سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-180 Fatwa no: 1447-180

جنونی حالت میں دی ہوئی طلاق کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرا بیٹا حامد جو کہ عرصہ دراز سے دماغی مریض ہے اور اس کا مجنون ہونا علاقہ و خاندان میں مشہور و معروف ہے اور جب بھی حالت جنون کی کیفیت میں اضافہ ہوتا ہے تو وہ  گھر کے تمام افراد کے ساتھ لڑتا جھگڑتا بھی ہے حتی کہ کئی مرتبہ میرے ساتھ بھی دست و گریباں ہو چکا ہے بلکہ ایک مرتبہ متعلقہ تھانے میں ہمارے خلاف (والدین اور بہن بھائیوں ) رپورٹ بھی درج کروائی ۔بہرحال علاج جاری رہا جب افاقہ ہوا تو روزگار کے سلسلے میں دبئی بھیج دیا ،دبئی جانے کے بعد جب دوائیوں کا استعمال چھوڑا تو پھر کیفیت ایسی بن گئی کہ نفع و نقصان کی تمیز تک نہ رہی اور تقریبا آٹھ لاکھ روپے کا نقصان کر کے ویزا ختم کر کے پاکستان واپس آگیا۔
پاکستان آنے کے بعد جنونی کیفیت میں مزید اضافہ ہوتا چلا گیا اور نوبت یہاں تک آئی کہ ضلع مانسہرہ کے علاقہ میں ایک  مشہور پاگلوں کے ہسپتال  میں داخل کروانا پڑا اور اس کے علاوہ مانسہرہ  اور ایبٹ آباد کے مشہور و معروف ڈاکٹروں سے بھی علاج جاری رکھا  اور ان کی طرف سے جاری کردہ مجنون ہونے کی تمام تصدیقات اور سرٹیفیکیٹ اصلی حالت میں ہمارے پاس موجود ہیں اور اسی کیفیت کے دوران کئی بار اپنی بیوی کو بھی کہتا رہا کہ میں تجھے نہیں رکھتا تو چلی جا یہاں کیا کرتی ہے اور اپنی والدہ سے بھی کہتا رہا کہ اس کو گھر میں کس لیے رکھا ہے میں نے تو اس کو چھوڑا ہوا ہے مگر جب افاقہ ہوتا تو اپنے تمام اقوال و افعال سے انکاری ہو جاتا اور کہتا کہ مجھے تو کوئی علم نہیں ہے کہ میں نے کیا کہا ہے اور کیا کیا ہے۔
اب لڑکی والوں کا یہ کہنا ہے کہ حامد کا یہ جنون شرعا ًمعتبر نہیں ہے اور طلاق واقع ہو چکی ہے اور وہ کسی مدرسے کا حوالہ دے کر طلاق کو ثابت کرتے ہیں کہ انہوں نے فتوی میں یہ تحریر کیا ہے کہ پاگل اور مجنون وہ ہوتا ہے جو زمین کو آسمان اور آسمان کو زمین کہتا ہو اس کے علاوہ کو شرعا ًمجنون نہیں کہا جاتا لہذا اب مجھے شریعت مطہرہ کی روشنی میں بتایا جائے کہ حامد کی مذکورہ بالا کیفیت جنون کے ثبوت کے لیے معتبر ہوگی یا نہیں اور ایسی حالت میں حامد کے مذکورہ الفاظ سے طلاق بھی واقع  ہوگی یا نہیں؟

جواب :

بصورت مسؤلہ  اگر آپ کا سوال حقیقت پر مبنی ہے اور واقعی حامد کا مجنون ہونا خاندان و علاقہ میں مشہور و معروف ہے جیسا کہ آپ نے سوال میں ذکر کیا ہے تو اس صورت میں اگر  حامد حلفیہ بیان دے دے کہ مذکورہ الفاظ "  تو چلی جا "  اور "میں نے تو اس کو چھوڑا ہوا ہے" وغیرہ کہتے ہوئے وہ اسی  جنونی کیفیت میں تھا تو مذکورہ الفاظ سےاس کی بیوی کو کوئی طلاق نہیں ہوئی  اور وہ دونوں بدستور میاں بیوی ہیں۔
الاختيار لتعليل المختار:
ومن يجن ويفيق ففي حال جنونه له أحكام المجانين، وفي حال إفاقته أحكام العقلاء. . . . .الخ
(كتاب السير، فصل المرتد، 4/ 149 ، مطبعة الحلبي - القاهرة)
الدر المختار:
وقال في الخيرية:غلط من فسره هنا بالتحير، إذ لا يلزم من التحير وهو التردد في الأمر ذهاب العقل. وسئل نظما فيمن طلق زوجته ثلاثا في مجلس القاضي وهو مغتاظ مدهوش، أجاب نظما أيضا بأن الدهش من أقسام الجنون فلا يقع، وإذا كان يعتاده بأن عرف منه الدهش مرة يصدق بلا برهان. اهـ.
(كتاب الطلاق، مطلب في طلاق المدهوش ، 3/ 244 ، دار الفکر)
الفتاوى تنقيح الحامدية:
(سئل) في رجل حصل له دهش زال به عقله وصار لا شعور له لأمر عرض له من ذهاب ماله وقتل ابن خاله فقال في هذه الحالة يا رب أنت تشهد على أني طلقت فلانة بنت فلان يعني زوجته المخصوصة بالثلاث على أربع مذاهب المسلمين كلما حلت تحرم فهل لا يقع طلاقه؟
(الجواب) : الدهش هو ذهاب العقل من ذهل أو وله وقد صرح في التنوير والتتارخانية وغيرهما بعدم وقوع طلاق المدهوش فعلى هذا حيث حصل للرجل دهش زال به عقله وصار لا شعور له لا يقع طلاقه والقول قوله بيمينه إن عرف منه الدهش وإن لم يعرف منه لا يقبل قوله قضاء إلا ببينة كما صرح بذلك علماء الحنفية رحمهم الله تعالى.
(كتاب الطلاق و مطالبه ، 1/ 38، رشيدية)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب