نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
عورتوں کے بارے میں یہ تو سنا ہے کہ جب ان کے حیض کے دن چل رہے ہوں تو اس دوران ان کیلئے تلاوت کرنا جائز نہیں سوائے ان آیات کے جو دعا پر مشتمل ہوں اور ان کو بھی دعا ہی کے نیت سے پڑھنا جائز ہوگا نہ کہ تلاوت کی نیت سے۔اب ایک مسئلہ سامنے آیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک عورت کو جنات کا مسئلہ ہے اور جنات اس کو کافی تکلیف دیتے رہتے ہیں ۔ایک عامل کے پاس علاج کروانے لئے گئے ۔وہ عامل کچھ معمولات دیتا ہے جس میں سورۃ مزمل، آیت الکرسی اور اس کے علاوہ اور بھی کچھ سورتیں شامل ہیں۔اب جب تک وہ عورت ان اعمال کی پابندی کرتی ہے تب تک تو وہ جنات کے حملوں سے محفوظ رہتی ہے لیکن جونہی ان معمولات میں ناغہ آتا ہے تو دوبارہ جنات تکالیف پہنچانا شروع کردیتے ہیں ۔اور ناغہ آنے کی وجہ اس عورت کے ایامِ حیض ہیں کہ جب اس کو حیض آتا ہے تو وہ یہ سورتیں نہیں پڑھ سکتی۔اب اس حوالے سے شریعت کیا کہتی ہے کہ کیا اس طرح کی عورت کے لئے شرعا جائز ہے کہ جنات کی تکالیف سے بچنے کی خاطر ایامِ حیض میں بھی سورۃ مزمل او باقی سورتیں پڑھے یا نہیں باوجود اس بیماری کے اس عورت کیلئے بھی یہ سب کچھ جائز نہیں؟
حائضہ و نفساء کیلئے قرآن پاک کی تلاوت کرنا حرام ہے البتہ وہ آیات جو ذکر و دعا یا مناجات پر مشتمل ہوں ان کو بغیر نیت تلاوت کے صرف دعا ،ذکر اور مناجات کی نیت سے پڑھنا جائز ہے ۔
بصورت مسولہ چونکہ آیت الکرسی میں ذکر کا معنی پایا جاتا ہے اس لئے مذکورہ عورت کیلئے ایام ِ حیض میں ذکر اور وظیفہ کی نیت سےآیت الکرسی پڑھنا تو جائز ہے لیکن سورۃ مزمل پڑھنا جائز نہیں ہے ۔
الفتاوى الهندية:
(ومنها) حرمة قراءة القرآن لا تقرأ الحائض والنفساء والجنب شيئا من القرآن والآية وما دونها سواء في التحريم على الأصح إلا أن لا يقصد بما دون الآية القراءة مثل أن يقول الحمد لله يريد الشكر أو بسم الله عند الأكل أو غيره فإنه لا بأس به. هكذا في الجوهرة النيرة ولا تحرم قراءة آية قصيرة تجري على اللسان عند الكلام كقوله تعالى {ثم نظر} [المدثر: 21] أو {ولم يولد} [الإخلاص: 3] . هكذا في الخلاصة.
(كتاب الطهارة ، الفصل الرابع، 1/ 38، دار الفكر)
الدر المختار:
(ولا بأس) لحائض وجنب (بقراءة أدعية ومسها وحملها وذكر الله تعالى، وتسبيح) . . . . . الخ
تحته في الشامية:
فلو قرأت الفاتحة على وجه الدعاء أو شيئا من الآيات التي فيها معنى الدعاء ولم ترد القراءة لا
بأس به كما قدمناه عن العيون لأبي الليث وأن مفهومه أن ما ليس فيه معنى الدعاء كسورة أبي
لهب لا يؤثر فيه قصد غير القرآنية.
(كتاب الطهارة ، باب الحيض ، 1/ 293، دار الفكر)
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔