سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-190 Fatwa no: 1447-190

دنیاوی امور کی بنیاد پر دوسرے مسلمان سے قطع رحمی کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا کسی مسلمان کے ساتھ اس بنیاد پر قطع تعلقی کرنا جائز ہے کہ وہ دوسرے مسلمان بھائی کے حقوق واجبہ ادا نہ کرتا ہو؟ مثلاً میں نے اپنے ایک رشتہ دار کے ساتھ کوئی کاروبار شروع کیا لیکن اس نے مجھے اس کاروبار میں کافی نقصان پہنچایاجس کی وجہ سے میرا کافی حق اس پر ابھی بھی باقی ہے تو کیا میرے لئے جائز ہے کہ اس رشتہ دار سے اس بنیاد پر قطع تعلق کروں کہ اس نے مجھے نقصان بھی پہنچایا اور اب وہ میرا بچا ہوا حق بھی ادا نہیں کر رہا؟
جواب :

شریعت مطہرہ نے عام حالات میں صلہ رحمی کی ترغیب دی ہے اور قطع تعلقی سے روکا ہے اور احادیث ِ مبارکہ میں قطع تعلقی کے بارے میں کافی وعیدیں وارد ہوئی ہیں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت کا مطالعہ کرنے سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنی ذات کی خاطر کبھی بھی کسی  سے قطع تعلقی نہیں کی بلکہ انہوں نے تو دشمنانِ اسلام اور منافقین کے ساتھ بھی صلہ رحمی کا معاملہ کیا ،لہذا محض دنیاوی امور کی خاطر کسی مسلمان سے قطع تعلقی جائز نہیں ،تاہم اگر کوئی مسلمان دینِ اسلام سے کچھ دور ہوچکا ہو یا  وہ شراب نوشی ، جوا بازی ،چوری ، زنا کاری  اور سود خوری جیسے کبیرہ گناہوں میں پڑ چکا ہو اور اس کے ساتھ میل جول رکھنے سے اپنے دین کا نقصان ہو رہا ہو اور قطع تعلقی کی وجہ سے اس کے سدھرنے کی امید بھی ہو تو اس صورت میں قطع تعلقی کی گنجائش ہے  ۔
بصورت مسؤلہ چونکہ آپ کا اپنے مذکورہ رشتہ دار کے ساتھ معاملہ دنیاوی امور(حق واجبہ کی ادائیگی)سے متعلق ہے اور اس معاملہ میں کوتاہی کرنے والے کے بارے میں اگرچہ شریعت میں کافی سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں لیکن اس کے باوجود  آپ کیلئے جائز نہیں کہ آپ اس کی وجہ سے اپنے رشتہ دار سے قطع تعلقی کريں البتہ آپ حق ادا نہ کرنے پر اظہار ِ ناراضگی کر سکتے ہیں تاکہ اس کو احساس ہو سکے اور اس کے ساتھ زیادہ اٹھنا بیٹھنا چھوڑ دیں ،تاہم جب وہ سامنے آئے تو  اس کو سلام کیا کریں اور  اس کا حال وال پوچھ لیا کریں تاکہ قطع تعلقی کے زمرے سے نکل سکے ،البتہ  آئندہ کیلئے اس کے ساتھ مالی لین دین کا معاملہ کرنے سے گریز کریں۔ 
في مختصر صحيح الامام البخاري:
عن جبير ابن مطعم أنه سمع النبي – صلى الله عليه و سلم- يقول : "لا يدخل الجنة قاطع".
(كتاب الادب، باب إثم القاطع ، 4/ 62، مكتَبة المَعارف للنَّشْر والتوزيع)
و في مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:
قال: وأجمع العلماء على أن من خاف من مكالمة أحد وصلته ما يفسد عليه دينه أو يدخل مضرة 
في دنياه يجوز له مجانبته وبعده، ورب صرم جميل خير من مخالطة تؤذيه. وفي النهاية: يريد به الهجر 
ضد الوصل، يعني فيما يكون بين المسلمين من عتب وموجدة، أو تقصير يقع في حقوق العشرة والصحبة دون ما كان من ذلك في جانب الدين... قلت: الأظهر أن يحمل نحو هذا الحديث على المتواخيين أو المتساويين، بخلاف الوالد مع الولد، والأستاذ مع تلميذه، وعليه يحمل ما وقر من السلف والخلق لبعض الخلف، ويمكن أن يقال الهجرة المحرمة إنما تكون مع العداوة والشحناء، كما يدل عليه الحديث الذي يليه، فغيرها إما مباح أو خلاف الأولى۔"
(كتاب الآداب، باب ما ينهى عنه من التهاجر والتقاطع ،8/ 3147،  دار الفكر)
وفی الدر المختار:
(وصلة الرحم واجبة ولو) كانت (بسلام وتحية وهدية) ومعاونة ومجالسة ومكالمة وتلطف وإحسان ويزورهم غبا ليزيد حبا بل يزور أقرباءه كل جمعة أو شهر ولا يرد حاجتهم لأنه من القطيعة في الحديث «إن الله يصل من وصل رحمه ويقطع من قطعها» وفي الحديث «صلة الرحم تزيد في العمر»
وتحته في الشامیة:
 ثم اعلم أنه ليس المراد بصلة الرحم أن تصلهم إذا وصلوك لأن هذا مكافأة بل أن تصلهم وإن قطعوك فقد روى البخاري وغيره «ليس الواصل بالمكافئ ولكن الواصل الذي إذا قطعت رحمه وصلها»
(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع،6/ 411، دار الفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 11 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب