نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرے والد کی جب وفات ہوئی تو اس وقت ان کے بینک اکاؤنٹ میں پچیس لاکھ ستانویے ہزار دو سو تریالیس روپے (2597243) پڑے تھے اور کچھ پیسے گورنمنٹ کی طرف سے ملے تھے جس میں سے چونتیس لاکھ ستائیس ہزار ستاون روپے (3402757) ملاکرہم نے مذکورہ اکاؤنٹ کی رقم کے ساتھ ملائے جس سے ساٹھ لاکھ روپے (00000 60 ) بنے جس سے ہم سب ماں ،بہن اور بیٹے نے مشورہ سے ایک پلاٹ خریدا ۔وہ پلاٹ اپنے پاس چند عرصہ رکھنے کے بعد ہم نے اس کو 62 لاکھ میں بیچ دیا۔پھر ہم سب نے مل کر ان پیسوں سے ایک گھر خریدنا تھا لیکن جو گھر ہم خریدنا چاہتے تھے اس کی قیمت اس وقت 89 لاکھ روپے تھی اور ہمیں اس کو خریدنے کے لئے ان 62 لاکھ روپوں کے ساتھ 27 لاکھ مزید روپوں کی ضرورت تھی لیکن اس وقت ہمارے پاس وہ رقم نہیں تھی تو میں نے اپنی والدہ اور بہنوں کے مشورہ اور ان کی رضامندی سے وہ 27 لاکھ روپے کسی سے قرض لیکر گھر خریدا اور پھر اس کے کاغذات بنانے کیلئے مزید رقم چاہیے تھی اس لئے کچھ اور رقم بھی قرض لی ۔گھر کے کاغذات بنانے میں چار لاکھ ستتر ہزار تین سو اٹہتر روپے (477378) لگے جو قرض میں سے ہی ادا کئے گئے اور اس طرح ٹوٹل قرض جو ہم نے اس گھر کیخریداری اور اس کے کاغذات بنانے کیلئے لیا وہ اکتیس لاکھ ستتر ہزار تین سو اٹہتر روپے (3177378) بن گیا۔ بعد میں وہ قرض واپس بھی کیا جس کی تفصیل درج ذیل ہے؛
(1)گورنمنٹ کی طرف کچھ عرصہ بعد مزید رقم ملی جس میں سے سات لاکھ چھیاسی ہزار روپے (786000) میں نے والدہ اور بہنوں کے مشورہ سے قرض میں ادا کئے۔
(2) ایک بہن سے پانچ لاکھ چھیاسٹھ ہزار چھ سو چھیاسی روپے (566666) لیکر قرض میں ادا کئے۔
(3)میں نے کچھ رقم کسی سے قرض لی اور اس کے ساتھ کچھ اپنی رقم ملاکر ٹوٹل سترہ لاکھ اٹھاون ہزار چھیالیس ہزار روپے (1758046) قرض میں ادا کئے۔
(4)والدہ سے چھیاسٹھ ہزار چھ سو چھیاسی روپے (66666) لیکر قرض میں ادا کئے۔
مختصر یہ کہ وہ گھر ہمیں تقریبا تریانوے لاکھ ستتر ہزار تین سو تین سو اٹہتر روپے(9377378) کا پڑا اور اب اس کی مالیت ایک کروڑ دس لاکھ روپے(11000000) ہے اور ہم اس کو اسی قیمت پر بیچ رہے ہیں ۔ہم تین بہنیں ، ایک بھائی اور والدہ ہیں ۔آپ حضرات اس حوالہ سے رہنمائی فرمائیں کہ گھر فروخت ہونے کے بعد جو قرض لیا ہے اس کی واپسی کیسے ہوگی اور باقی بچنے والی رقم تمام ورثاء میں کیسے تقسیم ہوگی؟
تنقیح: (1)سائل نے وہ کاغذات بھیجے جن میں گورنمنٹ کی طرف سے ملنے والی تمام امداد کی تفصیل لکھی تھی۔وہ کاغذات مرحوم کی اہلیہ کے نام سے جاری ہوئے ہیں لیکن ان کاغذات میں تمام فنڈز مثلا کیش گرانٹ ، گروپ انشورنس اور گریجویٹی وغیرہ کے ذکر سے پہلے صراحتا ً یہ لکھا گیا ہے کہ آپ کا کنبہ ان تمام فنڈز کا حقدار ہے اور ہاؤس رینٹ سبسڈی کے ساتھ بھی یہی لکھا گیا ہے کہ مرحوم کے ورثاء اس سبسڈی کے اہل ہونگے۔
(2) قرض کی ادائیگی کے لئے والدہ اور بہن سے جو پیسے لئے گئے وہ ان سے بطور قرض لئے گئے تھے اور میں نے بھی جو اپنے پیسے ساتھ دئے
تھے قرض کی ادائیگی کیلئے تو وہ بھی میں نے قرض کے طور پر دئے تھے اور اپنی والدہ اور بہنوں کو بٹھا کر کہا تھا کہ آپ لوگوں سے جو پیسے لئے گئے ہیں وہ بھی بطور قرض لئے ہیں اور میں جو اپنی رقم دے رہا ہوں قرض کی ادائیگی کیلئے یہ بھی بطور قرض دے رہا ہوں اور آخر میں مجھ سمیت سب کو اپنی اپنی رقم واپس ملے گی جس پر سب نے رضامندی ظاہر کی۔
(3)والد صاحب مرحوم پر نہ کوئی قرض تھا اور نہ انہوں نے اپنی زندگی میں کسی کیلئے کوئی وصیت نہیں کی تھی۔
اگر سوال میں ذکر شدہ تفصیل واقعی حقیقت پر مبنی ہے تو اس صورت میں مذکورہ گھر کی خریداری اور کاغذات بنوانے کی کل رقم تریانوے لاکھ ستتر ہزار تین سو اٹہتر روپے(9377378) میں تقریبا ً 28.62 فیصد رقم (2683817 روپے)والد مرحوم کے ترکہ میں سے استعمال ہوئی ہے،45.88 فیصد رقم(4302182.25 روپے) سرکار کی طرف سے ملنے والے ہدیہ کی رقم میں سے اور 25.50 فیصد(2391378 روپے) قرض کی رقم استعمال ہوئی ہے۔
مذکورہ گھر میں قرض ، ترکہ اور ہدیہ تینوں قسم کی رقم استعمال ہوئی ہیں اور ان تینوں کا حکم الگ الگ ہے،جہاں تک قرض کی رقم ہے تو وہ جس سے جتنا قرض لیا ہے اس کو اتنا ہی واپس کیا جائے گاجبکہ ترکہ کی رقم تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے بقدر تقسیم ہوگی اور سرکار کی طرف سے ملنے والی ہدیہ کی رقم چونکہ تمام ورثاء کیلئے تھی جیسا کہ سوال سے واضح ہے اس لئے وہ تمام ورثاء میں برابر تقسیم ہوگی اس لئے بصورت صحت سوال مذکورہ گھر بیچنے کے بعد جوایک کروڑ دس لاکھ روپے حاصل ہونگے ان میں سب سے پہلے تئیس لاکھ اکیانوے ہزار تین سو اٹہتر روپے(2391378) قرض جوآپ بہن بھائی اور والدہ کی طرف سے دیا گیا تھا وہ قرض منہا کر کےجس نے جتنا قرض دیا ہے اس کو وہ قرض واپس کیا جائے گا اس کے بعد باقی چھیاسی لاکھ آٹھ ہزار چھ سو بائیس روپے(8608622) میں سے مرحوم کی بیوہ کوچودہ لاکھ پچاسی ہزار چھ سو آٹھ روپے(1485608.32) دئے جائیں گے جن میں سے 393526.78روپے ترکہ(میراث) میں سے ہوں گے اور 1092081.54 روپے بطور ہدیہ کے جبکہ مرحوم کے بیٹے کو اکیس لاکھ تریانوے ہزار نو سو چھپن روپے(2193956.53)ملیں گے جن میں سے 1101874.9 روپے ترکہ میں سے ہوں گے اور 1092081.54 روپے بطور ہدیہ کے اور ہر ایک بیٹی کو سولہ لاکھ تریالیس ہزار انیس روپے(1643019.03) ملیں گے جن میں سے 550937.49 روپے ترکہ میں سے ہوں گے اور 1092081.54 روپے بطور ہدیہ دئے جائیں گے۔
نوٹ: سرکار کی طرف سے ملنے والی ہدیہ کی رقم تمام ورثاء کیلئے تھی اس لئے مذکورہ بالا تقسیم میں وہ رقم تمام ورثاء میں برابر تقسیم کی گئی ہے، تاہم اگر تمام شرکاء اپنی مرضی اور رضامندی سے اس کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو اس کی بھی گنجائش ہے۔
قال تبارك و تعالى:
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ.... وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ....الخ
(النساء 12،11)
و في السراجي في الميراث:
و اما لبنات الصلب فاحوال ثلاث...و مع الابن للذكر مثل حظ الانثيين و هو يعصبهن..... الخ
( فصل في النساء ، ص32 ، المكتبة البشرى)
و في البحر الرائق شرح كنز الدقائق:
قال رحمه الله: (وعصبهما الابن وله مثل حظهما) معناه إذا اختلط البنون والبنات عصب
البنات فيكون للابن مثل حظهما فصار للبنات ثلاثة أحوال: النصف للواحدة، والثلثان للاثنين فصاعدا، والتعصيب عند الاختلاط بالذكور.
(كتاب الفرائض، أنواع الحجب ،8/ 563 ، دار الكتاب الإسلامي)
و في الهندية:
التركة تتعلق بها حقوق أربعة. . . . . ثم بالدين وأنه لا يخلو إما أن يكون الكل ديون الصحة أو ديون المرض . . . . . ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين إلا أن تجيز الورثة أكثر
من الثلث ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث . . . . . الخ
(كتاب الفرائض، الباب الأول في تعريف الفرائض،6/ 447 ، دارالفكر)
و في الدر المختار:
(هي) لغة: التفضل على الغير ولو غير مال. وشرعا: (تمليك العين مجانا) أي بلا عوض. . . . الخ
(كتاب الهبة،5/ 687 ، دارالفكر)
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔