نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میں سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ اور حنفی مسلک سے تعلق رکھتی ہوں اور گزشتہ چار سال میں نے اپنی جماعت کے ساتھ اپنے شیخ المکرم حضرت محمد احسن بیگ صاحب رحمت اللہ علیہ کی معیت میں عمرے کیے ہیں جن میں دو بار بغیر محرم کے بھی جانے کی اجازت ملی ہے میرا سوال یہ ہے کہ اپنے شیخ رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد کیا اس سال بھی میں ان کے مقرر کردہ خلفاء کے ساتھ خواتین کی ہمراہی میں عمرہ پر جا سکتی ہوں۔
جماعت میں ہوٹل کے قیام ذکر و فکر اور طعام کا انتظام شرعی ہوتا ہے اور خواتین کو علیحدہ رکھا جاتا ہے مزید یہ کہ سفر بھی انتہائی آسان اور محفوظ ہوتا ہے تمام انتظام میں خواتین کی مکمل تقدیس اور پردے کا خیال رکھا جاتا ہے۔
ایک مفتی صاحب نے بتایا ہے کہ حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی کے مسالک میں اجازت ہے میرا سوال آپ کی خدمت میں یہ ہے کہ حنفی مسلک میں ہونے کے باوجود کیا میں اس اجازت کے زمرے میں آتی ہوں یعنی میرے لیے بھی یہ نرمی ہے کیونکہ ہم بحیثیت مسلمان ان سب مسالک کو مانتے ہیں۔
آپ سے درخواست ہے کہ اس حوالہ سے میری رہنمائی فرمائیں تاکہ میری اللہ کے گھر حاضری کی کوئی سبیل نکل سکے اور میرے سلسلے کے خلفاء بھی تسلی سے لے جا سکے وہاں جا کر آپ سب کے لیے بے حد دعا گو رہوں گی اور اب بھی ہوں۔
واضح رہے کہ ائمہ اربع یعنی حضرت امام ابو حنیفہ ، حضرت امام مالک ، حضرت امام احمد ابن حنبل اور حضرت امام شافعی رحمہم اللہ اپنے زمانہ کے مجتہد رہے ہیں اور یہ چاروں قابل تقلید ہیں لیکن فقہ میں ان میں سے کسی ایک ہی کی تقلید کی جاسکتی ہے ۔یہ درست نہیں کہ بعض مسائل میں ایک امام کے مسلک کو اپنایا جائے اور بعض مسائل میں دوسرے امام کے مسلک میں نرمی دیکھ کر اس کے مسلک کو اپنایا جائے بلکہ ایک عام مسلمان کیلئے ضروری ہے کہ مذکورہ چاروں ائمہ کو برحق مانتے ہوئے کسی ایک کو فقہ میں اپنا امام مقرر کرے اور زندگی کے تمام فقہی مسائل میں اپنےاسی امام کی اتباع کرے۔
آپ نے جو مسئلہ پوچھا ہے کہ حنفی ہوتے ہوئے آپ بغیر محرم کے عمرے پہ چلی جائیں تو فقہ حنفی میں عورت کیلئے بغیر محرم کے فرض حج پہ جانا جائز نہیں چہ جائے کہ بغیر محرم کے اس کے لئے عمرہ کا سفر کرنا جائز ہو بلکہ عورت پر حج فرض ہونے کی شرائط میں سے باقاعدہ ایک شرط یہ ہے کہ اس کے ساتھ محرم ہو ورنہ اس پر حج بھی فرض نہیں ہوتا اور یہ صرف فقہ حنفی کا مسئلہ ہی نہیں بلکہ حدیث میں واضح حکم ہے۔
بصورت مسؤلہ چونکہ آپ حنفی ہیں اس لئے آپ کیلئے بالکل بھی اس بات کی گنجائش نہیں کہ آپ بغیر محرم کے عورتوں کی ہمراہی میں عمرہ کیلئے جائیں اس لئے عمرہ کا سفر موقوف رکھیں تاوقتیکہ آپ کے ساتھ کوئی محرم نہ ہو اور اس سے پہلے جوآپ نے بغیر محرم کے عمرے کے سفر کئے ہیں اس پر توبہ و استغفار کریں۔
في صحيح البخاري:
عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا يخلون رجل بامرأة إلا مع ذي محرم» فقام رجل، فقال: يا رسول الله، امرأتي خرجت حاجة، واكتتبت في غزوة كذا وكذا، قال: «ارجع
فحج مع امرأتك»
(كتاب النكاح، باب لا يخلون رجل بامرأة إلا ذو محرم، 7/ 37، دار طوق النجاة)
و في صحيح مسلم:
عن عبد الله بن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «لا يحل لامرأة، تؤمن بالله واليوم الآخر، تسافر مسيرة ثلاث ليال، إلا ومعها ذو محرم»
(كتاب الحج ، باب سفر المرأة مع محرم إلى حج وغيره ، 2/ 975، دار إحياء التراث العربي)
و في حجة الله البالغة:
منها أن هذه المذاهب الأربعة المدونة المحررة قد اجتمعت الأمة - أو من يعتد به منها - على جواز تقليدها إلى يومنا هذا، وفي ذلك من المصالح ما لا يخفى لا سيما في هذه الأيام التي قصرت فيها الهمم جدا، وأشربت النفوس الهوى وأعجب كل ذي رأي برأيه
(كتاب الحج، باب حكاية حال الناس قبل المائة الرابعة وبعدها ، 1/ 263، دار إحياء العلوم)
و في بدائع الصنائع:
(وأما) .الذي يخص النساء فشرطان: أحدهما أن يكون معها زوجها أو محرم لها فإن لم يوجد أحدهما لا يجب عليها الحج.وهذا عندنا، وعند الشافعي هذا ليس بشرط، ويلزمها الحج .... وخطاب الناس يتناول الذكور، والإناث بلا خلاف فإذا كان لها زاد، وراحلة كانت مستطيعة، وإذا كان معها نساء ثقات يؤمن الفساد عليها، فيلزمها فرض الحج.
(ولنا) ما روي عن ابن عباس - رضي الله عنه - عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: ألا «لا تحجن امرأة إلا ومعها محرم» ، وعن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: «لا تسافر امرأة ثلاثة أيام إلا ومعها محرم أو زوج» ولأنها إذا لم يكن معها زوج، ولا محرم لا يؤمن عليها إذ النساء لحم على وضم إلا ما ذب عنه، ولهذا لا يجوز لها الخروج وحدها.
(كتاب الحج ، فصل شرائط فرضية الحج ، 2/ 123، دار الكتب العلمية)
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔