سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-176 Fatwa no: 1447-176

تین بیٹوں اور تین بیٹوں میں تقسیم میراث

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارا ایک عزیزکچھ عرصہ قبل فوت ہوا جبکہ اس کی اہلیہ اس سے پہلے ہی وفات پاچکی تھی۔مرحوم نے جو جائیداد چھوڑی ہے اس کی شرعی تقسیم کے بارے میں آپ حضرات سے ایک فتوی درکار ہے۔مرحوم کے ورثاء میں اس کے تین بیٹے اور تیں بیٹیاں ہیں۔اس کے علاوہ مرحوم کا کوئی وارث نہیں ہے۔براہِ کرم مرحوم کی میراث کے حوالے سے تحریری فتوی دیکر رہنمائی فرمائیں تاکہ ہر وارث کو اس کا پورقا پورا حق پہنچ سکے اور کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔شکریہ ۔
جواب :

بصورت مسؤلہ سب سے پہلے اگر مرحوم کے ذمے کوئی قرض ہو تو اس کو ترکہ(مرحوم کی تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیداد) سے  ادا کیا جائیگا،اس کے بعد اگر مرحوم  نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو مذکورہ ترکہ کے ایک تہائی میں نافذ کیا جائیگا،اس کے بعداگر سوال میں ذکر شدہ ورثاء کے علاوہ مرحوم  کا کوئی اور وارث نہ ہو تو  مرحوم کے باقی ماندہ ترکہ کے کل نو (9) حصے بنائیں جائیں گے جن میں سے ہر ایک بیٹے کو دو دو حصے جبکہ ہر ایک بیٹی کو ایک ایک حصہ دیا جائے گا۔

قال تبارك و تعالى:
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ .....الخ (النساء: 11)
الهندية:
التركة تتعلق بها حقوق أربعة. . . . . ثم بالدين وأنه لا يخلو إما أن يكون الكل ديون الصحة أو ديون المرض . . . . . ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين إلا أن تجيز الورثة أكثر من الثلث ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث . . . . . الخ
(كتاب الفرائض، الباب الأول في تعريف الفرائض،6/ 447 ، دارالفكر)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق:
قال رحمه الله: (وعصبهما الابن وله مثل حظهما) معناه إذا اختلط البنون والبنات عصب 
البنات فيكون للابن مثل حظهما فصار للبنات ثلاثة أحوال: النصف للواحدة، والثلثان للاثنين فصاعدا، والتعصيب عند الاختلاط بالذكور.
(كتاب الفرائض، أنواع الحجب ،8/ 563 ، دار الكتاب الإسلامي)
السراجي في الميراث:
و اما لبنات الصلب فاحوال ثلاث...و مع الابن للذكر مثل حظ الانثيين و هو يعصبهن..... الخ
( فصل في النساء ، ص32 ، المكتبة البشرى)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 11 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب