نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںالسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب میں عبداللہ سرفراز چک دولت سے ہماری دادی کا انتقال ہو گیا تو مسئلہ یہ پوچھنا تھا دادی کی جو وراثت ہے جس میں کچھ نقدی بھی ہے وہ کیسے تقسیم ہوگی؟ میری دادی کے دو بیٹے زندہ ہیں یعنی میرے والد صاحب محمد سرفراز اور میرے چاچا محمد اشتیاق زندہ ہیں جبکہ محمد گلفراز جو تایا تھے وہ دادی کی حیات میں ہی وفات پا چکے تھے۔ ان کے آگے بیٹے ہیں یعنی میری دادی کے پوتے ہیں اور دادی کا ایک بھائی بھی زندہ ہے اور ایک بہن بھی زندہ ہے جبکہ ایک بہن اور ایک بھائی فوت ہو چکا ہے۔دادی کی یہ نقد رقم اور یہ وراثت کیسے تقسیم ہوگی خاص کر کے جو نقد رکھا ہوا ہے یہ کیسے تقسیم ہوگی؟ یہ بتا دیں بہت شکریہ
شریعت مطہرہ کی تعلیمات کے مطابق سب سے پہلےمیت کے ترکہ (اس کی چھوڑی ہوئی تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیداد)میں سے اس کی تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالا جائے گا ،تاہم اگر کسی نے اپنے ذمے لیا ہو تو مذکورہ اخراجات ترکہ سے نکالنے کی ضرورت نہیں ، اس کے بعد اگر میت کے ذمے کسی کا قرض واجب الادا ہو تو اس کو ادا کیا جائے گا اس کے بعد اگر میت نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو میت کے تہائی مال میں سے نافذ کیا جائے گا ،اس کے بعد باقی مال میت کے ورثا میں ان کے شرعی حصوں کے بقدر تقسیم ہوگا۔
بصورت مسؤلہ درج بالا ترتیب کے مطابق یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات ،قرض کی ادائیگی اور نفاذِ وصیت(اگر ہو تو) کے بعدآپ کی دادی مرحومہ کا باقی ماندہ ترکہ (نقدی اور باقی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد)صرف ان کے دونوں بیٹوں محمد سرفراز اورمحمد اشتیاق میں برابر برابر تقسیم کیا جائے گاجبکہ مرحومہ کے بھائی ،بہن اور پوتے میراث سے محروم ہونگے۔
منحة السلوك في شرح تحفة الملوك:
(والعصبة يأخذ كل الأموال عند عدم صاحب الفرض) هذا حد العصبة شرعاً، أي العصبة من يأخذ جميع المال عند انفراده، ويأخذ ما أبقته أصحاب الفرائض عند وجودهم.....الخ
( كتاب الفرائض ، ص440 ، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية)
و في الهندية:
التركة تتعلق بها حقوق أربعة. . . . . ثم بالدين وأنه لا يخلو إما أن يكون الكل ديون الصحة أو ديون المرض . . . . . ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين إلا أن تجيز الورثة أكثر من الثلث ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث . . . . . الخ
(كتاب الفرائض، الباب الأول في تعريف الفرائض،6/ 447 ، دارالفكر)
رد المحتار:
العصبات النسبية ثلاثة عصبة بنفسه وعصبة بغيره. . . . . ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل ثم أصله الأب ويكون مع البنت) بأكثر . . . . . الخ
(كتاب الفرائض، فصل في العصبات،6/ 773 ، دارالفكر)
رد المحتار:
وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه.. . . . الخ
(كتاب الفرائض، ،6/ 758 ، دارالفكر)
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔