سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-182 Fatwa no: 1447-182

چار ماه سے قبل ضائع ہونے والے حمل كے بعد آنے والے خون كا حكم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری گھر والی کا حمل ضائع ہوا جو تقریبا دو یا تین مہینے کا تھا اور اس کو مسلسل خون جاری ہے ۔اب آپ حضرات اس حوالہ سے رہنمائی فرمائیں کہ یہ جو خون جاری ہے یہ نفاس کا خون شمار ہوگا یا حیض کا کیونکہ میرے ایک ساتھی نے مجھے بتایا کہ یہ خون نفاس کا نہیں کیونکہ دو ، تین مہینے کا حمل ضائع ہونے سے جو خون بہتا ہے وہ نفاس کا نہیں ہوتا۔تو اب اگر یہ نفاس کا خون نہیں تو یہ کونسا خون ہے اور اس خون کے بہتے ہوئے نماز اور روزوں کا کیا حکم ہے؟
جواب :

حمل اگر خلقت  ظاہر  ہونے کے بعد ضائع ہوجائے یعنی اس کے اعضاء کچھ نہ کچھ بن چکے ہوں اگرچہ  چند ہی اعضاء ہوں اور متفرق ہی کیوں نہ ہوں  تو اس صورت میں اس کے بعد آنے والا خون نفاس ہوگا اور فقہاء ِکرام نے حمل کی خلقت ظاہر ہونے کی مدت چار ماہ لکھی ہے لہذا اگر حمل  چار ماہ یا اس کے بعد ضائع ہوجائے تو اس صورت میں اس کے بعد آنے والا خون نفاس ہوتا ہے لیکن اگر چار ماہ سے پہلے حمل ضائع ہوجائے اگرچہ خون کا لوتھڑا ہی کیوں نہ ہو  تو اس صورت میں بعد میں آنے والا خون نفاس نہیں بلکہ حیض شمار ہوگا بشرطیکہ حمل ضائع ہونے کے بعد وہ خون کم از کم تین دن جاری رہے اور اس خون سے پہلے عورت ایک طہر کامل گزار چکی ہو یعنی اس خون سے پہلے کے پندرہ دنوں  میں اس کو خون نہ آیا ہو، بصورت دیگر وہ استحاضہ کا خون ہوگا۔
بصورت مسؤلہ چونکہ آپ کی اہلیہ کا حمل چار ماہ مکمل ہونے سے پہلے  ضائع ہوچکا ہےاور  سوال سے واضح ہے کہ   خون بھی مسلسل جاری  ہے اور آپ کی اہلیہ اس موجودہ خون سے پہلے طہر کامل بھی گزار چکی ہے لہذا موجودہ خون حیض  ہے  اور اس خون کے جاری رہتے  وہ نہ ابھی  نماز نہیں پڑھے گی اور نہ ہی بعد میں اس کی قضاء کرے گی،تاہم اگر یہ خون دس دن سے تجاوز کرجائے تو اس صورت میں پہلے دس دن حیض کے شمار ہوں گے جبکہ باقی کے دن استحاضہ کے شمار ہوں گے اور اس صورت میں(یعنی اگر خون دس دن سے تجاوز کر جائے) پھر آپ کی اہلیہ ہر نماز کے وقت کیلئے وضو کرے گی اور اس وقت میں جتنے چاہے فرائض ،  نوافل اور باقی عبادات کرسکتی ہیں  لیکن وقت ختم ہوتے ہی اس کا وضو  خود بخود ٹوٹ جائے گا اور اگلے وقت کی عبادت کیلئے اس کو دوبارہ وضو کرنا ہوگا۔
نوٹ:آپ کا سوال چونکہ موجودہ دنوں کے حوالہ سے تھا اس لئے اسی کے مطابق جواب دیا گیا ہے لیکن اگر ایسی کوئی صورت  رمضان میں پیش آئے تو اس صورت میں عورت حیض کے دنوں میں روزے نہیں رکھے گی اور بعد میں اس کی قضاء کرے گی جبکہ استحاضہ کے دنوں میں روزے رکھے گی۔
في الدر المختار:
أي مسقوط (ظهر بعض خلقه كيد أو رجل) أو أصبع أو ظفر أو شعر، ولا يستبين خلقه إلا بعد مائة وعشرين يوما (ولد) حكما (فتصير) المرأة (به نفساء والأمة أم ولد ويحنث به) في تعليقه وتنقضي به العدة، فإن لم يظهر له شيء فليس بشيء، والمرئي حيض إن دام ثلاثا وتقدمه طهر تام وإلا استحاضة  . . . .الخ
(كتاب الطهارة ،باب الحيض ،1/ 302، دار الفكر) 
و في الفتاوى الهنديه:
والسقط إن ظهر بعض خلقه من أصبع أو ظفر أو شعر ولد فتصير به نفساء. هكذا في التبيين وإن لم يظهر شيء من خلقه فلا نفاس لها فإن أمكن جعل المرئي حيضا يجعل حيضا وإلا فهو استحاضة.
 (كتاب الطهارة ، الباب السادس ،1/37 ، دار الفكر)
و في البناية: 
(والسقط) ش: بالحركات الثلاث في السين م: (الذي استبان) ش: أي ظهر م: (بعض خلفه ولد) ش: وارتفاع ولد على أنه خبر للمبتدأ، أعني قوله - والسقط - وبعض خلقه كالأصبع والشعر والظفر م: (حتى تصير المرأة به) ش: أي بالسقط م: (نفساء وتصير الأمة أم ولد به وكذا العدة تنقضي به) ش: أما في أمومية الولد إذا وجد الدعوة من المولى. وأما انقضاء العدة ففي تعليق الطلاق بالولادة لأنه ولد ولأنه ناقص الخلقة، ونقصان الخلقة لا يمنع ثبوت أحكام الولد كما لو ولدت ولداً ليس له بعض أطرافه، فإن لم يظهر شيء من خلقه فلا نفاس لأن هذه علقة أو مضغة فلم يكن الدم الذي عنه نفاساً، ولكن أن أمكن جعله المرئي من الحيض وسمي الدم حيضاً بأن تقدمه طهر تام جعل حيضها إن كان ثلاثة أيام وإلا فهو استحاضة..
(كتاب الطهارة ، فصل في النفاس ،689/1، دار الكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 11 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب