سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-188 Fatwa no: 1447-188

دكاندار كا گاہک کو کھیل جیتنے پر ڈسکاؤنٹ دینے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک دوکاندار لوگوں کو ڈسکاؤنٹ دینے کیلئے اپنی دکان میں کھیل وغیرہ کراتا ہے مثلاً گلاس پانی سے بھر دیتا ہے اوپرلیموں وغیرہ رکھ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر اس پر کوئی ٹوکن یا پانچ روپے کاسکہ رکھ دے تو اس کو دس فیصد ڈسکاؤنٹ ملے گا۔اب اگر کوئی وہ کھیل جیت جاتا ہے تو اس کو سو روپے کی چیز نوے روپے کا دیتا ہے اور اگر ہار جاتا ہے تو سو روپے کی چیز اس کو سو ہی کا دیتا ہے۔آیا اس طرح کرنا جائز ہے؟
جواب :

واضح رہے کہ فروخت کنندہ کی طرف سے ڈسکاؤنٹ دینا درحقیقت حط الثمن ( قیمت میں کمی کرنا) ہے جو جائز ہے اور سوال میں ذکر شدہ تفصیل کے مطابق اس ڈسکاؤنٹ کو کھیل جیتنے کے ساتھ مشروط گیا ہے لہذا بصورت مسؤلہ مذکورہ طریقہ صرف گاہک کو اپنی طرف متوجہ کرنے کیلئے ہے اس لئے اس ترتیب کے مطابق ڈسکاؤنٹ پر اشیاء بیچنا جائز ہے  البتہ کسی وجہ سے گاہک کی طرف سے سامان واپس کرنے کی صورت میں گاہک ڈسکاؤنٹ شدہ قیمت کا حق دار ہوگا نہ کہ اس کی اصلی قیمت کا۔
بحوث في قضايا فقهية معاصرة:
الجائزة التي تمنح على أساس التزام أو وعد سابق: فيلتزم المجيز بأنه سيمنح المجاز جائزة عند وقوع واقع معين لا يدري أحد هل يقع أو لا؟ و من شروط جوازه : أن يكون تبرعا محضا من قبل المجيز ، وأن لا يشترط على المجاز أن يدفع عوضا عن الدخول في المخاطرة ؛ لأنه إن اشترط عليه ذالك دخل في عقود المعاوضة التني يحرم فيها الغرر و المخاطرة، و يتأتى فيها القمار...... الخ
(البحث التاسع عشر ، احكام الجوائز ، 2/156 ، معارف القرآن كراتشي)
الدر المختار:
(و) صح (الحط منه) ولو بعد هلاك المبيع وقبض الثمن (والزيادة) والحط (يلتحقان بأصل العقد)
تحته في الشامية:
(قوله: وصح الحط منه) أي من الثمن وكذا من رأس مال السلم والمسلم فيه كما هو صريح كلامهم رملي على المنح.
 (كتاب البيوع ، مطلب في بيان الثمن و المبيع و الدين ، 5/ 154 ، دار الفكر)
الفتاوى الهندية:
وأما شرائط الصحة... ومنها الخلو عن الشرط الفاسد وهو أنواع منها... شرط ما لا يقتضيه 
العقد وفيه منفعة للبائع وللمشتري أو للمبيع إن كان من بني آدم وليس بملائم للعقد ولا مما جرى به التعامل بين الناس...الخ
(كتاب البيوع ، باب الاول ، 3/ 3 ، دار الفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 11 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب