سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-195 Fatwa no: 1447-195

رشوت میں سود کی رقم دینےکا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
یہ جو ہم کام کرواتے ہیں چائے پانی دیتے ہیں مثلا کسی بھی محکمے میں چلے جائیں تو چائے پانی لیتے ہیں باہر جو بیٹھے ہوتے ہیں چپڑا سی وغیرہ یا جو نائب قاصد ہوتے ہیں یا اس طرح کا کوئی کام ہے جو اندر سے لیگلی نہیں ہوتا پھر بعض بندے چائے پانی لے کے کرتے ہیں ایک قسم کی رشوت ہوتی ہے تو یہ سود کے پیسوں سے بھی دیا جا سکتا ہے؟ مثلا آپ کے پاس سود کے پیسے کوئی بینک میں اپ کے فکس ہیں یا سیونگ اکاؤنٹ میں  ہو جاتا ہے  تو وہ پیسے ان کو دیے جا سکتے ہیں کہ نہیں دیے جا سکتے یہ بھی فرما دیں؟

جواب :

بصورت مسؤلہ اگر مذکورہ کام شرعاً و قانونا ً جائز ہو اور آپ کا حق ہو ،نیزاس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو اور تمام  قانونی تقاضے پورا کرنے کے باوجود  صرف رشوت نہ دینے کی وجہ سے نہ ہو رہا ہو تو اس صورت میں اپنے حق کے حصول کیلئے مجبوراً رشوت دینے کی گنجائش  ہے لیکن اس رشوت میں سود کی رقم دینا جائز نہیں کیونکہ سود کی رقم کو بلا نیتِ ثواب فقراء و مساکین پر صدقہ کرنا واجب ہے  ۔
رد المحتار:
دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسه وماله ولاستخراج حق له ليس برشوة يعني في حق الدافع اهـ.
(كتاب الحظر والإباحة ، فصل في البيع ، 6/ 424 ، دار الفکر)
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:
(وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما) : بالواو (قال: «لعن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - الراشي والمرتشي» ) : أي: معطي الرشوة وآخذها، وهى الوصلة إلى الحاجة بالمصانعة، وأصله من الرشاء الذي يتوصل به إلى الماء، قيل: الرشوة ما يعطى لإبطال حق، أو لإحقاق باطل، أما إذا أعطى ليتوصل به إلى حق، أو ليدفع به عن نفسه ظلما فلا بأس به، وكذا الآخذ إذا أخذ ليسعى في إصابة صاحب الحق فلا بأس به، لكن هذا ينبغي أن يكون في غير القضاة والولاة ; لأن السعي في إصابة الحق إلى مستحقه، ودفع الظالم عن المظلوم واجب عليهم، فلا يجوز لهم الأخذ عليه،. . . .الخ
(كتاب الإمارة والقضاء، باب رزق الولاة وهداياهم، 6/ 2437،دار الفكر) 
الفتاوى الهندية:
قالوا: بذل المال لدفع الظلم عن نفسه وماله لا يكون رشوة في حقه وبذل المال لاستخراج حق له على آخر يكون رشوة.
 (كتاب الوصايا، الباب التاسع،  6/ 150، دار الفكر)
رد المحتار: 
لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اه
(كتاب الحظر والإباحة ، فصل في البيع، 6/385 ، دار الفكر) 

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب