سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-178 Fatwa no: 1447-178

ٹیکسی ڈرائیور کا سواری کو جوا خانہ لے جانے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک عرب ملک میں ٹیکسی چلاتا ہوں ۔بعض اوقات میں سواری کی تلاش میں ہوتا ہوں تو مختلف جگہوں پر مجھے سواری ملتی ہے اور وہ جوا خانے لے جانے کا کہتی ہے اور اسی طرح جب اس سواری کو جوا خانے لے جاتا ہوں تو ادھر بھی سواری ملتی ہے جو واپس اپنی جگہ لے جانے کا کہتی ہے ۔اب اس حوالے سے آپ رہنمائی فرمائیں کہ کیا اس قسم کو سواری کو جوا خانے لے جانا یا واپس لانا اور ان سے پیسے لینے میرے لئے جائز ہے؟
جواب :

واضح رہے سواری کو جوا خانے لیجانے میں ٹیکسی ڈرائیور کی حیثیت مسبب کی ہوتی ہے اور  مباشر کی موجودگی میں حکم کی نسبت مباشر ہی  کی طرف ہوتی ہےنہ کہ مسبب کی طرف۔
بصورت مسؤلہ جوا کھیلنا فعلِ معصیت ہے جو سواری کا اپنا ذاتی فعل ہے اور اس فعلِ معصیت کا  وہ فاعل مختار ہے،لہذا  آپ کیلئے جوا خانے  سواری لے جانا  اور لانا اور ان سے اجرت لینا جائز توہے البتہ اس سے اجتناب بہتر ہے تاکہ تعاون کا شبہ بھی نہ رہے۔
الفتاوى الهندية:
وإذا استأجر الذمي من المسلم دارا يسكنها فلا بأس بذلك، وإن شرب فيها الخمر أو عبد فيها الصليب أو أدخل فيها الخنازير ولم يلحق المسلم في ذلك بأس لأن المسلم لا يؤاجرها لذلك إنما آجرها للسكنى. كذا في المحيط.. 
(كتاب الإجارة ، الباب السادس عشر ، 4/ 450، دار الفكر)
خلاصة الفتاوي:
كذا في كل موضع تعلق المعصية بفعل فاعل مختار.
(كتاب الاجارة، 3/ 149، رشيدية)
مجمع الضمانات:
إذا اجتمع المباشر والمسبب أضيف الحكم إلى المباشر فلا ضمان على حافر البئر تعديا بما تلف بإلقاء غيره هذه في القاعدة الأخيرة، من الأشباه.
(باب في مسائل الجنايات ، الفصل الثاني ،ص 178، دار الكتاب الإسلامي)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 11 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب