نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میری دادی کی پہلی شادی سے صرف ایک بیٹا تھا جو میرے والد تھے۔پھر میرے دادا فوت ہوئے جس کے بعد میرے دادی کی دوسری شادی ہوئی اور اس دوسرے شوہر سے میری دادی کے دو بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئی۔پھر جب دادی فوت ہوئی تو اس وقت اس کے ورثاء میں اس کا دوسرا شوہر، تمام اولاد (ایک بیٹا پہلے شوہر سے جو میرے والد تھے اور دو بیٹے اور ایک بیٹی دوسرے شوہر سے)، اور دو بہنیں زندہ تھیں۔پھر میرے والد صاحب نے بھی دو شادیاں کی۔ایک بیوی سے دو بیٹیاں اور دوسری بیوی جو ہماری سگی ماں تھی اس سے چار بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں یعنی کل ملاکر ہم چار بھائی اور چھ بہنیں ہیں ۔اب سوال یہ ہے کہ ہم بہن بھائیوں کو ہماری دادی کی میراث میں سے حصہ ملے گا یا نہیں اور اگر ملے گا تو کتنا حصہ ملے گا حالانکہ میری دادی کا اپنے والد کی میراث میں جو حصہ بنتا تھا وہ ان کو نہیں دیا گیا کیونکہ دادی کے والد کی میراث جو زمین کی صورت میں تھی وہ زمین ابھی تک تقسیم نہیں ہوئی اور ویسے ہی پڑی ہے کسی کو بھی ابھی تک اس میں سے حصہ نہیں ملا اور دادی کی فوتگی کے وقت اس کے جو ورثاء زندہ تھےجن کا اوپر ذکر ہوچکا ہے(یعنی دوسرا شوہر، تمام اولاد (ایک بیٹا پہلے شوہر سے جو میرے والد تھے اور دو بیٹے اور ایک بیٹی دوسرے شوہر سے)، اور دو بہنیں) ان میں سے اب صرف ایک بیٹا زندہ ہے اور دوسرا بیٹا شادی کے فورا بعد ہی فوت ہوا اور اس کی کوئی اولاد نہیں اور تیسرا بیٹا جو سائل کا باپ تھا وہ بھی فوت ہوچکا ہے جبکہ دادی کی بیٹی (سائل کی پھوپی) کو اس کے شوہر نے قتل کیا تھا اور اس کی بھی کوئی اولاد نہیں تھی اور مذکورہ ورثاء میں پہلے میری دادی کا دوسرا شوہر فوت ہوا ،پھر اس کےدونوں بیٹوں میں سے ایک بیٹا (میرا چچا)اور پھر دادی کی بیٹی (میری پھوپھی)۔اور پوری تفصیل سے بتایا جائے کہ ہمیں صرف اپنی دادی کے حصے سے حصہ ملے گا یا اپنے چچو اور پھوپھی کے حصوں میں سے بھی ملے گا؟
تنقیح:سائل نے فون پہ بتایا کہ اس کی سگی اور سوتیلی مائیں دونوں اپنے شوہر کی حیات ہی میں وفات پاچکی تھیں۔اس کے علاوہ سائل نے یہ بھی بتایا کہ میری دادی کی دو اور بہنیں اور ایک بھائی تھا یعنی پردادا کی ورثاء میں ایک بیٹا اور تین بیٹیاں تھیں اور ان تین بیٹیوں میں ایک میری دادی تھی۔
بصورت مسؤلہ سب سے پہلے تو آپ کے پردادا مرحوم کا ترکہ جو زمین کی صورت میں ہے اس کو پانچ(5) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جن میں سے آپ کی دادی سمیت مرحوم کی تینوں بیٹیوں کو ایک ایک (1،1)حصہ ملے گا جبکہ بیٹےکو دو(2) حصے ملیں گے اس کے بعد آپ کی دادی مرحومہ کو ملنے والے حصے کے مزید اٹھائیس(28) حصے بنائے جائیں گے جن میں سے آپ کے والد مرحوم سمیت دادی کے تینوں بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کے چھ چھ(6،6) حصے بنیں گے اور بیٹی (آپ کے والد کی اخیافی بہن اور آپ کی پھوپھی ) کے تین(3) حصے جبکہ دادی کے شوہر کے سات(7) حصے بنیں گے۔اس کے بعد چونکہ دادی کا دوسرا شوہر بھی فوت ہوچکا ہے اس لئے اس کے سات (7)حصے صرف اس کی حقیقی اولاد( دو بیٹے اور ایک بیٹی جو آپ کے والد کے اخیافی بھائی بہن ہیں ) میں ان کے شرعی حصوں کے بقدر تقسیم ہوں گے ۔اس کے بعد آپ کے فوت شدہ چچا کو اپنی ماں (آپ کی دادی مرحومہ) اور اپنے والد سے ملنے والے حصے میں آپ کے والد مرحوم کا چھٹا حصہ بنے گا اور اسی طرح آپ کی فوت شدہ پھوپھی کے حصے میں بھی آپ کے والد کا چھٹا حصہ بنے گا۔اس کے بعد آپ کے والد مرحوم کا مجموعی حصہ(دادی کی طرف سے ملنے والا حصہ اور اپنے فوت شدہ اخیافی بھائی اور فوت شدہ اخیافی بہن سے ملنا والا حصہ) مزید چودہ حصوں میں تقسیم کر کے آپ چاروں بھائیوں میں سے ہر ایک بھائی کو دو دو(2،2) حصے ملیں گے اور چھ بہنوں میں سے ہر ایک بہن کو ایک ایک(1،1) حصہ ملے گا۔
قال تبارك و تعالى:
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ..... الخ (النساء: 11)
الهندية:
التركة تتعلق بها حقوق أربعة. . . . . ثم بالدين وأنه لا يخلو إما أن يكون الكل ديون الصحة أو ديون المرض . . . . . ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين إلا أن تجيز الورثة أكثر من الثلث ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث . . . . . الخ
(كتاب الفرائض، الباب الأول في تعريف الفرائض،6/ 447 ، دارالفكر)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق:
قال رحمه الله: (وعصبهما الابن وله مثل حظهما) معناه إذا اختلط البنون والبنات عصب
البنات فيكون للابن مثل حظهما فصار للبنات ثلاثة أحوال: النصف للواحدة، والثلثان
للاثنين فصاعدا، والتعصيب عند الاختلاط بالذكور.
(كتاب الفرائض، أنواع الحجب ،8/ 563 ، دار الكتاب الإسلامي)
السراجي في الميراث:
و اما لبنات الصلب فاحوال ثلاث . . . . . . و مع الابن للذكر مثل حظ الانثيين و هو يعصبهن....الخ
( فصل في النساء ، ص32 ، المكتبة البشرى)
الاختيار لتعليل المختار:
والثالث الأخ لأم وله السدس وللاثنين فصاعدا الثلث وإن اجتمع الذكور والإناث استووا في الثلث . . . . .الخ
(كتاب الفرائض ، 5/ 87 ، مطبعة الحلبي - القاهرة)
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔