سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-171 Fatwa no: 1447-171

بیوی کی طرف سےطلاق کے دعوی پر شوہر کا لفظ" حلالہ کرلیں گے"کہنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک عورت نے اپنے شوہر سے کہا:آپ نے مجھے طلاق دی ہے۔"اس پر شوہر نے جواب دیا ،حلالہ کرا دوں گا۔ شوہر نے نہ صریح الفاظ میں طلاق دی ہے اور نہ طلاق کی تعداد ذکر کی ہے، طلاق نامہ  یا تحریری ثبوت بھی موجود نہیں۔ شوہر بعد میں کہتا ہے کہ اس کا مقصد  طلاق دینا/ طلاق کا اقرار کرنا نہیں تھا صرف بیوی کی ضد توڑنے اور اس کومیکے  سے اپنے گھر آنے کے لئے آمادہ کرنا مقصود تھا، اس نے تین طلاقوں کا اقرار نہیں کیا۔
اس حوالہ سے  فریقین کے درمیان موبائل پر ایک لمبا مکالمہ ہوا جس میں طلاق کے حوالہ سے بات ہوئی ۔ وہ مکالمہ اور فریقین کے دیگر بیانات  اور موبائل مسجزبھی ساتھ لف ہیں۔
بیوی اور شوہر کا مکالمہ 
بیوی: اب تو تم نے طلاق دے دی ہے، اب میں کیا کروں؟
شوہر: حلالہ کر لیں گے۔
بیوی: ضرورت نہیں، مجھے ویسے بھی طلاق ہو چکی ہے۔
شوہر:پلیز یار، پھر سے نکاح کر لیں گے، سب کچھ نئے سرے سے شروع کریں گے۔
بیوی: اب میں خاموش ہوں، تم نے میرا بھروسہ، یقین اور امید سب کچھ ختم کر دیا۔
شوہر: صرف ایک بار موقع دے دو یار۔
 بیوی: میں نے ایک سال آپ کے ساتھ طلاق کی حالت میں گزارا ہے، اب مزید نہیں۔
 شوہر: پلیز، صرف ایک بار کر لو یار، اگر میرا قصور ثابت ہوا تو میں خودکشی کر لوں گا۔ دوسرا موقع تو اللہ بھی دیتا ہے۔
 بیوی: میری وجہ سے خودکشی مت کرو، میں نے ایک سال طلاق کی حالت میں آپ کے ساتھ رہ کر بہت گناہ کیے کیونکہ میرا بھائی نہیں تھا لیکن اب مزید نہیں۔
شوہر: پھر سے نکاح کر لیں گے، گناہ بھی نہیں ہوگا۔
 بیوی: یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟ طلاق کے بعد کسی اور سے شادی کرنی پڑتی ہے، پھر اس کی مرضی کہ وہ طلاق دے یا نہ دے، اس طلاق کے بعد عدت، اور پھر آپ سے نکاح ہوگا۔
شوہر: تم سب کچھ سے بے فکر ہو جاؤ، بس واپس آ جاؤ۔
 بیوی: آسان نہیں ہے، میں اب نہیں آؤں گی۔
 شوہر:مجھے اور کچھ نہیں چاہیے، صرف تم چاہیے۔
بیوی: اگر تمہیں میں چاہیے ہوتی تو کسی کی وجہ سے مجھے طلاق نہ دیتے۔
شوہر:غلطی ہو گئی، مجھے کچھ پتہ نہیں چلا۔
بیوی: آپ نے مجھے میرے سارے گھر والوں کے سامنے رسوا کیا اور بھی بہت کچھ کیا لیکن میں خاموش رہی کیونکہ مجھے اپنے باپ کا نام بہت 
اونچا تھا، یہاں تک کہ میں نے طلاق کے بعد بھی آپ کے ساتھ عمر گزاری۔
 شوہر: ہاں، بالکل، ساری غلطی میری ہے، مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ صرف ایک اور موقع دے دو۔
بیوی: موقع؟ موقع؟ موقع؟ میرے پاس اب کچھ بھی نہیں بچا،طلاق کے بعد بھی کیا کوئی موقع ہوتا ہے؟
شوہر: حلالہ کر لیں گےمیں تمہارے سارے گھر والوں سے معافی مانگ لوں گا۔
میرا مختصر دفاعی موقف
یہ صرف اُس کا دعویٰ ہےوہ بار بار کہتی رہی:"اب تو تم نے طلاق دے دی ہے"لیکن میں نے کبھی صاف لفظوں میں نہیں کہا:"ہاں، میں نے طلاق دی ہے"میں تو بار بار کہہ رہا تھا:"پھر سے نکاح کر لیں گے""ایک موقع دے دو"۔یہ بات واضح کرتی ہے کہ میں طلاق کو تسلیم نہیں کر رہا تھا، بلکہ صلح کی کوشش کر رہا تھا۔میری نیت طلاق نہیں، جان بچانا تھی کیونکہ اس نے پہلے بھی طلاق کے تنازع کی وجہ سے زہر کھائی تھی اور اب بھی وہ ایسا کرنے والی تھی   ،میں نے یہ باتیں صرف اس لیے کیں تاکہ وہ پرسکون ہو جائے اور کوئی نقصان نہ کرے۔ میرا مقصد طلاق دینا نہیں تھا، بلکہ اس کی زندگی بچانا اور گھر بسانا تھا۔
اُس کا خود اعتراف:
وہ کہتی ہے:"میں نے ایک سال طلاق کی حالت میں گزارا"۔اگر واقعی طلاق ہو چکی تھی تو ایک دینی علم رکھنے والی عورت میرے ساتھ کیوں رہی؟ یہ اس کے اپنے بیان سے واضح ہے کہ طلاق نہیں ہوئی تھی اور میں نے کبھی  طلاق نہیں دی ،ایک سال پہلے اُس نے مجھ سے خود کہا:"مجھے طلاق دے دو"،میں نے اُس وقت شدید غصے میں اُسے دو تین تھپڑ مار دیے۔ اس واقعے کے  ثبوت میرے پاس  ابھی  تک موجود ہیں۔
وضاحت:
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ بار بار خود تعلق ختم کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہے، لیکن میں نے کبھی زبان سے یا تحریری طور پر طلاق نہیں دی۔
جب وہ اپنی  ماں کے گھر گئی تھی، اُس کی ماں نے کہا واپس شوہر کے گھر جاؤ، تو اُس نے قرآن اپنی ماں کی جھولی میں رکھ کر کہا:"مجھے واپس مت بھیجو"۔یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ اُس وقت بھی اُس کا دل رشتہ قائم رکھنے کا نہیں تھا  وہ ہر قیمت پر تعلق توڑنا چاہتی تھی۔
پانچ جنوری کے بعد کے میسجز:
شوہر : کس کے ساتھ آن لائن ہو؟
کچھ دن بعد اُس نے مجھے میسج کیا:
تم کس کے ساتھ آن لائن ہو؟
اگر طلاق ہو چکی ہوتی تو ایک عورت کا اپنے “سابق شوہر” کی زندگی میں اس طرح دلچسپی لینا معنی نہیں رکھتا۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ تعلق اُس کے ذہن میں بھی باقی تھا۔ایک رات اُس نے مجھے میسج کیا کہ وہ کسی مولوی کے پاس گئی تھی، اور اُس مولوی نے کہا کہ میری اُس سے طلاق ہو چکی ہے۔ پھر کچھ دیر بعد اُس نے مجھے میسج کیا کہ اُس نے زہر کھا لیا ہے اور اُسے اسپتال لے جایا گیا جہاں اُس کا معدہ واش کر دیا گیا۔ اُس نے یہ بھی کہا کہ اب وہ دوبارہ زہر کھانے والی ہے۔ یہ سن کر میں شدید خوف اور گھبراہٹ میں آ گیا کہ اگر اُس نے دوبارہ ایسا قدم اُٹھا لیا تو اُس کی جان چلی جائے گی اور الزام مجھ پر آ جائے گا۔ اسی خوف کی وجہ سے میں نے اُس سے بار بار منت سماجت کی، اُسے سمجھانے کی کوشش کی کہ ایسا نہ کرے۔ میری یہ باتیں کسی صورت طلاق کے لیے نہیں تھیں بلکہ صرف اُس کی جان بچانے کے لیے کی گئیں۔اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: "اس نے مجھے طلاق دے دی ہے"،بعد میں اُس نے میرے حلالہ سے متعلق کچھ میسجز دکھا کر کہا کہ اس نے مجھے طلاق دے دی ہے۔
وضاحت:
یہ اُس کا یک طرفہ دعویٰ تھا۔ اُس کے پاس کوئی واضح یا معتبر ثبوت نہیں تھا کہ میں نے طلاق دی۔ صرف حلالہ کا ذکر ہونا بھی طلاق کا ثبوت نہیں بنتا۔اُس کا کہنا: "میں چاہتی ہوں سب کچھ ختم ہو جائے اور "مجھے چھوڑ دو"اُس نے مجھے کئی بار کہا:"میں چاہتی ہوں سب کچھ ختم ہو جائے""مجھے چھوڑ دو، اب تو مجھے چھوڑ دو"
پشتو زبان میں بھی "مجھے چھوڑ دو" کا مطلب یہی لیا جاتا ہے کہ وہ طلاق مانگ رہی تھی۔ لیکن صرف عورت کا مطالبہ طلاق نہیں کہلاتا جب تک 
شوہر واضح الفاظ میں طلاق نہ دے۔جب میں نے پوچھا: اب کیا چاہتی ہو؟تو اس نے جواب دیا: 123 یعنی طلاق۔
یہ واضح کرتا ہے کہ طلاق اب تک واقع نہیں ہوئی تھی  اگر ہو چکی ہوتی تو "چاہنا" یا "123 کہنا" کی ضرورت ہی نہ رہتی۔ یہ جملہ اُس کی طرف سے طلاق کے مطالبے یا تمنا کو ظاہر کرتا ہے، ثبوت نہیں۔پھر کچھ دن بعد میں نے اُس سے کال پر پوچھا:میں نے تمہیں کب طلاق دی؟تو اُس نے جواب دیا:پتا نہیں۔میں نے دوبارہ پوچھا:کیا میں نے تمہیں طلاق دی ہے؟ تو اُس نے صاف کہا:نہیں۔
وضاحت:
یہ اُس کا اپنا اعتراف ہے کہ میں نے کبھی طلاق نہیں دی۔ یہ بیان طلاق کے دعوے کو مکمل طور پر جھوٹا ثابت کرتا ہے۔
پھر چند دن گزرنے کےمیں نے اُس سے کہا کہ کسی مفتی صاحب کو اپنے گھر بلا لو، وہ فیصلہ کر لیں گے جس پر اُس نے جواب دیا کہ نہیں، یہ کام وہ لوگ کرتے ہیں جو واپس جانا چاہتے ہیں، مجھے نہیں جانا۔
یہ اُس کی ضد اور انکار کی دلیل ہے۔ جو عورت خود کسی شرعی فیصلے میں دلچسپی نہیں لیتی، اُس کا طلاق کا دعویٰ کیسے معتبر ہو سکتا ہے؟
پھر اس نے ایک مرتبہ  ویڈیو کال پر مجھے کہاکہ اگر میں گھر آ بھی گئی تو میرا من نہیں لگے گا۔
یہ جذباتی بات ہے، اور طلاق کے بعد تو واپسی کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہوتی۔ اس بیان سے واضح ہے کہ طلاق نہیں ہوئی تھی، اور واپسی کا دروازہ کھلا تھا۔
ان سب باتوں کے باوجود جب میں اُس کے گھر جاتا تھا تو وہ میرے ساتھ بیٹھتی اور مجھے گلے لگاتی۔ اگر طلاق ہو چکی ہوتی تو یہ شرعی طور پر جائز 
نہ تھا۔ان تمام باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو کبھی طلاق نہیں دی ،اُس نے کئی بار خود تعلق ختم کرنے کا مطالبہ کیا،اُس کے اپنے الفاظ اور رویے اس بات کا ثبوت ہیں کہ طلاق کبھی واقع نہیں ہوئی ،میرے پاس موجود  ویڈیوز، آڈیوز اور میسجز  اس بیان کی تصدیق کرتے ہیں۔
آپ حضرات سے درخواست ہے کہ درجہ بالا سوال ،دونوں کے میسجز اور ان میسجز کے پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے درجہ ذیل سوالات کے جوابات عنایت فرمائیں اور چونکہ اس مسئلہ کا فیصلہ مقامی جرگی میں ہونا ہے اس لئے دیانتاً اور قضاء دونوں اعتبار سے جواب عنایت فرمائیں۔یہ بات زیر غور رہے کہ بیوی کےپاس کوئی شرعی گواہ موجود نہیں ،مزید یہ کہ اس کا اپنے شوہر پر کوئی اعتبار نہیں ہے لہذا اس کو قسم دینے کیلئے راضی نہیں ہے۔
1 -کیا شوہر کے اس جواب حلالہ کرا دوں گا" کو تین طلاقوں کا اقرار شمار کیا جائے گا؟
2 -کیا اس جملے کی بنیاد پر عورت کو مطلقہ ثلاثہ قرار دیا جا سکتا ہے ؟
3-ا گر شوہر بعد میں وضاحت دے کہ ان ساری باتوں سےاس کی نیت تین طلاقوں کا اعتراف کرنے کی نہیں تھی، تو کیا اس کی بات معتبر ہوگی؟
یہاں یہ بات مخفی نہ رہے بلکہ قابل توجہ ہے کہ حلالہ کرادونگا کالفظ خود بخود تین طلاق کا صراحتاً اقرار نہیں ہے جبتک سیاق وسباق سے یہ ثابت نہ ہو کہ وہ تین طلاق دے چکا ہے یااس نے وضاحت نہ کی ہو کہ میں نے تین طلاق دی ہیں کیونکہ اس لفظ کےکئی مطلب  ہوسکتے ہیں ،مثلاً اس کا  ایک مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ شوہر پہلے ہی تین طلاقیں دے چکا ہے ( کیونکہ حلالہ کی ضرورت صرف طلاق ثلاثہ کے بعد ہوتی ہے) اور اب اس کا اقرار و اعتراف کررہا ہے اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شوہر مستقبل میں تین طلاق دینے کا ارادہ رکھتا ہے اور بطور دھمکی یہ الفاظ استعمال کرتا ہے اور اس کاایک تیسرا مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ شوہر بیوی کے ساتھ حلالہ کرانے کا وعدہ کررہا ہے کہ اگر تین طلاق ثابت ہو جائے تو میں تیراکسی سے حلالہ کرادونگا۔
4- شوہر اگر زیرِ بحث لفظ سے طلاق ثلاثہ کا منکر ہوتواس لفظ کو دھمکی یا وعدہ پر محمول کیا جاسکتا ہے؟ 
5- عورت اگر طلاق ثلاثہ کا مدعیہ ہو اورشوہر اس کامنکر اور عورت کے پاس شرعی شہادت موجود نہ ہو تو وہ المرءةکاالقاضی کے روسے شوہر کو اس کے انکار پر قسم دے سکتی ہے ؟

جواب :

جواب سےپہلے بطور تمہید دو چیزوں کا سمجھنا ضروری ہے؛
 (ا) طلاق کے باب میں بنیادی چیز طلاق کے الفاظ ہوتے ہیں اس لئے جو الفاظ طلاق کیلئے موضوع ہیں ابتداءً ان الفاظ سے ہی طلاق واقع ہوجاتی ہے جبکہ غیر موضوع الفاظِ طلاق میں ابتداء ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی بلکہ ان الفاظ سے  نیت یا دلالت حال کی موجودگی میں طلاق واقع ہوتی  ہے بعینہ  اقرار کے باب میں بھی جو الفاظ اقرار کے لئے موضوع نہ ہوں ان الفاظ کو  اقرار پر تب ہی  محمول کیا جاسکتا ہے  جب دلالتِ حال بھی ان الفاظ کے اقرار ہونے کی تائید کرے ۔
(2)جب مدعی کے پاس اپنے دعوی پر گواہ نہ ہوں اور وہ مدعی علیہ سے قسم کا مطالبہ بھی نہ کرے تو ایسی صورت میں مدعی علیہ سے قسم نہیں لی جائے گی بلکہ ظاہر اور قرائن اگر موجود ہوں تو اسی کے مطابق قاضی یا پنچایت وغیرہ فیصلہ کرے گی۔
اس تمہید کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات بالترتیب ملاحظہ ہوں؛
(1،2،3،4)مذکورہ سولات کے جوابات قضاء اور دیانت کے اعتبار سے الگ ہونگے ۔
چونکہ بیوی کے پاس اپنے دعوی پر گواہ بھی نہیں اور وہ  شوہر سے قسم لئے جانے پر بھی راضی نہیں  جیسا کہ سوال سے واضح ہےاس لئے  میاں بیوی کے درمیان ہونے والے مکالمہ میں موجود قرائن کے مطابق قضاء ً بیوی پر تین طلاقیں واقع ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا کیونکہ  مکالمہ میں موجود  " حلالہ کرا دوں گا" کے الفاظ نہ طلاق کیلئے موضوع ہیں   اور نہ اقرار کیلئے اور فی نفسہ ان الفاظ کے کئی مطالب ہوسکتے ہیں جیسا  کہ آپ نے سوال  میں ذکر  کئے ہیں    لیکن  شوہر کا بیوی کی طرف سے  طلا ق کے دعوی پر مذکورہ الفاظ سے جواب دینا صرف اور صرف اقرارِ  طلاق  پر دلالت کرتےہیں ،نیزان الفاظ کے علاوہ شوہر اور بیوی کے درمیان ہونے والے مذکورہ مکالمہ میں مختلف مقامات پر شوہر کے جوابات مثلا ً  پھر سے نکاح کر لیں گے ، مجھ سے غلطی ہوگئی ،مجھے کچھ پتہ نہیں چلا اور ہاں بالکل ٹھیک ہے وغیرہ وغیرہ  بھی اس بات پر دلالت کررہے ہیں کہ وہ طلاق کا اقرار کررہا ہے خصوصا ً جب وہ یہ بات تسلیم  کر رہا ہے کہ مکالمہ میں مذکورہ میسجز اسی کے  ہیں اور ان الفاظ کے بعد طلاق سے انکار کرنا درحقیقت اپنے اقرار سے رجوع کرنا ہے اور چونکہ حقوق العباد میں اپنے اقرار  سے رجوع جائز نہیں اس لئے بعد میں شوہر کا طلاق سے انکار کرنے کا کوئی اعتبار نہیں ، لہذا ان الفاظ سے بیوی پر  قضاءً   تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور جہاں تک بات ہے ان وضاحتوں کی جو شوہر نے بیوی کے حوالے سے دی ہیں تو ان وضاحتوں کا شرعا ً کوئی اعتبار نہیں کیونکہ طلاق کا بیوی کے اقوال و افعال سے کوئی تعلق نہیں بلکہ طلاق کا اختیار شریعت نے شوہر کو دیا ہے کہ شوہرزبانی یا تحریری  طلاق دے یا وہ طلاق کا اقرار کرے اور مذکورہ صورت میں اس کے الفاظ طلاق ہی کا اقرار  ہیں      ۔
البتہ جہاں تک بات ہے دیانت کی تو اگر واقعتا ً شوہر نے کوئی طلاق نہیں دی اور مذکورہ مکالمہ میں اس نے جھوٹا اقرار کیا ہے   تو اس صورت میں دیانتاً تو کوئی طلاق نہیں ہوئی لیکن چونکہ بیوی کے پاس تحریری صورت میں شوہر کا اقرارِ طلاق موجود ہے اس لئے  بیوی پر لازم ہے کہ وہ اپنے سابقہ شوہر کو اپنے اوپر بالکل بھی قدرت نہ دے اور کسی بھی ممکن طریقے سے چاہے اس کو طلاق کیلئے راضی کر کے ہو یا خلع کے ذریعے ہو یا پھر عدالت سے فسخ ِ نکاح کی ڈگری حاصل کر کے   اپنی جان اس سے چھڑائے۔
(5)المراۃ کالقاضی کے تحت عورت بعض مخصوص حالات میں اپنے حق میں تو قاضی کی حیثیت رکھتی ہے  لیکن جہاں دوسرے کے حق کی بات ہو تو اس میں بیوی قاضی کا کردار نہیں ادا کرسکتی کہ شوہر سے بذات خود قسم کا مطالبہ کرےکیونکہ قسم صرف قاضی یا ایسا جرگہ و پنچایت ہی لے سکتا ہے جس میں علماء موجود ہوں اور وہ قسم لینے کے مسائل سے خوب واقف ہوں۔
نوٹ:سوال میں موجود مکالمہ سے واضح ہے کہ شوہر نے بیوی کو ایک سال قبل طلاق دی ہے اور اسی طلاق کے حوالہ سے  شوہر نے لکھا ہے کہ حلالہ  کرلیں گے اس لئے پہلی بار شوہر نے جب طلاق دی تو اسی وقت سے بیوی کو تین طلاقیں واقع ہوچکی تھی البتہ بیوی کی عدت آخری  مرتبہ ہمبستری  کے بعد  سے شروع ہوگی اور  طلاق کے باوجود جتنا عرصہ دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے اکٹھے وہ چکے ہیں اس پرصدقِ دل سے  توبہ و 
استغفار کریں۔
قال تبارك و تعالى:
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ         (البقرة: 230)
في الدر المختار و حاشية ابن عابدين:
(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي.
(كتاب الطلاق ،باب ألفاظ الطلاق،3/ 277 ، دار الكتاب الإسلامي) 
و فيه ايضا:
" (كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له)  أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب.
فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي ...الخ
( کتاب الطلاق، باب الکنايات،3/298-296 ، دار الفكر)
و  في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
وأما حجة المدعي والمدعى عليه فالبينة حجة المدعي واليمين حجة المدعى عليه لقوله - عليه الصلاة والسلام - «البينة على المدعي واليمين على المدعى عليه» جعل - عليه الصلاة والسلام - البينة حجة المدعي واليمين حجة المدعى عليه والمعقول كذلك لأن المدعي يدعي أمرا خفيا فيحتاج إلى إظهاره وللبينة قوة الإظهار لأنها كلام من ليس بخصم فجعلت حجة المدعي واليمين.
(كتاب الدعوى ،فصل في حجة المدعي والمدعى عليه،6/ 225 ، مؤسسة الرسالة)
و في رد المحتار:
 والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل 
نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. 
قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله.
(كتاب الطلاق ،باب صريح الطلاق،3/ 251 ، دار الفكر)
و في البحر الرائق شرح كنز الدقائق:
والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه اهـ. ولا فرق في البائن بين الواحدة، والثلاث اهـ.
(كتاب الطلاق ،باب ألفاظ الطلاق،3/ 277 ، دار الكتاب الإسلامي)
و  في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
 أما ركن الإقرار فنوعان: صريح ودلالة، فالصريح نحو أن يقول: لفلان علي ألف درهم ..... (وأما) الدلالة فهي أن يقول له رجل: لي عليك ألف، فيقول: قد قضيتها؛ لأن القضاء اسم لتسليم مثل الواجب في الذمة فيقتضي سابقية الوجوب فكان الإقرار بالقضاء إقرارا بالوجوب ثم يدعي الخروج عنه بالقضاء فلا يصح إلا بالبينة وكذلك إذا قال له رجل: لي عليك ألف درهم فقال: اتزنها لأنه أضاف الاتزان إلى الألف المدعاة، والإنسان لا يأمر المدعي باتزان المدعى إلا بعد كونه واجبا عليه، فكان الأمر بالاتزان إقرارا بالدين دلالة.
وكذلك إذا قال انتقدها لما قلنا ولو قال: أتزن أو أنتقد لم يكن إقرارا لأنه لم توجد الإضافة إلى المدعى فيحتمل الأمر باتزان شيء آخر فلا يحمل على الإقرار بالاحتمال ...الخ
( كتاب الإقرار، ركن الإقرار،3/207 ، دار الكتب العلمية)
و في المحيط البرهاني:
وجه ما ذكر في «المبسوط» : أن القاضي نصب لفصل الخصومات، لا لإنشائها، وفي الاستحلاف بدون طلب المدعي إنشاء الخصومة، وهذا لا يجوز، ألا ترى أنه لا يستحلف الولي في باب القصاص بالله ما عفى بدون طلب القاتل، والقصاص مما يدرئ بالشبهات، فلأن لا يستحلف هاهنا أولى؛ ولأن الاستحلاف لنظر البائع ...الخ
( كتاب القسمة،الفصل الحادي والعشرون،8/158 ، دار الكتب العلمية)
و في مجلة الاحكام العدلية:
لا يحلف اليمين إلا بطلب الخصم ولكن يحلف اليمين من قبل القاضي في أربعة مواضع بلا طلب. الأول:إذا ادعى أحد من التركة حقا وأثبته فيحلفه القاضي على أنه لم يستوف هذا الحق بنفسه ولا بغيره من الميت بوجه ولا أبرأه ولا أحاله على غيره ولا أوفى من طرف أحد وليس للميت في مقابلة هذا الحق رهن،ويقال لهذا يمين الاستظهار،الثاني:إذا استحق أحد المال وأثبت دعواه حلفه القاضي على أنه لم يبع هذا المال ولم يهبه لأحد ولم يخرجه من ملكه بوجه من الوجوه، الثالث:إذا 
أراد المشتري رد المبيع لعيبه حلفه القاضي على أنه لم يرض بالعيب قولا أو دلالة كتصرفه تصرف الملاك على ما ذكر في المادة (344) , الرابع: تحليف القاضي الشفيع عند الحكم بالشفعة بأنه لم يبطل شفعته يعني لم يسقط حق شفعته بوجه من الوجوه.
( الْبَابُ الثَّالِثُ فِي بَيَانِ التَّحْلِيفِ،ص 354 ، نور محمد)
و في درر الحكام في شرح مجلة الاحكام:
لا يحلف اليمين إلا بطلب الخصم؛ لأن اليمين حق للخصم حتى أنه لو حلف القاضي الخصم بلا طلب ثم طلب الخصم التحليف فيحلف الخصم ثانيا (عبد الحليم في الدعوى) .
 (الباب الثالث في بيان التحليف ،4/498 ، دار الجيل)
و في الرد ایضا: 
قلت: ولم أر من صرح بمبدإ العدة في الوطء بشبهة بلا عقد. وينبغي أن يكون من آخر الوطآت عند زوال الشبهة، بأن علم أنها غير زوجته، وأنها لا تحل له إذ لا عقد هنا فلم يبق سبب للعدة سوى الوطء المذكور كما يعلم مما ذكرنا، والله أعلم
(كتاب الطلاق ،باب العدة،3/ 522،دار الفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب