نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرا نکاح بیرون ملک میں ایک لڑکی سے ہوا جس کے ساتھ میرا پہلے سے تعلق چلا آرہا تھا،ہم آپس میں نکاح کرنا چاہتے تھے لیکن اس وقت حالات ایسے تھے کہ اگر ہم اپنے گھر والوں کو بتاتے تو وہ لوگ کبھی اس نکاح کیلئے راضی نہ ہوتے اس لئے ہم نے گھر والوں کو بتائے بغیر آپس میں نکاح کرنے کا فیصلہ کیا ۔لڑکی نے مجھے اپنے نکاح کا اختیار دیا جس کی صورت یہ تھی کہ اس نے مجھے وائس نوٹ کے ذریعے یہ کہا کہ "میں اپنے نکاح کے تمام اختیارات میر عبد اللہ کو دیتی ہوں اور میں اس کو اپنے شوہر کے طور پر قبول کرتی ہوں"۔ میں اپنی مسجد کے امام کے پاس چلا گیا اور ان کو بتایا کہ میں نے اس طرح نکاح کرنا ہے اور ان کو مذکورہ وائس نوٹ بھی سنایا۔انہوں نے مذکورہ وائس نوٹ سن کر میرا نکاح اس طرح پڑھایا کہ "عفاف بنت احسان اللہ نے اپنے نکاح کا اختیار آپ کے ہاتھ میں دیا ہے کیا آپ ان کو اپنے نکاح میں قبول کرتے ہیں " جس کے جواب میں میں نے کہا کہ " ہاں میں میر عبد اللہ بن مطلوب ، عفاف بنت احسان اللہ کو اپنے نکاح میں قبول کرتا ہوں"۔ یہ نکاح دو گواہوں کی موجودگی میں ہوا۔اس نکاح کو ہوئے چند سال گزر چکے ہیں لیکن ہمارے گھر والوں کو ابھی تک اس کا علم نہیں اور ہم دونوں تنہائی میں مل بھی چکے ہیں بلکہ چند دن ایک ساتھ گزار چکے ہیں ۔اب آپ حضرات سے اس بارے میں رہنمائی درکار ہے کہ کیا میرا نکاح شرعی طریقے سے ٹھیک ہوچکا ہے نا؟یعنی شرعا اس میں کوئی چیز ناجائز تو نہیں؟
شادی بیاہ درحقیقت اگرچہ دو بندوں کا آپس میں نکاح کے بندھن میں بندھنے کا نام ہے لیکن اسلامی معاشرے کے اقدار کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ دو خاندانوں کے ملاپ کا ذریعے ہوتا ہے اور نکاح اگرچہ میاں بیوی یا ان کے وکلاء کا گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرنے سے منعقد ہوجاتا ہے لیکن بڑوں کی رضامندی کے خلاف چھپ کر نکاح کرنا شرعا ً ،عرفا ً اور اخلاقا ً بھی ناپسندیدہ عمل ہے،شرعی تعلیمات کے مطابق نکاح اپنے بڑوں کی رضامندی سے اور علی الاعلان ہونا چاہیے کیونکہ دونوں خاندانوں کے بزرگوں کی موجودگی اور ان کی دعاؤں سے نکاح بابرکت ہوجاتا ہے اس لئے حالات چاہے جیسے بھی ہوں بجائے اپنے بڑوں سے چھپ کر نکاح کرنے کے علی الاعلان نکاح کرنا زیادہ مناسب اور شرعی تعلیمات کے مطابق ہے۔
بصورت مسؤلہ چونکہ گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول ہوا ہے اس لئے آپ کا نکاح شرعا ً درست ہے۔
في مسند البزار:
عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ : أَعْلِنُوا النِّكَاحَ ، وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالْغِرْبَالِ يَعْنِي الدُّفَّ.
(مسند عبد الله بن الزبير رضي الله عنهما ، 1/347 ، غیر مطبوع)
و في الدر المختار:
( وينعقد ) ملتبسا ( بإيجاب ) من أحدهما ( وقبول ) من الآخر ( وضعا للمضي ) لأن الماضي أدل على التحقيق ( كزوجت ) نفسي أو بنتي أو موكلتي منك . . . . . . ( و ) شرط ( حضور ) شاهدين ( حرين ) أو حر وحرتين ( مكلفين سامعين قولهما معا ) على الأصح ) فاهمين )
(كتاب النكاح ، 3/21-9 ، دار الفكر)
و فيه ايضا:
( كما للوكيل ) الذي وكلته أن يزوجها من نفسه فإن له ( ذلك ) فيكون أصيلا من جانب وكيلا من آخر ( بخلاف ما لو وكلته بتزويجها من رجل فزوجها من نفسه )
(كتاب النكاح ، باب الكفائة ، 3/98 ، دار الفكر)
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔