سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-169 Fatwa no: 1447-169

بیوی اور شوہر کا ایک دوسرے کے مال میں حصہ شرعی

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
1۔اگر شوہر کا انتقال ہو جاتا ہے تو اسکی بیوی کا کتنا حصہ ہے اسکے مال میں اور جائیدا میں سے ؟ اور اس شوہر کے گھر والوں میں سے کس کس کا حصہ ہو گا اسکے مال و جائیداد میں سے ؟ اگر بیوی عدت کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرتی ہے تو کیا پہلے شوہر کی جائیداد یا مال کی حق دار نہیں ٹھہرائی جائے گی؟ سننے میں یہی آیا ہے کہ اگر وہ ساری زندگی بیوہ رہے گی تو وہ حق دار ہوگی اور اسکو اسکا شرعی حق بھی ملے گا اور اگر دوسری جگہ شادی کرتی ہے تو اسکا پھر کچھ نہیں ہے پہلے شوہر میں سے۔
2۔اگر بیوی کا انتقال ہو جاتا ہے تو شوہر اسکی کس کس چیز کی حق دار ہے بیوی کا جہیز اور بیوی کے گھر والوں نے جو اسکو زیورات دئے ہوں اسکا حقدار کون ہوگا؟ کیا بیوی اپنی زندگی میں یہ وصیت کر سکتی ہے کہ وہ اپنا جہیز اور ماں باپ کی طرف سے ملنے والے زیوارات کو کہیں دے دے۔ ؟ اور جو زیورات اسکو شوہر کی طرف سے ملے اسکا حق دار اسکا شوہر ہو گا؟ یا وہ بھی بیوی وصیت میں کسی صدقہ جاریہ کے کام میں لکھوا سکتی ہے ؟  ان دونوں سوالات کا جواب دیتے وقت یہ بھی یاد رہے کہ دونوں کی اولاد بھی نہیں ہے؟

جواب :

بصورت مسؤلہ :
(1)  شوہر کا انتقال ہوجانے کے بعد اس نے اپنے ترکہ میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ اشیاء چھوڑی ہوں اس میں اولاد کی موجودگی میں بیوی  تمام ترکہ کے آٹھوے حصے کی حقدار ہوتی ہے اور اگر اولاد نہ ہو تو اس صورت میں بیوی چوتھے حصے کی حق دار ہوتی ہے  اور بیوی کو حصہ ملنے کیلئے اس کا ساری زندگی بیوہ رہنا  شرط نہیں بلکہ یہ شرط ہے کہ شوہر کی وفات کے وقت بیوی زندہ ہوچاہے  عدت گزرنے کے بعد وہ کہیں اور شادی کرے یا اسی پہلے شوہر کی بیوہ بن کر پوری زندگی گزارے ،ہر دو صورت میں وہ اپنے شرعی حصہ کی حق دار ہوتی ہے ۔ صورت مسؤلہ میں چونکہ اوالاد نہیں ہے اس لئے بیوی چوتھے حصے کی حق دار ہے اور  شوہر کا ترکہ میں سے کس کس کا حصہ ہوگا اس حوالہ سے آپ نے شوہر کےورثاء کی کوئی تفصیل ذکر نہیں کی اس لئے  شوہر کے تمام ورثاء کی تفصیل لکھ کر  دوسرا سوال بھیجیں تو اس کا جواب دے دیا جائے گا۔
(2) بیوی کے انتقال ہوجانے کے بعد اولاد کی موجودگی کی صورت میں شوہر اپنی بیوی کے تمام ترکہ(اسکی تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیداد،جہیز اور ماں باپ کی طرف سے ملنے والے زیورات وغیرہ) کے چوتھائی حصہ کا حق دار ہوتا ہے جبکہ اولاد کی غیر موجودگی میں شوہر بیوی کے آدھے ترکہ یعنی آدھے حصے کا حق دار ہوتا ہے اور صورت مسؤلہ میں چونکہ اولاد نہیں اس لئے شوہر کو آدھا حصہ ملے گا۔
نیز  بیوی کا اپنے جہیز اور زیورات وغیرہ میں وصیت کرنے  کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ بیوی اپنے جہیز ،ماں باپ کی طرف سے ملنے والے زیورات اور اپنی تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیداد میں صرف ایک ثلث تک جائز وصیت کرسکتی ہے اس سے زیادہ میں اس کی وصیت نافذ نہیں ہوگی۔
 اور جہاں تک بیوی کو شوہر کی طرف سے ملنے والے زیورات کی بات ہے تو  جو زیورات شوہر نے  بیوی کو صرف استعمال کے لئے دئے ہوں، بطور ملکیت نہ دئے ہوں وہ بیوی کی زندگی میں بھی شوہر کی ملکیت ہوتے ہیں  اور بیوی کے انتقال کے بعد بھی شوہر ہی کی ملکیت ہوتے ہیں  اس پر کسی اور کا حق نہیں ہوتا البتہ جو زیورات شوہر نے بیوی کو ملکیت  کے طور پر دئے ہو ں  ، بیوی کے انتقال کے بعد ان زیورات پر تنہا شوہر کا حق نہیں ہوتا بلکہ وہ زیورات بھی   بیوی کا ترکہ بن کر اس کے شرعی ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے بقدر تقسیم ہوں گے اور اگر بیوی نے ان زیورات(جو اس کو بطور ملکیت ملے ہوتے ہیں) کے بارے میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو وہ وصیت بھی  مرحومہ کے کل ترکہ کے  صرف ایک ثلث میں نافذ ہوگی۔
قال تبارك و تعالىٰ:
وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ .     (النساء: 12)
و في الدر المختار وحاشية ابن عابدين:
وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه...الخ
(كتاب الفرائض ، 6/ 758 ، دار الفكر)
و في الفتاوي الهندية:
فللزوج النصف عند عدم الولد وولد الابن . . . . وللزوجة الربع عند عدمهما والثمن مع أحدهما، والزوجات والواحدة يشتركن في الربع والثمن وعليه الإجماع، كذا في الاختيار شرح المختار. 
(كتاب الفرائض، الباب الثاني في ذوي الفروض، 6/ 450 ، دار الفكر)
و في البحر الرائق شرح كنز الدقائق:
ثم تصح الوصية للأجنبي بالثلث من غير إجازة الوارث ولا تجوز بما زاد على الثلث لما روي «عن سعد بن أبي وقاص أنه قال جاءني رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يعودني من وجع اشتد بي فقلت: يا رسول الله قد بلغ بي من الوجع ما ترى، وأنا ذو مال ولا يرثني إلا ابنة لي أفأتصدق بثلثي مالي قال لا قال قلت: فالشطر يا رسول الله قال لا قال قلت: فالثلث قال فالثلث، والثلث كثير إنك أن تذر ورثتك أغنياء خير لك من أن تذرهم عالة يتكففون الناس»
(كتاب الوصايا، باب الوصية بثلث المال، 8/ 460، دار الكتاب الإسلامي)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب