سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-177 Fatwa no: 1447-177

تین طلاقیں دینےکے بعد بھی اکٹھے رہنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے شوہر حیدر نے 18 جولائی 2024 کو میرے مغرب کی نماز کا سلام پھیرتے ہی مجھے تین طلاقیں اکٹھی ان الفاظ کے ساتھ دی،"اگر تم نے سبینہ کے ساتھ بات کی تو تم مجھ پر طلاق ہو، اگر تم نے سہیل بھائی جان کیساتھ بات کی تو تم مجھ پر طلاق ہو، اگر تم نے اسلام آباد ٹول پلازہ کراس کیا تو تم مجھ پر طلاق ہو" ۔ پہلی دو شرطیں اسی وقت اور آخری ایک دن بعد پوری ہوگئی تھی ،اس کے علاوہ بھی حیدر نے مجھے کئی دفعہ طلاقیں دی تھی مگر پھر رجوع کرلیا تھا اور ایک بار تو ایسا
جواب :

بصورت مسؤلہ اگرآپ ( بیوی) کا مذکورہ بیان واقعی حقیقت پر مبنی ہے تو اس صورت میں پہلی ہی مرتبہ آپ کے شوہر حیدر کا آپ کو تین طلاقیں (چاہے اکٹھی تھیں یا وقفہ وقفہ سے تھیں) دینے سے آپ پر تین طلاقیں واقع ہوچکی تھیں اور آپ تین طلاقوں سے ساتھ مغلظہ ہوچکی تھی اور اسی وقت سے آپ کو اپنے شوہر سے جدا ہوکر عدت گزارنی چاہئے تھی  لہذا طلاق کے باوجود آپ دونوں جتنا عرصہ میاں بیوی کی حیثیت سے اکھٹے رہ چکے ہیں وہ آپ حرام میں ملوث رہے ہیں اس لئے  اس پر صدق ِ دل سے  خوب توبہ و استغفار کریں اور طلاق کے بعد لا علمی کی وجہ سے  اکٹھے رہنے کی صورت میں بیوی کی عدت آخری  مرتبہ ہمبستری  کے بعد  سے شروع ہوتی ہے لیکن چونکہ آپ دونوں کو جدا ہوئے تقریبا سال مکمل ہونے والا ہے اس لئے آپ کی عدت مکمل ہوچکی ہے اور اب آپ آزاد ہیں جہاں اور جس کے ساتھ چاہیں نکاح کرسکتی ہیں،تاہم  اگر دونوں دوبارہ حلال طریقے سے  ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو اس صورت میں حلالہ شرعیہ ضروری ہے اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ  بیوی طلاق کی عدت مکمل ہونے کے بعد کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے اور دوسرا شوہر حقوقِ زوجیت ادا کرنے کے بعد خود اپنی مرضی سے اس  کو طلاق دے یا اس کا انتقال ہوجائے ،اس کے بعد جب اس کی   عدت مکمل ہوجائے تو  دونوں   ازسر نو  دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ نیا نکاح کرلیں۔
قال تبارك و تعالى:
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ         (البقرة: 230)
و فی الدر المختار وحاشية ابن عابدين:
أما التحليل فقد شدد الشرع في ثبوته، ولذا قالوا: إن شرعيته لإغاظة الزوج عومل بما يبغض حين عمل أبغض ما يباح فلذا اشترطوا فيه الوطء الموجب للغسل بإيلاج الحشفة بلا حائل في المحل المتيقن احترازا عن المفضاة والصغيرة من بالغ، أو مراهق قادر عليه بعقد صحيح لا فاسد ولا موقوف ولا بملك يمين.
(كتاب الطلاق، مطلب في حيلة إسقاط عدة المحلل، 3/ 411 ، دار الفكر)
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛ لأن أهل التأويل اختلفوا في مواضع التطليقة الثالثة من كتاب الله قال بعضهم هو قوله تعالى {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230]
(كتاب الطلاق، الرجعة، 3/ 187 ، دار الكتب العلمية)
و في الرد: 
قلت: ولم أر من صرح بمبدإ العدة في الوطء بشبهة بلا عقد. وينبغي أن يكون من آخر الوطآت عند زوال الشبهة، بأن علم أنها غير زوجته، وأنها لا تحل له إذ لا عقد هنا فلم يبق سبب للعدة سوى الوطء المذكور كما يعلم مما ذكرنا، والله أعلم
(كتاب الطلاق ،باب العدة،3/ 522،دار الفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 14 Mar 2026

واللہ اعلم بالصواب