نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرے دادا ، میرے چچا اور میرے والد صاحب ایک ہی گھر میں رہتے تھے،والد صاحب نوکری کرتے تھے اور چچا کو میرے دادا نے ایک زمین دار کے ساتھ لگایا تھا جو اس کے جانور وغیرہ کی دیکھ بھال کرتا تھا اور چونکہ سب اکٹھے رہتے تھے اس لئے والد صاحب اور دادا جو کماتے تھے ان سے دادا گھر کے اخراجات چلاتے تھے اور چچا جس زمین دار کے ساتھ کام کرتا تھا اس کی کوئی تنخواہ تو نہیں تھی لیکن دادا نے اس زمین دار سے بات کی تھی کہ اس کے کام کے بدلہ ہم آپ سے تھوڑی زمین لے لیں گے۔لہذا ایسا ہی ہوا کہ دادا نے پھر اس زمین دار سے ایک کنال زمین لے لی اور اس کی قیمت وہی چچا کا اسکے جانوروں کی خدمت میں سے کٹی۔ پھر اس کے بعد میرے داد انے اس ایک کنال زمین میں چار دیواری بنائی اور اس کے ایک کونے میں تھوڑی آبادی کی اور سارے یعنی دادا،چچا اور والد صاحب(اس وقت تک والد صاحب اور چچا کی شادی نہیں ہوئی تھی) ادھر ہی رہنے لگے اور اب تک جس جگہ میں رہ رہے تھے وہ چھوٹی ہونے کی وجہ سے خالی کر دی۔اس کے بعد میرے والد صاحب کی شادی ہونی تھی تو ان کو میرے دادا نے اسی زمین کے دوسرے کونے میں ایک کمرہ بناکر دیا یعنی وہ زمین جو کہ خریدی گئی تھی پہلے تو اس کے ایک کونہ میں دادا نے تھوڑی آبادی کی تھی اور خود اپنے بچوں یعنی میرے والد صاحب اور میرے چچا سمیت رہتے تھے لیکن جب میرے والد صاحب کی شادی کرانی تھی تو اس کے لئے میرے دادا نے اسی زمین کے دوسرے کونے میں کمرہ بنایا گویا اس چاردیواری کے اندر ایک طرف میرے والد صاحب کا کمرہ تھا اور درمیان میں خالی جگہ تھی اور دوسری طرف وہی آبادی تھی جو دادا نے کی تھی اور جس میں پہلے سب اکٹھے رہتے تھے۔اس کے بعد میرے دادا نے یہ زمین دونوں بیٹوں یعنی میرے والد اور چچا میں تقسیم کی اور دونوں کو 10 ۔ 10 مرلہ دے دیا،یعنی میرے والد صاحب کو وہ والا حصہ دے دیا جس میں ان کے لئے کمرہ بناکردیا تھا جس میں والد صاحب شادی کے بعد رہنے لگے جبکہ وہ حصہ جس میں وہ خود رہتے تھے وہ میرے چچا کو دے دیا۔اس کے بعد میرے والد صاحب نے دادا کی زندگی میں اپنے حصہ میں باقی تو کوئی تعمیر نہیں کی لیکن کبھی اگر دیوار وغیرہ گر جاتی تو وہ خود بناتے تھے۔
اس زمین کے علاوہ وہ پہلا گھر جس میں دادا اپنے بچوں کے ساتھ رہتے تھے بعد میں دادا نے وہ بھی اپنے دونوں بیٹوں (میرے والد اور چچا) میں تقسیم کی اور اس میں بھی میری پھوپھیوں کو کوئی حصہ نہیں دیا۔
میرے والد صاحب کے حصہ میں جو 10 مرلہ جگہ آئی تھی جس میں ایک ہی کمرہ تھا وہ اسی میں رہتے تھے اور چونکہ ہم بھی دو بھائی ہیں اس لئے والد صاحب نے اسی ایک کمرہ میں رہتے ہوئے اس زمین کے دوسرے کونے میں آبادی کی اور جب آبادی مکمل ہوگئی تو وہ اور میرا بھائی اسی آبادی میں چلے گئے اور وہ ایک کمرہ میرے لئے چھوڑ دیا اور پھر میرے والد نے وہ 10 مرلہ جگہ تقسیم کر کے 5 مرلہ مجھے دے دی اور 5 مرلہ میرے دوسرے بھائی کو حالانکہ میرے والد صاحب اسی حصہ میں رہتے تھے جو دوسرے بھائی کو دی تھی ۔میں نے اپنے حصہ میں والد صاحب کی زندگی ہی میں مزید تعمیر کی اور درمیان میں دیوار بھی کھڑی کی ۔
نہ ہمارے دادا نے اپنی بیٹیوں کو اپنی زمین میں حصہ دیا بلکہ وہ صرف اپنے دو بیٹوں میں تقسیم کی اور نہ میرے والد صاحب نے اپنی زمین میں اپنی بیٹیوں کو حصہ دیا بلکہ انہوں نے بھی صرف ہم بیٹوں میں ہی تقسیم کی۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ میرے والد صاحب فوت ہوچکے ہیں اور میرے حصہ میں جو زمین آئی ہے جس پر میں نے والد صاحب کی زندگی میں گھر بنایا اس میں میرے ساتھ میری پھوپھیوں اور میری بہنوں کا حصہ بنتا ہے یا نہیں اور اگر بنتا ہے تو چونکہ وہ صرف 5 مرلہ جگہ ہے جو سب میں تقسیم تو نہیں ہوسکتی اس لئے مجھے ان کو ان کے حصے کی رقم ہی دینی ہوگی اس لئے مجھے موجودہ ریٹ کے اعتبار سے ان کو قیمت دینی ہوگی یا اس وقت کے اعتبار سے؟
بصورت مسؤلہ چونکہ آپ کے والد صاحب مرحوم نے آپ کو اپنی زندگی میں مذکورہ جگہ پر قبضہ دیا تھا اور آپ نے ان کی زندگی ہی میں اس جگہ میں مزید تعمیر بھی کی تھی اس لئے اس حصہ میں ہبہ تام ہوچکا ہے اور وہ جگہ صرف آپ کی ہے جس میں آپ کی بہنوں اور آپ کی پھوپھیوں کا آپ کے ساتھ کوئی حق نہیں۔
اپنی زندگی میں جائیداد تقسیم کرتے وقت آپ کے دادا اور آپ کے والد صاحب مرحوم پر لازم تھا کہ اپنے بیٹوں کے ساتھ ساتھ اپنی بیٹیوں کو بھی کچھ حصہ دے دیتے لیکن اپنی بیٹیوں کو اس طرح محروم کر کے انہوں نے اپنی بیٹیوں کے ساتھ ظلم کیا جس کے بارے میں وہ آخرت میں جواب دہ ہونگے لیکن ان کے اس فعل کی وجہ سے آپ کے حصہ پر کوئی فرق نہیں پڑتا ،وہ حصہ اکیلے آپ کا ہے البتہ اگر آپ اپنی بہنوں کی دل جوئی کیلئے اور اپنے والد کی آخرت بنانے کیلئےان کو اپنے حصہ میں سے تھوڑی رقم دے دیں تو یہ اخلاقی طور پر اچھا اور باعثِ اجر ہوگا۔
في صحيح البخاري:
عن النعمان بن بشير، أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاما، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله»، قال: لا، قال: «فارجعه»
(كتاب الهبة ، باب الهبة للولد ، 3/ 157، دار طوق النجاة)
و في شرح المجلة:
تنعقد الهبة بالايجاب والقبول، وتتم بالقبض الکامل، لانها من التبرعات،والتبرع لايتم الا بالقبض الكامل في المنقول ما يناسبه ....الخ
(الكتاب السابع في الهبة ، الباب الاول ،المادة 837 ، 1/ 367 ، مكتبة رشيدية)
و في الدر:
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها .... الخ
(كتاب الهبة،5/ 690 ، دار الفكر)
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في النحلى لقوله سبحانه وتعالى {إن الله يأمر بالعدل والإحسان}.... لما روي أن بشيرا أبا النعمان أتى بالنعمان إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال إني نحلت ابني هذا غلاما كان لي فقال له رسول الله - صلى الله عليه وسلم - كل ولدك نحلته مثل هذا فقال لا فقال النبي - عليه الصلاة والسلام - فأرجعه وهذا إشارة إلى العدل بين الأولاد في النحلة وهو التسوية بينهم ولأن في التسوية تأليف القلوب والتفضيل يورث الوحشة بينهم فكانت التسوية أولى ولو نحل بعضا وحرم بعضا جاز من طريق الحكم لأنه تصرف في خالص ملكه لا حق لأحد فيه .... الخ
(كتاب الهبة، فصل في شرائط ركن الهبة ، 6/ 127، دار الكتب العلمية)
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔