سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-181 Fatwa no: 1447-181

جھوٹے دعوے کی بنیاد پر لی گئی عدالتی خلع کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک لڑکے کی شادی ہوئی اور شادی کے بعد اس کی بیوی تقریبا ً چار سال تک اس کے پاس رہی اور اس بیوی سے اس کی ایک بیٹی بھی پیدا ہوئی۔پھر کسی وجہ سے لڑکی کے والدین  لڑکی کو گھر لے گئے اور لڑکی کو  عدالت کے ذریعے خلع لینے پر مجبور کیا لیکن لڑکی چونکہ ان پڑھ تھی لکھنا پڑھنا نہیں جانتی تھی اس لئے گھر والے اس کو کچھ اور بتا کر عدالت لے گئے اور ادھر انہوں  نے نان نفقہ نہ دینے کی بنیاد پر خلع کا کیس دائر کیا اور اس وقت پھر انہوں نے لڑکی کو بتایا کہ ہم اس طرح خلع کیلئے عدالت آئے ہیں اور تم ان کاغذات پر انگوٹھا لگاؤ۔لڑکی نے  نہ چاہتے ہوئے گھر والوں کے ہاتھوں مجبور ہوکر خلع کے کاغذات پر انگوٹھا لگایا۔اس کے بعد عدالتی ترتیب کے مطابق لڑکے کو  تین مرتبہ سمن وصول ہوا لیکن وہ  ایک مرتبہ بھی عدالت میں حاضر نہیں ہوا جس کے بعد عدالت نے خلع کی ڈگری جاری کردی۔خلع کے بعد سے لڑکی کو تقریبا ً دو سال ہوچکے ہیں والدین کے گھر میں بیٹھے ہوئے اور اب اس کیلئے رشتے آنا بھی شروع ہوچکے ہیں لیکن لڑکی رشتہ سے انکار کرتی ہے اور یہی کہتی ہے کہ میں فلاں کی  منکوحہ ہوں اور کہتی ہے کہ نہ میں نے اپنے شوہر سے خلع لیا اور نہ اس نے مجھے خلع دیا ہے اور اپنے شوہر سے وہ یہی کہتی ہے کہ آکر مجھے اپنے ساتھ لے جاؤ۔
اب پوچھنا یہ ہے  کہ عدالتی خلع کی شرعا ً کوئی حیثیت ہے یا نہیں ؟ اگر شرعاً اس کی کوئی حیثیت ہے تو کیا ہر عدالتی ڈگری شرعا معتبر ہوگی؟ تیسرا یہ کہ یہ  لڑکی اب بھی اس لڑکے کی نکاح میں ہے یا نہیں عدالت نے جو خلع کی ڈگری جاری کردی ہے اس کی بنیاد پر ان دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے؟
تنقیح: لڑکی جب تک اپنے شوہر کے گھر میں تھی تب تک شوہر کی طرف سے اس کو نان و نفقہ ملتا تھا،یعنی نان و نفقہ کا کوئی مسئلہ نہیں تھا مگر لڑکی گے گھر والوں نے خلاف واقع نان نفقہ نہ دینے کی بنیاد پر خلع کا کیس دائر کیا۔

جواب :

واضح رہے کہ مروّجہ عدالتی خلع کو عام طور پر خلع کہا جاتا ہے لیکن وہ درحقیقت فسخ ِ نکاح ہوتا ہے اور شریعتِ مطہرہ کی تعلیمات کے مطابق قاضی کو تنسیخ نکاح کا اختیار صرف اس صورت میں حاصل ہوتا ہے کہ یا تو  شوہر نامرد ہو ،یا وہ اپنی بیوی  کو ظلماً ناقابل برداشت مارتا پیٹتا ہو ،یا شوہرمتعنت ہو یعنی  باوجود قدرت کےبیوی کو نان و نفقہ نہ دیتا ہو ،یا شوہر مفقود ہو اور یا وہ غائب غیر مفقود ہواور بیوی نے بھی انہیں وجوہات میں سے کسی ایک  کو بنیاد بناکر خلع  کا کیس دائر کیا ہواور قاضی نے تنسیخ نکاح کے تمام تقاضے (شوہر  کو سمن بھیجنا اور  بیوی کے حقوق ادا کرنے کیلئے آمادہ کرنے کی کوشش کرنا وغیرہ)پورے کئے ہوں، بصورت دیگر عدالتی خلع شرعا معتبر نہیں۔
بصورت مسؤلہ اگر سوال میں مذکورہ تفصیل واقعی درست ہے اور بیوی  کو شوہر کی طرف سے ٹھیک ٹھاک نان نفقہ ملتا تھا تو اس صورت میں عدالت سے جاری شدہ خلع کی ڈگری کا شرعا ً کوئی اعتبار نہیں کیونکہ اس ڈگری کیلئے  خلافِ واقع چیز کو بنیاد بناکر خلع کا کیس دائر کیا گیا تھا  جبکہ عدالتی خلع کا شرعا ً معتبر ہونے کیلئے ضروری ہے کہ خاوند میں مذکورہ بالا چیزیں(نامردی ،مار پیٹ اور تعنت وغیرہ) حقیقت میں  موجود ہوں،لہذا مذکورہ لڑکا اور لڑکی کا نکاح ابھی تک  برقرار ہے اور وہ دونوں آپس میں میاں بیوی ہیں اور جب تک لڑکا اپنی اس بیوی کو طلاق نہ دے  یا اس سے خلع نہ لے لے تب تک اس لڑکی کا کسی دوسرے مرد سے  نکاح منعقد نہیں ہوسکتا،اس لئے لڑکی کے گھر والوں کو چاہیے کہ اپنی لڑکی پر ظلم کر کے اس کاگھر اجاڑنے اور اپنی آخرت برباد کرنے سے بعض آجائیں اور لڑکی کواپنے شوہر کے پاس بھیج دیں تاکہ وہ دونوں اپنے گھر آباد کرسکیں۔
في الدر المختار وحاشية ابن عابدين:
(قوله: وشرطه كالطلاق) . . . . . . وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول. . . الخ
(كتاب الطلاق ، باب الخلع ، 3/ 441 ، دار الفكر)
و في الفتاوي الهندية:
الخلع إزالة ملك النكاح ببدل بلفظ الخلع كذا في فتح القدير وقد يصح بلفظ البيع والشراء وقد يكون بالفارسية كذا في الظهيرية(وشرطه) شرط الطلاق(وحكمه) وقوع الطلاق البائن كذا في التبيين.
(كتاب الطلاق ، الباب الثامن في الخلع ، 1/ 488 ، دار الفكر)
أحكام الأحوال الشخصية في الشريعة الإسلامية:
وأما القاضي فلا يطلق الزوجة بناء على طلبها إلا في خمس حالات: التطليق لعدم الإنفاق، والتطليق للعيب، التطليق للضرر، والتطليق لغيبة الزوج بلا عذر، والتطليق لحبسه. 
(الطلاق، الحالات التي يطلق فيها القاضي، ص 165 ، دار الكتب المصرية بالقاهرة)
الدر المختار:
(قوله: وإلا بانت بالتفريق) لأنها فرقة قبل الدخول حقيقة، فكانت بائنة ولها كمال المهر وعليها العدة لوجود الخلوة الصحيحة بحر (قوله: من القاضي إن أبى طلاقها) أي إن أبى الزوج لأنه وجب عليه التسريح بالإحسان حين عجز عن الإمساك بالمعروف، فإذا امتنع كان ظالما فناب عنه وأضيف فعله إليه.
(كتاب الطلاق، باب العنين، 3/ 498 ، دار الفکر)                                                                                                                                                                                                                

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب