نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ميرے بیٹے کو میری والدہ نے یعنی اس کی دادی نے مدت رضاعت میں دودھ پلایا تھا حالانکہ جس وقت میری والدہ میرے بیٹے (اپنے پوتے)کو دودھ پلارہی تھی اس وقت اسکا اپنا بھی ایک بیٹا (میرا بھائی) تھا اور اس وقت اس کا بھی دودھ پینے کا زمانہ تھا اور اس وقت میری والدہ کے پستان میں دودھ تھا جس سے وہ اپنے اس بیٹے (میرا بھائی) کو دودھ پلاتی تھی۔ اب میں اپنے اس بیٹے کا نکاح اپنے بھائی کی لڑکی یعنی میری بھتیجی سے کرنا چاہتا ہوں تو آیا ان دونوں کا نکاح شرعاً جائز ہے یا نہیں ؟
بصورت مسؤلہ مذکورہ لڑکی آپ کے بیٹے کی رضاعی بھتیجی ہے اس لئے ان کا آپس میں نکاح شرعا ً جائز نہیں۔
في الهندية:
يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعا أو ولد لهذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعا فالكل إخوة الرضيع وأخواته وأولادهم أولاد إخوته وأخواته وأخو الرجل عمه وأخته عمته وأخو المرضعة خاله وأختها خالته وكذا في الجد والجدة
(كتاب الرضاع ،1/ 343 ، دارالفكر)
و في الدر المختار:
الرضاع (هو) لغة بفتح وكسر: مص الثدي. وشرعا (مص من ثدي آدمية) ولو بكرا أو ميتة أو آيسة، وألحق بالمص الوجور والسعوط (في وقت مخصوص) هو (حولان ونصف عنده وحولان) فقط (عندهما وهو الأصح) فتح وبه يفتى كما في تصحيح القدوري عن العون …… (ويثبت التحريم) في المدة فقط …… (فيحرم منه) أي بسببه (ما يحرم من النسب)
(كتاب النكاح ، باب الرضاع ،3/ 213-209 ، دارالفكر)
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔