سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-172 Fatwa no: 1447-172

پاكستان سے عمرہ کیلئے جانے والے کا جدہ سے احرام باندھنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک شخص ریاض میں کام کرتا ہے لیکن فی الحال چھٹی پر پاکستان آیا ہے اور پھر چند دن بعد دوبارہ واپسی کرے گا لیکن واپسی میں ریاض جانے سے پہلےاگر وہ  جدہ جاتا ہے اور پھر عمرہ کرتا ہے تویہ شخص تو  یہ احرام کہاں سے باندھے گا؟
اس کا ایک دوسرا دوست ہے جو اس کے ساتھ ہی ریاض میں کام کرتا ہے،وہ اس کو لینےجدہ آئے گا۔اگر وہ بھی اپنے اس دوست کے ساتھ عمرہ پے جائے گا تو وہ احرام کہاں سے باندھے گا؟
ایک مولوی صاحب سے سنا ہے کہ پاکستان سے عمرہ کیلئے جانے والا جدہ پہنچ کر وہاں سے بھی احرام باندھ سکتا ہے کیونکہ جدہ بھی خود میقات ہے ۔کیا واقعی ایسا درست ہے؟اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں۔

جواب :

سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کہ مذکورہ دونوں   آدمی عمرہ کے ارادے سے جدہ جائیں گے یا وہاں کسی ذاتی کام سے جائیں گے اور پھر وہاں سے عمرہ کیلئے جائیں گے  ، اس لئے ذیل میں دونوں صورتوں کا حکم ذکر کیا جاتاہے۔
اگر تو مذکورہ دونوں آدمی شروع سے عمرہ  کا ارادہ نہ رکھتے ہوں بلکہ ان کا ارادہ جدہ کے بعد واپسی یا کسی دوسری جگہ جانے کا ہوں لیکن جدہ پہنچ کر عمرہ کرنے کا ارادہ بن جاتا ہے تو اس صورت میں یہ دونوں حدودِ حرم سے پہلے پہلے کسی بھی جگہ سے احرام باندھ سکتے ہیں لیکن اگر شروع ہی سے ان کا ارادہ عمرہ کرنے کا ہو تو اس صورت میں چونکہ یہ دونوں آفاقی ہیں اس لئے ان دونوں پر اپنے اپنے میقات سے احرام باندھنا لازم ہوگا بصورت دیگر ان دونوں پر دم آئے گا۔
جن مولوی صاحب نے یہ کہاں ہے کہ جدہ میقات ہے ان کی یہ بات درست نہیں کیونکہ فقہاء میں سے کسی کے نزدیک بھی جدہ میقات نہیں البتہ جدہ کا محاذاتِ میقات ہونے میں معاصرعلماء کا اختلاف ہے،بعض کے نزدیک جدہ محاذاتِ میقات میں سے ہے جبکہ بعض دوسرے علماء جدہ کے  محاذاتِ میقات میں ہونے کے قائل نہیں اس لئے پاکستان سےہوائی جہاز کے ذریعے عمرہ  یا حج پہ جانے والوں کیلئے ضروری ہے کہ درجہ ذیل دو وجوہات کی بناء پر جدہ تک احرام مؤخر نہ کریں اور میقات سے پہلے پہلے احرام باندھ لے۔
(1) جدہ کے محاذاتِ میقات ہونے یا نہ ہونے میں علماءِ عصر کا اختلاف ہے اور جس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہو اس میں احوط کو اختیار کرنا چاہیے اوراس مسئلہ میں اختلاف سے نکلنا اور احوط کو اختیار کرنا یہی ہے کہ جدہ تک احرام مؤخر نہ کیا جائے اور میقات سے پہلے پہلے اپنا احرام مکمل کرلیا جائے۔
(2) عام طور پر تو ہوائی جہاز عینِ میقات پر نہیں گزرتے بلکہ محاذاتِ میقات  سے گزرتے ہیں لیکن ممکن ہے کہ کسی وقت جہاز اپنا راستہ تبدیل کر کے عینِ میقات سے گزر جائے تو ایسی صورت میں میقات سے بلا احرام گزر کر جدہ میں احرام باندھنے کی وجہ سے دم لازم ہوگا کیونکہ عینِ میقات سے بلا احرام  گزر کر محاذات ِ میقات سے احرام باندھنا موجب دم ہوتا ہے اور یہ دم دوبارہ عین ِ میقات جاکر احرام باندھے بغیر ساقط نہیں ہوتا۔
الدر المختار:
(وحل لأهل داخلها) يعني لكل من وجد في داخل المواقيت (دخول مكة غير محرم) ما لم يرد نسكا للحرج كما لو جاوزها حطابو مكة فهذا (ميقاته الحل) الذي بين المواقيت والحرم.
و تحته في الشامية:
(قوله يعني لكل إلخ) أشار إلى أن المراد بالأهل ما يشمل من قصدهم من غيرهم كما أفاده قبله بقوله أما لو قصد موضعا من الحل إلخ (قوله غير محرم) حال من أهل ولم يجمعه نظرا إلى لفظ أهل فإنه مفرد وإن كان معناه جمعا ح (قوله ما لم يرد نسكا) أما إن أراده وجب عليه الإحرام قبل دخوله أرض الحرم فميقاته كل الحل إلى الحرم فتح.
(كتاب الحج ، مطلب في المواقيت، 2/ 478 ، دار الفکر)
الاختيار لتعليل المختار:
(ومن كان داخل الميقات فميقاته الحل) الذي بين الميقات وبين الحرم لأنه أحرم من دويرة أهله. 
(كتاب الحج ، مواقيت الحج المكانية، 1/ 242 ، مطبعة الحلبي - القاهرة)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
لا يجوز لأحد منهم أن يجاوز ميقاته إذا أراد الحج أو العمرة إلا محرما؛ لأنه لما وقت لهم ذلك فلا بد وأن يكون الوقت مقيدا، وذلك إما المنع من تقديم الإحرام عليه، وإما المنع من تأخيره عنه، والأول ليس بمراد لإجماعنا على جواز تقديم الإحرام عليه فتعين الثاني، وهو المنع من تأخير الإحرام عنه. . . . . . وروي عن أم سلمة - رضي الله عنها - عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: «من أحرم من المسجد الأقصى إلى المسجد الحرام بحج أو عمرة غفر الله له ما تقدم من ذنبه، وما تأخر، ووجبت له الجنة» هذا إذا قصد مكة من هذه المواقيت، فأما إذا قصدها من طريق غير مسلوك فإنه يحرم إذا بلغ موضعا يحاذي ميقاتا من هذه المواقيت؛ لأنه إذا حاذى ذلك الموضع ميقاتا من المواقيت صار في حكم الذي يحاذيه في القرب من مكة . . . . الخ
 (كتاب الحج ، فصل بيان مكان الإحرام، 2/ 164 ، دار الكتب العلمية)
فتح القدير:
والحاصل أن الآفاقي إذا وصل إلى ميقات من مواقيت الآفاقيين فإما أن يكون بعد ميقات آخر
في طريقه أو لا. فإن كان جاز له مجاوزته إلى الميقات الأخير، وإن لم يكن وجب عليه الإحرام 
منه كالميقات الأخير. فإن لم يحرم حتى جاوزه، فإن عاد قبل استلام الحجر إلى الميقات فلبى عنده سقط عنه دم المجاوزة اتفاقا.
(كتاب الحج ، باب مجاوزة الوقت بغير إحرام، 3/ 109 ، دار الفكر)
الدر المختار:
ولو مر بميقاتين فإحرامه من الأبعد أفضل ولو أخره إلى الثاني لا شيء عليه على المذهب وعبارة اللباب سقط عنه الدم ولو لم يمر بها تحرى وأحرم إذا حاذى أحدها وأبعدها أفضل فإن لم يكن بحيث يحاذي فعلى مرحلتين
و تحته في الشامية"
ومفاده أن وجوب الإحرام بالمحاذاة إنما يعتبر عند عدم المرور على المواقيت أما لو مر عليها فلا يجوز له مجاوزة آخر ما يمر عليه منها وإن كان يحاذي بعده ميقاتا آخر وبذلك أجاب صاحب البحر عما أورده عليه العلامة ابن حجر الهيتمي الشافعي حين اجتماعه به في مكة من أنه ينبغي على مدعاكم أن لا يلزم الشامي والمصري الإحرام من رابغ، بل من خليص لمحاذاته لآخر المواقيت، وهو قرن المنازل.
وأجابه بجواب آخر وهو أن مرادهم المحاذاة القريبة، ومحاذاة المارين بقرن بعيدة لأن بينهم وبينه بعض جبال، لكن نازعه في النهر بأنه لا فرق بين القريبة والبعيدة
(كتاب الحج ، مطلب في المواقيت ، 2/ 476 ، دار الفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب