سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-194 Fatwa no: 1447-194

راہن كے فوت ہونے کی صورت میں رہن کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میں ایک زرگر ہوں میرے پاس آج سے پانچ سال قبل ایک ضعیف العمر  خاتون (جنہیں میں جانتا تک  نہیں تھا) دس ہزار کی رقم بطور قرضہ لینے کے لیئے تشریف لائیں۔اس رقم کے بدلے انہوں نے اپنی سونے کی انگوٹھی جس کی مالیت اس وقت بارہ  ہزار روپے تھی میرے پاس بطور گروی رکھوائی کہ چند دنوں بعد میں یہ رقم آپ کو دے کر اپنی انگوٹھی واپس لے جاوں گی۔آج پانچ سال ہوگئے ہیں لیکن اس خاتون کا کوئی اتا پتا نہیں۔ جس انگوٹھی کی مالیت اس وقت بارہ ہزار تھی اب وہ ایک لاکھ کو پہنچ چکی ہے۔ پوچھنا یہ کہ اب اس صورت حال میں میرے لیے کیا حکم ہے؟

جواب :

بصورت مسؤلہ پہلے تو آپ مذکورہ عورت یا اس کے ورثاء کو ڈھونڈ کر ان کو وہ انگوٹھی واپس کرنے اور ان سے اپنا قرض وصول کرنے کی پوری کوشش کریں لیکن اگر بسیار تلاش کے بعد بھی اس کا یا اس کے ورثاء کی کوئی معلومات نہ ہوسکے تو اس صورت میں آپ وہ اگوٹھی بیچ کر اپنا قرض وصول کرلیں جبکہ باقی رقم لقطہ کے حکم میں ہوگی جس کو آپ مذکورہ عورت کی طرف سے فقراء و مساکین میں صدقہ کردیں ۔
الدر المختار:
(فإن شرطت) الوكالة (في عقد الرهن لم ينعزل بعزله و) لا (بموت الراهن و) لا (المرتهن) للزومها بلزوم العقد . . . . . .الخ
تحته في الشامية:
لا بالعزل الحكمي كموت الموكل وارتداده ولحوقه بدار الحرب، لأن الرهن لا يبطل بموته لتقدم حق المرتهن على حق الورثة 
(كتاب الرهن ، باب الرهن يوضع على يد عدل ، 6/ 503 ، دار الفكر)
المبسوط للسرخسي:
فإن مات أحد الراهنين فورثه الآخر، فالرهن على حاله؛ لأن وارث الميت يخلفه في ملكه بعد موته، وكان نصيبه في حياته مشغولا بحق المرتهن، فكذلك بعد موته. 
(كتاب الرهن ، باب رهن الرجلين وارتهانهما ،21/165، دار المعرفة)
الهندية:
         وأما حكمه فملك العين المرهونة في حق الحبس حتى يكون أحق بإمساكه إلى وقت إيفاء 
         الدين فإذا مات الراهن فهو أحق به من سائر الغرماء فيستوفى منه دينه فما فضل يكون 
         لسائر الغرماء والورثة
(كتاب الرهن ، الباب الأول،5/433، دار الفکر)

الدر المختار:
 (وعرف) أي نادى عليها حيث وجدها وفي الجامع (إلى أن علم أن صاحبها لا يطلبها أو أنها
 تفسد إن بقيت كالأطعمة) والثمار(كانت أمانة) لم تضمن بلا تعد. . . .(فينتفع) الرافع (بها
 لو فقيرا وإلا تصدق بها على فقير . . . . . (فإن جاء مالكها) بعد التصدق (خير بين إجازة 
            فعله ولو بعد هلاكها) وله ثوابها(أو تضمينه) والظاهر أنه ليس للوصي والأب إجازتها نهر.
 (كتاب اللقطة ، 4/278، دار الفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب