی سالومہ، دو بیٹے گلات شاہ ، جلال بند اور ایک بیٹی گل مینہ باقی تھے ۔1932 سے لیکر 1980 تک کلابند کی وراثت ان کے ورثاء میں تقسیم نہ ہوسکی ،اسی دوران ان کی بیوی سالومہ ، بیٹے گلات شاہ اور بیٹی گل مینہ کا بھی انتقال ہوگیا۔
پھر 1980 میں کلابند کی وراثت تقسیم ہوئی،تقسیم وراثت کے وقت کلابند کی اولاد میں سے صرف ایک بیٹا جلال بندزندہ تھا اور اس وقت اس کی اولاد میں تین بیٹے اور ایک بیٹی تھی اور یہ سب ابھی تک زندہ ہیں جبکہ کلابند کے باقی ورثاء سالومہ (بیوی) ، گلات شاہ( بیٹا) اور گل مینہ (بیٹی) فوت ہوچکے تھے۔ گلات شاہ اور گل مینہ کی اولاد موجود ہیں جبکہ سالومہ کی نہ اولادتھی اور نہ والدین ،البتہ سالومہ کے بہن بھائی موجود ہیں۔ وراثت میں 30 کنال زمین ہے لیکن جلال بند نے تمام بہن بھائیوں اور سالومہ( سوتیلی والدہ) کا حصہ اپنے نام لکھوا لیاہے،باقی ورثاءکو محروم کردیا۔ شریعت کی روشنی میں ورثاء کا حصہ ان میں کیسے تقسیم کیا جائے گا؟جلال بند چند سال پہلے فوت ہوچکا ہے اور اس کے بیٹے اور بیٹیاں موجود ہیں اور مذکورہ تمام زمین انہیں کے قبضہ میں ہے ۔ جلال بند کا باقی ورثاء کو محروم کرنے کا کیا حکم ہے اور چونکہ اب تو وہ زندہ نہیں تو اب اس کی اولاد کیلئے کیا حکم ہوگا؟
شریعتِ مطہرہ کی تعلیمات کے مطابق جو وارث مورث کی زندگی میں فوت ہوجائے اس کا حصہ مورث کی جائیداد میں سے ساقط ہوجاتا ہے لہذا اس کی اولاد کو اپنے والد یا والدہ کے حصہ کا مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہوتا اور چونکہ شریعت نے وراثت میں ہر وراث کا حصہ مقرر کیا ہے اس لئے کسی وارث کیلئے جائز نہیں کہ وہ دوسرے وارث کے حصہ کو روکھے اور اس میں بغیر اجازت کے کوئی تصرف کرے ،قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے کسی کا مال ناجائز طریقے سے لینے کے بارے میں منع فرمایا ہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے؛ وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (البقرة: 188) ترجمہ: "اور آپس میں ایک دوسرے کے مال نا حق مت کھاؤ"۔ ایسے ہی احادیث مبارکہ میں بھی دوسرے مسلمان کا مال دبانے کے بارے میں ممانعت آئی ہے جیسا کہ رسول اللہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد مبارک ہے ؛
"مَن أَخَذَ شبراً مِن الأرْضِ ظُلماً؛ فإنَّه يُطَوَّقُهُ يومَ القيامَةِ مِن سَبْعِ أرضينَ".( بخاری ومسلم)
ترجمہ: جو شخص کسی کی بالشت بھر زمین بھی ازراہِ ظلم لے گا قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی زمین اس کے گلے میں بطورِ طوق ڈالی جائے گی۔
ناحق مال لينے والوں كے متعلق رسول الله کا ایک اور فرمان ہے؛
إِنَّهُ لَا يَقْتَطِعُ رَجُلٌ مَالًا إِلَّا لَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ أَجْذَمُ . (المعجم الكبير)
ترجمہ: جو شخص پرایا مال لے لے گا وہ قیامت کے دن اللہ پاک سے کوڑھی (یعنی برص کا مریض) ہو کر ملے گا۔
ایسے ہی ایک دوسری جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد مبارک ہے؛
" لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه " (السنن الكبرى للبيهقي)
ترجمہ: کسی شخص کا مال دوسرے كيلئے حلال نہیں مگر اس کی خوش دلی سے۔
بصورت مسؤلہ چونکہ کلابند کے فوت ہونے کے وقت اس کی دوسری بیوی سالومہ اور اس کی اولاد میں سے دو بیٹے گلات شاہ اور جلال بند اور ایک بیٹی گل مینہ زندہ تھے اس لئے یہی ان کے ورثاء تھے اور ان ورثاء میں کلا بند کا ترکہ (30 کنال زمین) شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم کرنے کا طریقہ یہ تھا کہ کل ترکہ (30 کنال زمین) کے چالیس حصے بنائے جاتے جس میں سے کلا بند کی بیوہ سالومہ کو پونے چار کنال زمین (آٹھواں حصہ) دی جاتی اور باقی ماندہ ترکہ میں سے جلال بند اور گلات شاہ میں سے ہر ایک کو ساڑھے دس کنال زمین(چالیس حصوں میں سے ہر ایک کو چودہ حصے ) جبکہ گلابند کی بیٹی گل مینہ کو پانچ کنال اورپانچ مرلے زمین(چالیس حصوں میں سے سات حصے ) دی جاتی۔
جلال بند سمیت مذکورہ تمام ورثاء کلابند کے ترکہ (30 کنال زمین) میں صرف اپنے اپنے حصہ کے بقدر حقدار تھے ،کسی وارث کو دوسرے کا حصہ روکنے اور اس کو استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں تھا لیکن جلال بند نے جو باقی ورثاء کو محروم کر کے ان کے حصوں پر قبضہ کیا یہ اس نے صریح ناجائز کام کیا تھا اور اس نے اپنی زندگی کے آخر تک ان ورثاء کے حصوں سے جتنا فائدہ اٹھایا ہے وہ اس نے حرام کا ارتکاب کیا ہے جس کا اس کو آخرت میں جواب دینا ہوگا اور اب اس کی اولاد جب تک مذکورہ ورثاء کے حصوں سے فائدہ اٹھائے گی وہ حرام میں ملوث رہے گی اس لئے جلال بند کی اولاد کو چاہیے کہ مزید اپنی آخرت خراب نہ کریں اور اپنے والد کا حصہ(ساڑھے دس کنال زمین) اپنے پاس رکھ کر باقی ورثاء کا حصہ مذکورہ بالا ترتیب کے مطابق ان کی اولاد کو واپس کرے ۔
سالومہ کے ورثاء میں صرف ان کے بہن بھائی موجود ہیں اس لئے سالومہ کا حصہ(ساڑھے چار کنال زمین) ان کے بہن بھائیوں میں ان کے شرعی حصوں کے بقدر تقسیم ہوگا۔
نوٹ :جلال بند ، گلات شاہ کی اور سالومہ کےورثاء کی مکمل تفصیل چونکہ سوال میں ذکر نہیں اس لئے مزید اگر ان کے ورثاء میں تقسیم کی شرعی ترتیب معلوم کرنی ہو تو اس کے ان کے ورثاء کی مکمل تفصیل لکھ کر الگ سے سوال بھیجیں۔
قال تبارك و تعالى:
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ (النساء: 11)
في السنن الكبرى للبيهقي:
عن عبد الله بن السائب بن يزيد، عن أبيه، عن جده، أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: " لا يأخذ أحدكم متاع أخيه لاعبا أو جادا، وإذا أخذ أحدكم عصا أخيه فليردها إليه "
(كتاب الغصب ،6/ 154، دار الكتب العلمية)
و في البحر الرائق شرح كنز الدقائق:
قال رحمه الله: (وعصبهما الابن وله مثل حظهما) معناه إذا اختلط البنون والبنات عصب البنات فيكون للابن مثل حظهما فصار للبنات ثلاثة أحوال: النصف للواحدة، والثلثان للاثنين فصاعدا، والتعصيب عند الاختلاط بالذكور.
(كتاب الفرائض، أنواع الحجب ،8/ 563 ، دار الكتاب الإسلامي)
و في شرح المجلة:
لايجوز لاحد ان يتصرف في ملك غيره بلا إذنه او وکالة منه او ولاية عليه، وإن فعل کان ضامنًا‘‘.
(مادة :96 ، 1/ 61 ، دار الکتب العلمیة، بیروت)
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
وأما حكم الغصب فله في الأصل حكمان: أحدهما: يرجع إلى الآخرة، والثاني: يرجع إلى الدنيا.أما الذي يرجع إلى الآخرة فهو الإثم واستحقاق المؤاخذة إذا فعله عن علم؛ لأنه معصية، وارتكاب المعصية على سبيل التعمد سبب لاستحقاق المؤاخذة،.....(وأما) الذي يرجع إلى الدنيا، فأنواع: بعضها يرجع إلى حال قيام المغصوب . . . . (أما) الذي يرجع إلى حال قيامه فهو وجوب رد المغصوب على الغاصب . . . . . الخ
(كتاب الغصب ، فصل في حكم الغصب، 7/ 148، دار الكتب العلمية)
و في الاختيار لتعليل المختار:
وَمَنْ غَصَبَ شَيْئًا فَعَلَيْهِ رَدُّهُ فِي مَكَانِ غَصْبِهِ. فَإِنْ هَلَكَ وَهُوَ مِثْلِيٌّ فَعَلَيْهِ مِثْلُهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مِثْلِيًّا فَعَلَيْهِ قِيمَتُهُ يَوْمَ غَصْبِهِ.
(كتاب الغصب ، 3/ 59، مطبعة الحلبي)
و في الهداية في شرح بداية المبتدي:
"وإذا هلك النقلي في يد الغاصب بفعله أو بغير فعله ضمنه" وفي أكثر نسخ المختصر: وإذا
هلك الغصب والمنقول هو المراد لما سبق أن الغصب فيما ينقل، وهذا؛ لأن العين دخل في ضمانه بالغصب السابق إذ هو السبب. وعند العجز عن رده يجب القيمة أو يتقرر بذلك السبب ولهذا تعتبر قيمته يوم الغصب .
(كتاب الغصب ، 4/ 297 ، دار احياء التراث العربي)
و فی الدر المختار وحاشية ابن عابدين:
وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود
وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه . . . .الخ
(كتاب الفرائض ، 6/ 758 ، دار الفكر)
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔