سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-168 Fatwa no: 1447-168

بیوہ ،چھ بیٹوں اور تین بیٹیوں کے درمیان تقسیم میراث

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ايك آدمی فوت ہوا اور اپنے پیچھے ورثاء میں سے ایک بیوہ ، تین بیٹیاں اور چھ بیٹے چھوڑے۔اب آپ حضرات اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں کہ مرحوم کی جائیداد اس کے ان موجود ورثاء میں کس ترتیب کے مطابق تقسیم ہوگی ؟جزاکم اللہ خیرا ً
جواب :

شریعت مطہرہ کی تعلیمات کے مطابق سب سے پہلےمیت کے ترکہ(مرحوم کی تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیداد)  میں   سے اس کی تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالا جائے گا ،تاہم اگر کسی نے اپنے ذمے لیا ہو تو مذکورہ اخراجات ترکہ سے نکالنے کی ضرورت نہیں ، اس کے بعد اگر میت کے ذمے کسی کا قرض واجب الادا ہو تو اس کو ادا کیا جائے گا اس کے بعد  اگر میت نے  کسی غیر وارث کے لئے کوئی جائز وصیت کی ہو تو  اس کو میت کے تہائی مال میں  سے نافذ کیا جائے گا ،اس کے بعد باقی مال میت کے ورثا میں ان کے شرعی حصوں کے بقدر تقسیم ہوگا۔
بصورت مسؤلہ درج بالا ترتیب کے مطابق یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات ،قرض کی ادائیگی اور نفاذِ وصیت(اگر ہو تو) کے بعد مرحوم کے باقی ماندہ ترکہ کےکل 120   حصے بنائے جائیں گے جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو آٹھواں حصہ یعنی 120 میں سے  15  حصے  دئےجائیں گے  جبکہ باقی 105 حصوں میں سے ہر ایک بیٹے کو14      حصے اور ہر ایک بیٹی کو 7 حصےدئے جائیں گے۔

قال تبارك و تعالى:
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ..... وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ      (النساء: 11)
الهندية:
التركة تتعلق بها حقوق أربعة. . . . . ثم بالدين وأنه لا يخلو إما أن يكون الكل ديون الصحة أو ديون المرض . . . . . ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين إلا أن تجيز الورثة أكثر من الثلث ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث . . . . . الخ
(كتاب الفرائض، الباب الأول في تعريف الفرائض،6/ 447 ، دارالفكر)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق:
قال رحمه الله: (وعصبهما الابن وله مثل حظهما) معناه إذا اختلط البنون والبنات عصب 
البنات فيكون للابن مثل حظهما فصار للبنات ثلاثة أحوال: النصف للواحدة، والثلثان للاثنين فصاعدا، والتعصيب عند الاختلاط بالذكور.
(كتاب الفرائض، أنواع الحجب ،8/ 563 ، دار الكتاب الإسلامي)
السراجي في الميراث:
و اما لبنات الصلب فاحوال ثلاث...و مع الابن للذكر مثل حظ الانثيين و هو يعصبهن....الخ
( فصل في النساء ، ص32 ، المكتبة البشرى)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب