نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک شخص جو غیر ملک مقیم ہے اس نے رشتہ ازدواج کے لیے اپنے بھائی کو بطور وکیل پاکستان میں پیغام رسا مقرر کیا ،وکیل ایک مقامی تبلیغی دوست کے اعتماد کا سہارا لے کر رشتے کی طلب میں معزز، مذہبی گھرانے پہنچ گیا۔ وکیل نے موکل بھائی کی وکالت کرتے ہوئے رشتہ کی بات شروع کی کہ ہمارے بھائی کا پہلے ایک ایسی لڑکی سے عقد نکاح ہوا تھا جو نکاح کی قید سے ایک آزاد زندگی کی خواہاں تھی اور ہمارے بھائی اس عیشِ آزادی کے سخت مخالف ایک با ضمیر آدمی ہے ۔زوجین کے مابین عدم موافقت کی بنا پر بیوی نے عدالت سے تنسیخ نکاح کرا لیا ۔
اب ہمارے بھائی صاحب عالمہ اور شریف خاندان کی خاتون سے رشتہ کے خواہشمند ہیں اور آپ کے گھر میں ایسے رشتے کی اطلاع ملی ہے ہم سادہ مزاج لوگ ایسے فرشتہ صفت پڑھے لکھے با ضمیر انسان کے رشتے کے پہلے سے ہی منتظر تھے اس لیے آنکھیں بند کر کے اعتماد کرتے ہوئے ایسے عمدہ رشتہ کو نعمتِ عظمی سمجھ کر بلا تحقیق و بلا تاخیر عقد نکاح کی تاریخ متعین کر دی اور ہم ان کے معصوم لہجوں اور خوش بیانی کے پیچھے چھپے مکروہ عزائم اور اصل حقیقت کو سمجھ نہ پائے ۔
متعینہ تاریخ کو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کے ذریعے شرعی نکاح منعقد ہوا ،دولہا کے وکیل نے پانچ تولہ سونا حق مہر کے عوض موکل کی طرف سے نکاح قبول کیا۔ بوقت عقد وکیل نے کہا نکاح فارم پر کر کے اس عقد کو قانونی حیثیت نہیں دیتے کیونکہ پہلی بیوی کے ایام عدت باقی ہیں اس لیے وہ ہم سب پر قانونا ً مقدمہ دائر کر سکتی ہے۔ 15 دن بعد نکاح فارم پر کر کے نکاح کو قانونی حیثیت دے دیں گے۔اب چار ماہ گزر گئے تحریری عقد تا حال نہیں ہوا ۔
اس اچانک اور عجلت کے ساتھ کیے گئے نکاح کے بعد جب خبر لوگوں میں پھیلی تو دولہا کے جاننے والوں کی طرف سے تسلسل کے ساتھ یہ خبریں موصول ہوئیں کہ یہ لوگ اچھے نہیں یہ شخص پہلی بیوی کے علاوہ بھی ایک عورت کو جہانسہ دینے کی کوشش کر چکا ہے لیکن اس عورت نے رخصتی سے پہلے ہی رہائی حاصل کر لی۔
ان ہوش ربا خبروں سے ہمارے اندر حقیقتِ حال کی جستجو کا داعیہ پیدا ہوا تو آہستہ آہستہ اصلیت اور حقیقت کا پردہ چاک ہو کر ان لوگوں کی کذب بیانی، دھوکہ دہی واضح ہوئی۔
قبل ازعقد طے ہوا کہ شوہر لاہور ایئرپورٹ پر آکر بیوی کو اپنے ساتھ لے جائے گا مگر بعد میں یہ کہا گیا کہ دولہا دماغی الجھن کا شکار ہونے کی وجہ سے یہاں نہیں آ سکتا اس لیے دلہن کا بھائی خود خاوند کے پاس چھوڑ آئے۔
بعد از نکاح دولہن کا میسجز کے ذریعے خاوند سے رابطہ شروع ہوا ۔دریں اثناء دلہن نے پانچ تولہ سونا حق مہر کی بات چھیڑ دی تو خاوند نے کہا جب میں نے اس کی اجازت ہی نہیں دی تو عقد میں اس بکواس کی کیا ضرورت تھی اس پر دلہن نے کہا ،آپ کی اس بات سے عقد کے انعقا د میں بھی شک پیدا ہو گیا ۔خاوند نے کہا مجھے یہ حق مہر میں بالکل قبول نہیں ہے اور اگر عقد کے انعقاد میں شک ہے تو کسی مفتی سے پوچھ لیں ۔
خاوند کے ان الفاظ کہ" میں نے اس کی اجازت نہیں دی تو اس بکواس کی کیا ضرورت تھی مجھے یہ حق مہر میں بالکل قبول نہیں "سے نکاح پر کیا اثر پڑتا ہے؟
دلہن نے خاوند سے تحریرا قانونی نکاح نہ کرنے کی وجہ پوچھی تو جواباً صاف اور واضح لفظوں میں بتایا تاکہ تم عدالت کا رخ نہ کر سکو یہ سب قرائن خاوند اور وکیل کی بددیانتی پرواضح دلالت کرتے ہیں کہ انہیں کسی شریف عورت کے رشتے کی ضرورت نہیں تھی۔
دلہن کی طرف کیے گئے مدارس اور علماء کے خلاف متعصب میسجز سے بھی واضح معلوم ہوا کہ یہ کسی قدر متشدد شرافت سے عاری بے شعور دماغی مرض میں مبتلا شخص ہے ۔
اب ہم نے اس شخص سے چھٹکارا حاصل کرنے کی ہر صورت کوشش کی مگر وہ شخص کسی صورت بھی طلاق پر آمادہ نہیں ہو رہا ۔دولہا کے وکیل سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ کال آن نہیں کرتا۔
مذکورہ نکاح جو دھو کہ دردھوکہ اور جھوٹ در جھوٹ کے ساتھ کیا گیا منکوحہ اس نکاح میں رخصتی پر موت کو ترجیح دیتی ہے اس مظلومہ اور پریشان بچی جو ابھی عالمیہ سالِ اول کی طالبہ ہے کے لیے "الدین کل یسر"میں نجات کا کوئی آسان راستہ ہے ؟
موجودہ عدالتی نظام جہاں بغیر پیسہ اور رشوت کے مسئلے کا حل ممکن نہیں ، بالخصوص ہمارے پاس بغیر ثبوت کے عدالت جانے کا قانونی اختیار بھی نہیں ہے ایسی صورت میں تین مقامی جید علماء کا فیصلہ آج کل کے رشوت خور جج کے فیصلے کے قائم مقام ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔جیسے حکیم الامت حضرت تھانوی رحمت اللہ علیہ نے حیلہ ناجزہ میں گلو خلاصی کا جو حل تحریر فرمایا ہے کہ محلہ کے دیندار مسلمانوں میں سے تین آدمی ایسی صورتحال میں شریعت کے مطابق حکم کریں تو یہ بھی قضاء قاضی کے قائم مقام ہے اس پر عمل کر کے نکاح کو فسخ کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟
اگر خاوند کو اس طریقہ سے تنسیخِ نکاح کا علم ہو جائے اور پنچایت کے حکم سے پہلے ہی پھر ایک بار تحریری نکاح پر اور پاکستان آنے پر بظاہر آمادہ ہو جائے تو اس کے گزشتہ کذب وہ دھوکہ دہی کے عیاں ہونے کے باوجود بچی کو جبراً رخصت کر کے اس کے رحم و کرم پر چوڑا جا سکتا ہے؟
واضح رہے کہ فقہ حنفی کے مطابق میاں بیوی میں جدائی کیلئے خاوند کی طرف سے طلاق یا باہمی رضامندی سے خلع کے علاوہ کوئی تیسرا طریقہ نہیں ہے لیکن مالکیہ کے مسلک میں قاضی وغیرہ کے نہ ہونے کی صورت میں محلہ کے دین دار مسلمانوں کی ایک جماعت کا متفقہ فیصلہ قضاء قاضی کے قائم مقام ہوجاتا ہے ۔
بصورت مسؤلہ خاوند کے مذکورہ الفاظ " مجھے یہ حق مہر میں بالکل قبول نہیں "نہ طلاق کے صریح الفاظ میں سے ہیں اور نہ کنائی میں
سے، اس لئے ان الفاظ سے مذکورہ نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا البتہ جہاں تک مذکورہ لڑکی کو خاوند کے نکاح سے چھڑانے کی بات ہے تو اس صورت میں پہلے تو پوری کوشش کی جائے کہ کسی بھی ممکن طریقے سے لڑکے کو طلاق یا خلع کیلئے راضی کیا جائے لیکن اگر لڑکا طلاق یا خلع کیلئے کسی صورت بھی راضی نہ ہو اور سوال میں ذکر شدہ تفصیل واقعی حقیقت پر مبنی ہو تو اس صورت آپ لوگ مقامی جید علماء کے سامنے یہ مسئلہ پیش کرسکتے ہیں اور ان جید علماء کا متفقہ فیصلہ شرعا ً قاضی کے فیصلے کے قائم مقام ہوگا۔
نوٹ: مذکورہ جید علماء کی کمیٹی کا فیصلہ متفقہ ہونا ضروری ہے۔اگر کمیٹی میں موجود کسی ایک عالم کی رائے بھی فیصلے کے خلاف ہو تو اس صورت میں اس فیصلہ کی بنیاد پر نکاح ختم نہیں ہوگا۔
رد المحتار:
(قوله: وشرطه كالطلاق) وهو أهلية الزوج وكون المرأة محلا للطلاق منجزا، أو معلقا على الملك. وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول، بخلاف ما إذا قال خالعتك ولم يذكر العوض ونوى الطلاق فإنه يقع وإن لم تقبل لأنه طلاق بلا عوض فلا يفتقر إلى القبول.
(كتاب الطلاق ، باب الخلع ،3/441، دار الفكر)
الفتاوي الهندية:
الخلع إزالة ملك النكاح ببدل بلفظ الخلع كذا في فتح القدير وقد يصح بلفظ البيع والشراء وقد يكون بالفارسية كذا في الظهيرية(وشرطه) شرط الطلاق(وحكمه) وقوع الطلاق البائن كذا في التبيين.
(كتاب الطلاق ، الباب الثامن في الخلع ، 1/ 488 ، دار الفكر)
حاشية الدسوقي على الشرح الكبير:
(قوله فيأمره الحاكم إلخ) اعلم أن جماعة المسلمين العدول يقومون مقام الحاكم في ذلك وفي كل أمر يتعذر الوصول فيه إلى الحاكم أو لكونه غير عدل اهـ
(باب أسباب النفقة، 2/ 519 ، دار الفكر)
الحیلہ الناجزہ میں ہے:
اور جس جگہ مسلمان حاکم موجود نہ ہو یا مسلمان حاکم کی عدالت میں مقدمہ لے جانے کا قانونا ً اختیار نہ ہو یا مسلمان حاکم قواعدِ شرعیہ کے مطابق فیصلہ نہ کرتا ہو تو اس صورت میں فقہ حنفی کے مطابق تو عورت کی علیحدگی کیلئے بغیر خاوند کی طلاق وغیرہ کی کوئی صورت نہیں اور حتی الوسع لازم ہے کہ خلع وغیرہ کی کوشش کرے ۔لیکن اگر خاوند کسی طرح نہ مانے یا بوجہ مجنون یا لاپتہ ہونے کے اس سے خلع وغیرہ ممکن نہ ہو اور عورت کو صبر کی ہمت نہ ہو تو مجبورا ً مذہب مالکیہ کے مطابق دین دار مسلمانوں کی پنچایت میں معاملہ پیش کرنے کی گنجائش ہے کیوں کہ مالکیہ کے مذہب میں قاضی وغیرہ نہ ہونے کی حالت میں یہ صورت بھی جائز ہے کہ محلہ کے دین دار مسلمانوں کی ایک جماعت جن کا عدد کم از کم تین ہو پنچایت کرے اور واقعہ کی تحقیق کر کے شریعت کے موافق حکم کردے تو یہ بھی قضاء قاضی کے قائم مقام ہوجاتا ہے۔
(موجودہ جج مجسٹریٹ وغیرہ کا فیصلہ کن شرائط کے ساتھ معتبر ہے ، ص32 ، ج 1 ، دار الاشاعت)
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔