سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-198 Fatwa no: 1447-198

زانی اور مزنیہ کی اولاد کا آپس میں نکاح کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے گاوں میں ایک آدمی نے ایک عورت کے ساتھ زنا کیا تھا پھر وقت گزرتے گزرتے دونوں کی اپنی اپنی اولاد ہوگئی اور اب وہی آدمی جس نے زنا کیا تھا اپنی بیٹی کا نکاح اسی عورت کے بیٹے سے کرا رہا ہے جس عورت سے اس نے زنا کیا تھا۔ابھی تک صرف اس لڑکے اور لڑکی کی منگنی ہوچکی ہے شاید نکاح نہیں ہوا۔اب اس حوالے سے آپ حضرات رہنمائی فرمائیں کہ اس لڑکے اور لڑکی کا نکاح کیا آپس میں جائز ہے کیونکہ ان کے والدین نے تو آپس میں زنا کیا ہے؟شکریہ ۔
جواب :

زنا ایک حرام فعل ہے اور اس کی وجہ سے زانی اور مزنیہ کے اصول و فروع(اولاد اور والدین) ایک دوسرے پر ہمیشہ کیلئے حرام ہوجاتے ہیں لیکن اس زنا کی وجہ سے زانیہ اور مزنیہ کی اولاد ایک دوسرے پر حرام نہیں ہوتے اور ان کا آپس میں نکاح جائز ہوتا ہے۔
بصورت مسؤلہ مذکورہ زانی کی بیٹی اور مزنیہ کا بیٹا آپس میں اجنبی ہیں اور ان کا آپس میں  نکاح  جائز ہےبشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ ہو۔
رد المحتار على الدر المختار:
(قوله: وحرم أيضا بالصهرية أصل مزنيته) قال في البحر: أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا كما في الوطء الحلال ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها. اهـ.
 (كتاب النكاح ، فصل في المحرمات،3/ 32 ، دارالفكر)
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر:
(والزنا يوجب حرمة المصاهرة) حتى لو زنى بامرأة حرمت عليه أصولها وفروعها وحرمت المزنية على أصوله وفروعه، ولا تحرم أصولها وفروعها على ابن الواطئ وأبيه كما في المحيط للسرخسي.. . . ..الخ
(كتاب النكاح ، باب المحرمات،1/ 326 ، دار إحياء التراث العربي)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق:
وأراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع: حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا كما في الوطء الحلال ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها ..... الخ
( كتاب النكاح ، فصل في المحرمات في النكاح،3 / 108 ، دار الكتاب الإسلامي)
الهندية: 
فمن زنى بامرأة حرمت عليه أمها وإن علت وابنتها وإن سفلت، وكذا تحرم المزني بها على آباء الزاني وأجداده وإن علوا وأبنائه وإن سفلوا، كذا في فتح القدير. 
( كتاب النكاح ، الباب الثالث في بيان المحرمات،1 /274 ، دار الفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 11 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب