نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ فروخت کنندہ کی طرف سے ڈسکاؤنٹ دینا درحقیقت حط الثمن ( قیمت میں کمی کرنا) ہے جو جائز ہے اور سوال میں ذکر شدہ تفصیل کے مطابق اس ڈسکاؤنٹ کو کھیل جیتنے کے ساتھ مشروط گیا ہے لہذا بصورت مسؤلہ مذکورہ طریقہ صرف گاہک کو اپنی طرف متوجہ کرنے کیلئے ہے اس لئے اس ترتیب کے مطابق ڈسکاؤنٹ پر اشیاء بیچنا جائز ہے البتہ کسی وجہ سے گاہک کی طرف سے سامان واپس کرنے کی صورت میں گاہک ڈسکاؤنٹ شدہ قیمت کا حق دار ہوگا نہ کہ اس کی اصلی قیمت کا۔
بحوث في قضايا فقهية معاصرة:
الجائزة التي تمنح على أساس التزام أو وعد سابق: فيلتزم المجيز بأنه سيمنح المجاز جائزة عند وقوع واقع معين لا يدري أحد هل يقع أو لا؟ و من شروط جوازه : أن يكون تبرعا محضا من قبل المجيز ، وأن لا يشترط على المجاز أن يدفع عوضا عن الدخول في المخاطرة ؛ لأنه إن اشترط عليه ذالك دخل في عقود المعاوضة التني يحرم فيها الغرر و المخاطرة، و يتأتى فيها القمار...... الخ
(البحث التاسع عشر ، احكام الجوائز ، 2/156 ، معارف القرآن كراتشي)
الدر المختار:
(و) صح (الحط منه) ولو بعد هلاك المبيع وقبض الثمن (والزيادة) والحط (يلتحقان بأصل العقد)
تحته في الشامية:
(قوله: وصح الحط منه) أي من الثمن وكذا من رأس مال السلم والمسلم فيه كما هو صريح كلامهم رملي على المنح.
(كتاب البيوع ، مطلب في بيان الثمن و المبيع و الدين ، 5/ 154 ، دار الفكر)
الفتاوى الهندية:
وأما شرائط الصحة... ومنها الخلو عن الشرط الفاسد وهو أنواع منها... شرط ما لا يقتضيه
العقد وفيه منفعة للبائع وللمشتري أو للمبيع إن كان من بني آدم وليس بملائم للعقد ولا مما جرى به التعامل بين الناس...الخ
(كتاب البيوع ، باب الاول ، 3/ 3 ، دار الفكر)
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 11 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔