نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرے شوہر ایک یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں ،وہ جس یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اس یونیورسٹی کو ایک بین الاقوامی یونیورسٹی نے اپنے ساتھ مل کر ایک پروجیکٹ کی ریسرچ کیلئے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ مل کر اس پروجیکٹ پر ریسرچ کریں ۔ریسرچ کیلئے میرے شوہر کا انتخاب ہوا اور یونیورسٹی (جس میں میرے شوہر پروفیسر تھے)سے اس بین الاقوامی یونیورسٹی والوں نے کہا کہ ہم اس ریسرچ کیلئے آپ کی یونیورسٹی کے بینک اکاؤنٹ میں رقم بھجواتے ہیں اور ریسرچ کے بعد جتنی بھی رقم بچ جائے وہ ریسرچ کرنے والے پروفیسر (میرے شوہر) کی ہوگی جس کو وہ اپنے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔
اپنی بات کے مطابق اس بین الاقوامی یونیورسٹی نے مذکورہ یونیورسٹی کے بینک اکاؤنٹ میں کروڑوں روپے بھیجے ۔ریسرچ شروع ہوکر چلتی رہی اور تقریبا ً 7 یا 8 سال جاری رہی اور کافی روپے اس ریسرچ پر خرچ ہوئے۔ریسرچ کے تمام اخراجات کے بعد بین الاقوامی یونیورسٹی کی بھیجی گئی رقم میں سے تقریبا ً 30 لاکھ روپے باقی بچ گئے جو ابھی یونیورسٹی کے اکاؤنٹ اور ان کے کنٹرول میں ہی ہیں لیکن چونکہ وہ کروڑوں روپے تھے اور کئی سال بینک میں پڑے رہنے کی وجہ سے اس پر انٹرسٹ بھی آتا رہا اس لئے اس 30 لاکھ میں سے یونیورسٹی کی بھیجی ہوئی رقم تقریباً 5 لاکھ ہے جو ٹوٹل بھیجی ہوئی رقم سے بچ گئی ہے جبکہ باقی 25 لاکھ وہ رقم ہے جو یونورسٹی کی بھیجی ہوئی رقم پر انٹرسٹ آیا ہے۔اب آپ حضرات اس بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ میرے شوہر وہ تمام 30 لاکھ روپے لے سکتے ہیں یا نہیں ان کو صرف 5 لاکھ روپے لینے کا حق ہے ؟ اگر وہ صرف 5 لاکھ روپے لینے کے حق دار ہیں تو اس صورت میں باقی 25 لاکھ کا وہ کیا کریں ؟آیا وہ اسی بین الاقوامی یونیورسٹی کو واپس کریں یا ادھر اپنی ہی یونیورسٹی میں ریسرچ وغیرہ کا جو کام ہوتا ہے اس میں دے دیں یا اس پیسوں کا کیا کیا جائے؟
بصورت مسؤلہ اگر سوال میں ذکر شدہ تفصیل حقیقت پر مبنی ہے تو اس صورت میں آپ کے شوہر بینک سے مکمل 30 لاکھ روپے نکال سکتے ہیں لیکن وہ شرعاً ان 30 لاکھ میں سے صرف 5 لاکھ روپے کےحق دار ہیں جبکہ باقی 25 لاکھ روپے میں ان کا کوئی حق نہیں وہ سود کی رقم ہے ،اس لئے وہ بینک سے مکمل 30 لاکھ روپے نکال کر 5 لاکھ روپے اپنی جائز ضروریات میں استعمال کریں جبکہ باقی رقم بغیر نیتِ ثواب کے فقراء و مساکین(جو زکوۃ کے مستحق ہو) میں یا کسی رفاہی کاموں( سڑک، پل يا ہسپتال وغیرہ کی تعمیر) میں خرچ کریں۔
قال تبارك و تعالى:
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (العمران: 130)
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (البقرة: 277)
وفي حاشية ابن عابدين:
لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذون منه
شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اه
(كتاب الحظر والإباحة ، فصل في البيع، 6/385 ، دار الفكر)
وفيه ايضا:
والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق
به بنية صاحبه
(كتاب البيوع: مطلب فيمن ورث مالا حراما ، 5/99 ، دار الفكر)
وفي مجموع الفتاوى:
وإذا تبين هذا فيقال: ما في الوجود من الأموال المغصوبة والمقبوضة بعقود لا تباح بالقبض إن عرفه المسلم اجتنبه. فمن علمت أنه سرق مالا أو خانه في أمانته أو غصبه فأخذه من المغصوب قهرا بغير حق لم يجز لي أن آخذه منه؛ لا بطريق الهبة ولا بطريق المعاوضة ولا وفاء عن أجرة ولا ثمن مبيع ولا وفاء عن قرض فإن هذا عين مال ذلك المظلوم. وأما إن كان ذلك المال قبضه بتأويل سائغ في مذهب بعض الأئمة جاز لي أن أستوفيه من ثمن المبيع والأجرة والقرض وغير ذلك من الديون.
(كتاب الفقه ،29/323 ، مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف)
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔