سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-192 Fatwa no: 1447-192

دو بیٹوں اور دو بیٹیوں کے درمیان تقسیم میراث

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی فوت ہوا جس نے اپنے پیچھے منقولی اور غیر منقولی دونوں قسم کی جائیداد چھوڑی۔مرحوم کے ورثاء میں صرف دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں باقی کوئی وارث نہیں ہے۔اب آپ حضرات سے ایک تحریری فتوی اس حوالے سے درکار ہے کہ مرحوم نے جو منقولی اور غیر منقولی جائیداد چھوڑی ہے وہ اس کے ورثاء میں شرعی طریقے کے مطابق کیسے تقسیم ہوگی اوراس کی جائیداد میں سے کس کس کو کتنا کتنا حصہ ملے گا؟جزاکم اللہ خیرا ً
جواب :

شریعت مطہرہ کی تعلیمات کے مطابق سب سے پہلےمیت کے ترکہ(مرحوم کی تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیداد)  میں   سے اس کی تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالا جائے گا ،تاہم اگر کسی نے اپنے ذمے لیا ہو تو مذکورہ اخراجات ترکہ سے نکالنے کی ضرورت نہیں ، اس کے بعد اگر میت کے ذمے کسی کا قرض واجب الادا ہو تو اس کو ادا کیا جائے گا اس کے بعد  اگر میت نے  کسی غیر وارث کے لئے کوئی جائز وصیت کی ہو تو  اس کو میت کے تہائی مال میں  سے نافذ کیا جائے گا ،اس کے بعد باقی مال میت کے ورثا میں ان کے شرعی حصوں کے بقدر تقسیم ہوگا۔
بصورت مسؤلہ درج بالا ترتیب کے مطابق یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات ،قرض کی ادائیگی اور نفاذِ وصیت(اگر ہو تو) کے بعد مرحوم کے باقی ماندہ ترکہ کےکل 6  حصے بنائے جائیں گے جن میں سے مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ایک ایک حصہ جبکہ ہر ایک بیٹے کو دو د و حصے دئے جائیں گے۔

قال تبارك و تعالى:
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ ..... الخ         (النساء: 11)
الهندية:
التركة تتعلق بها حقوق أربعة. . . . . ثم بالدين وأنه لا يخلو إما أن يكون الكل ديون الصحة أو ديون المرض . . . . . ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين إلا أن تجيز الورثة أكثر من الثلث ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث . . . . . الخ
(كتاب الفرائض، الباب الأول في تعريف الفرائض،6/ 447 ، دارالفكر)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق:
قال رحمه الله: (وعصبهما الابن وله مثل حظهما) معناه إذا اختلط البنون والبنات عصب البنات فيكون للابن مثل حظهما فصار للبنات ثلاثة أحوال: النصف للواحدة، والثلثان للاثنين فصاعدا، والتعصيب عند الاختلاط بالذكور.
(كتاب الفرائض، أنواع الحجب ،8/ 563 ، دار الكتاب الإسلامي)
السراجي في الميراث:
و اما لبنات الصلب فاحوال ثلاث...و مع الابن للذكر مثل حظ الانثيين و هو يعصبهن.....الخ
( فصل في النساء ، ص32 ، المكتبة البشرى)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 11 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب