سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-18 Fatwa no: 1447-18

ایک مدرسے کی رقم کودوسرے میں صرف کرنےکاشرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے کہ آدمی نے کسی صاحب ِثروت کوکسی مدرسےکی ویڈیو دکھاکرچندہ کی درخواست کی،اس نےپچاس ہزار روپےچندہ دیا،چندہ وصول کرنے کےبعد شخص مذکور نےتیس ہزار روپے اسی مدرسہ میں دےدئے،جبکہ دس ہزار روپے ایک زیرتعمیر مسجد میں ، جبکہ پانچ پانچ ہزار دو اور مدرسوں میں دیناچاہتاہے،تو کیا شرعا اس کی اجازت ہے؟وضاحت فرمائیں۔
جواب :

واضح رہے کہ  جو آدمی  کسی ایک مصرف کوخاص کرکےاس کےلئے کوئی چیز وقف کرے،تو واقف کی نیت کی رعایت رکھناضروری ہے۔بصورت مسئولہ جب شخصِ مذکورنےچندہ دینےوالےکوایک خاص مدرسےکی  ویڈیو دکھا کرچندہ وصول کیا ہے،تو اب اسی مدرسے میں خرچ کرناضروری ہے،کیونکہ چندہ دینےوالےنے مذکورہ مدرسے کی ضرورت کو پیشِ نظر رکھ چندہ دےدیاہے،لہذا اس چندے کودوسرے مدرسے یامسجد کودینا درست نہ ہوگا،تاہم اگرچندہ دینے والے سے اجازت لی جائے،تو پھرمذکورہ چندے کودوسرے مصرف میں بھی استعمال کرناجائز ہے
في حاشية ابن عابدين :الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره فتأمل (كتاب الزكاة:2/ 269:دارالفكر)
وفيه ايضا: على أنهم صرحوا بأن مراعاة غرض الواقفين واجبة(مطلب مراعاة غرض الواقفين واجبة:4/445:ط:بیروت
والله اعلم بالصواب

Mufti

تاریخ جواب: 24 Feb 2026

تاریخ اشاعت: 25 Feb 2026

واللہ اعلم بالصواب