سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-186 Fatwa no: 1447-186

حمل کا اپنے والد کی میراث میں حصے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ (1)اگر ایک بچہ پیدا ہوجائے اور پھر وفات ہوجائے تو اس کے حصہ میراث کا کیا طریقہ کار ہوگا؟آیا اس بچے کو میراث میں سے حصہ ملے گا یا نہیں؟ (2) اگر کسی بچے کا باپ زندہ ہو اور بچہ پیدا ہوجائے اور پھر وہ بچہ وفات ہوجائے تو اس کے حصے کا کیا ہوگااور اگر اس کا باپ فوت ہوچکا ہو اور بچہ پیدا ہوجائے اور پھر وہ بچہ وفات ہوجائے تو اس کے حصے کا کیا حکم ہے؟
جواب :

واضح رہے کہ جو وارث اپنے مورث کی وفات كے بعد فوت ہوجائے وہ   تو اپنے مورث کی میراث   میں اپنے حصہ شرعی کا مستحق ہوتا ہے لیکن جو وارث اپنے مورث کی زندگی میں فوت ہوجائے، مورث کی میراث میں سے اس کا حصہ ختم ہوجاتا ہے ،لہذا بصورت مسؤلہ :
(1)اگر بچہ اپنے مورث  کی وفات کے بعد زندہ پیدا ہوجائے تو وہ مورث کی میراث میں سے اپنے حصہ شرعی کا مستحق ہوگا اور پیدائش کے بعد اگر وہ بچہ فی الفور مرجائے تو اس کا حصہ میراث اس کے شرعی ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے بقدر تقسیم ہوگا لیکن اگر وہ بچہ زندہ رہے تو اس صورت میں جو شخص  اس بچے کے حق میں زیادہ خیر خواہ ہواس کے پاس یہ حصہ بطورِ امانت رکھا جائے گا پھر اگر بعد میں وہ بچہ مرجائے تو اس کا امانت رکھا ہوا حصہ اس کے شرعی ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے بقدر تقسیم ہوگا۔
(2)اگر بچہ پیدا ہوکر اپنے والد کی حیات ہی میں فوت ہوجائے پھر تو اس کو اپنے والد کی میراث میں سے حصہ نہیں ملے گا البتہ اگر بچہ والد کی وفات کے بعد پیدا ہوجائے تو اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر والد کی حیات ہی میں حمل قرار پاچکا ہویعنی بچہ حمل کی صورت میں اپنی ماں کے پیٹ میں ہو لیکن پیدائش سے پہلے اس بچے کا والد فوت ہوجائے تو اس صورت میں بہتر تو یہ ہے کہ بچے کی پیدائش تک میراث کو تقسیم نہ کیا جائے تاہم اگر اسی وقت تقسیم کرنا ہو تو پھرمذکورہ بچے کو مذکر مان کر والد کی میراث میں سے اس کا حصہ روکا جائے اور جو بندہ  اس بچے کے حق میں زیادہ خیر خواہ ہو اس کے پاس یہ حصہ بطورِ امانت رکھا جائے اور پھر اگر بچہ مذکر پیدا ہو تو جو حصہ اس کا بطور امانت رکھوایا گیا ہو وہ اسی طرح امانت ہی ہوگا لیکن اگر لڑکی پیدا ہو تو اسکے امانت رکھوائے ہوئے حصے میں سے لڑکی کے حصہ کے بقدررکھوا کر باقی حصہ دوبارہ والد مرحوم کے شرعی ورثاء میں  ان کے حصوں کے بقدر تقسیم کیا جائے گا اور اگر حمل ضائع ہوجائے یا مردہ پیدا ہوجائے تو اس صورت میں اس کا امانت رکھوایا ہوا مکمل حصہ دوبارہ اس کے والد مرحوم کے شرعی ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا۔
البحر الرائق:
(ووقف للابن حظ ابن) أي إذا ترك الميت امرأته حاملا أو غيرها ممن يرثه ولدها وقف للحمل 
نصيب ابن واحد وهذا قول أبي يوسف وعنه يوقف نصيب ابنين وهو قول محمد؛ لأن ولادة الاثنين معتادة، وعن أبي حنيفة أنه يوقف نصيب أربع بنين أو أربع بنات أيهما أكثر؛ لأنه يتصور ولادة أربعة في بطن واحدة فيترك نصيبها احتياطا والفتوى على الأول .... ثم يقسم الباقي على الأولاد ويترك نصيب الحمل منه على الاختلاف الذي ذكرنا، وإن لم يكن في الورثة ذكر والحمل من الميت يعطى كل وارث نصيبه على تقدير أن الحمل ذكر أو أنثى أيهما أقل، وإن كان على أحد التقديرين يرث دون الآخر فلا يعطى شيئا وكذا إذا كان فيهم من لا يرث على تقدير ولادته حيا وعلى تقدير ولادته ميتا يرث فلا يعطى شيئا للاحتمال، وإن كان نصيبه على أحد التقديرين أكثر يعطى الأقل للتيقن به ويوقف الباقي
(كتاب الفرائض ، أنواع الحجب، 8/ 574،  دار الكتاب الإسلامي)
رد المحتار:
والمراد بالفرائض السهام المقدرة .... وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه .... الخ
(كتاب الفرائض ، 6/ 758،  دار الفكر)
الفتاوى التاتارخانيه:
و طريق معرفة انفصاله حيا أن يستهل أو يسمع منه عطاس ، أو تنفس أو تحرك نعض أعضاءه أو ما شاكل ذالك وإن انفصل ميتا لم يرثه لأنا شككنا في حياته وقت موت الأب .... وفي المضمرات: وإن مات وترک حملاً یوقف ماله حتی تضع امراته في قول ابي حنیفة رحمه اللّٰه تعالیٰ حتی یُعرف ما تضع، واحدًا ام اثنین ام ثلاثًا، ذکرًا او انثیٰ؛ لئلا یفتقر إلی فسخ القسمة و فيه روايات اخر.

(كتاب الفرائض ، الفصل الخامس و الثلاثون، 20/ 404،  مكتبة اعزازية)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 11 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب