نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرا شوہر ایک ذہنی و نفسیاتی مریض ہے اور اسے آئس ، ہیروئن اور نیند کی گولیاں کھانے کی عادت ہے۔زیادہ تر وہ نشہ کی حالت میں رہتا ہے اور اسی حالت میں لڑائی جھگڑا بھی کرتا ہے ۔تقریبا ً تین سال پہلے اس نے نشہ کیا ہوا تھا اور وہ جھگڑے کے دوران طلاق کے الفاظ بولنے لگا تھا مگر چونکہ جھگڑا ہاتھا پائی والا تھا تو مجھے الفاظ واضح طور پر یا د نہیں کہ کیا بولا تھا اور پھر میں نے ان کے منہ پر ہاتھ رکھ کر روک دیا تھا اور وہ خاموش ہوگئے تھے مگر جو الفاظ اس نے بولے تھے وہ مجھے یاد نہیں۔
اب حال ہی میں اس نے دوبارہ دو مرتبہ یہ الفاظ بولے ہیں کہ " تم میری طرف سے طلاق ہو" اور اس وقت بھی اس نے نشہ کیا ہوا تھا۔
میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ ایسی صورت میں شریعت کے لحاظ سے طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟اگر طلاق ہوئی ہے تو رجوع کب تک ہوسکتا ہے؟
تنقیح:پہلی بار جو طلاق کی بات ہوئی ہے وہ الفاظ نہ شوہر کو یاد ہے اور نہ بیوی کو کہ کیا الفاظ تھے اور یہ بھی یاد نہیں کہ آیا وہ طلاق دی تھی یا طلاق کی دھمکی تھی اور ان دونوں کے علاوہ بھی کوئی تیسرا گواہ موجود نہیں ہے البتہ دوسری مرتبہ جو دو مرتبہ طلاق کے الفاظ کہے ہیں وہ بیوی کو بھی یا د ہیں اور شوہر بھی اس کا اقرار کرتا ہے کہ میں نے دوسری مرتبہ مذکورہ الفاظ دو مرتبہ کہے ہیں۔
بصورت مسؤلہ چونکہ پہلی مرتبہ طلاق دینے اور نہ دینے میں شک ہے اس لئے شک کی بناء پر وہ طلاق تو واقع نہیں ہوئی البتہ دوسری مرتبہ شوہر کے مذکورہ الفاظ " تم میری طرف سے طلاق ہو" جس کا وہ خود اقرار کررہا ہے اس سے آپ پر دو طلاق رجعی واقع ہوچکی ہیں ۔تاہم آپ کے شوہر کو آپ کی تین ماہواریاں گزرنے سے پہلے پہلے رجوع کا اختیار حاصل ہے ۔اس دوران اگر وہ رجوع کرلیتا ہے تو آپ دونوں دوبارہ ایک ساتھ رہ سکتے ہیں اور اگلی بار آپ کے شوہر کو صرف ایک طلاق کا اختیار حاصل ہوگا،البتہ دو طلاقوں کی صورت میں عدت گزرنے کے بعد اگر دوبارہ آپ دونوں ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس صورت میں گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ ازسرِ نو نکاح کرنا ہوگا۔
الفتاوى تنقيح الحامدية:
(سئل) في الرجل إذا شك أنه طلق أم لا فهل لا يقع عليه الطلاق؟ (الجواب) : نعم لا يقع كما في الأشباه أي في قاعدة الأصل براءة الذمة.
(كتاب الطلاق، 1/ 37 ، رشيدية)
الفتاوى الهندية:
وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية.
(كتاب الطلاق، الباب السادس ، 1/ 470 ، دار الفكر)
الهداية شرح البداية:
" وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها " لأن حل المحلية باق لأن زواله معلق بالطلقة الثالثة فينعدم قبله ومنع الغير في العدة لاشتباه النسب ولا اشتباه في إطلاقه ".
(كتاب الطلاق، باب الرجعة، 2/ 275 ، دار احياء التراث العربي)
الدر المختار:
(هي استدامة الملك القائم) . . . . . (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (بكل ما يوجب حرمة المصاهرة) كمس ولو منها اختلاسا.
و تحته في الشامية:
(قوله: بنحو راجعتك) الأولى أن يقول بالقول نحو راجعتك ليعطف عليه قوله الآتي وبالفعل ط، وهذا بيان لركنها وهو قول، أو فعل. . . . . . . (قوله: مع الكراهة) الظاهر أنها تنزيه كما يشير إليه كلام البحر في شرح قوله والطلاق الرجعي لا يحرم الوطء رملي، ويؤيده قوله في الفتح - عند الكلام على قول الشافعي بحرمة الوطء -: إنه عندنا يحل لقيام ملك النكاح من كل وجه، وإنما يزول عند انقضاء العدة فيكون الحل قائما قبل انقضائها. اهـ.
(كتاب الطلاق، باب الرجعة ، 3/ 399-397 ، دار الفكر)
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔