نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںزنا ایک حرام فعل ہے اور اس کی وجہ سے زانی اور مزنیہ کے اصول و فروع(اولاد اور والدین) ایک دوسرے پر ہمیشہ کیلئے حرام ہوجاتے ہیں لیکن اس زنا کی وجہ سے زانیہ اور مزنیہ کی اولاد ایک دوسرے پر حرام نہیں ہوتے اور ان کا آپس میں نکاح جائز ہوتا ہے۔
بصورت مسؤلہ مذکورہ زانی کی بیٹی اور مزنیہ کا بیٹا آپس میں اجنبی ہیں اور ان کا آپس میں نکاح جائز ہےبشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ ہو۔
رد المحتار على الدر المختار:
(قوله: وحرم أيضا بالصهرية أصل مزنيته) قال في البحر: أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا كما في الوطء الحلال ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها. اهـ.
(كتاب النكاح ، فصل في المحرمات،3/ 32 ، دارالفكر)
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر:
(والزنا يوجب حرمة المصاهرة) حتى لو زنى بامرأة حرمت عليه أصولها وفروعها وحرمت المزنية على أصوله وفروعه، ولا تحرم أصولها وفروعها على ابن الواطئ وأبيه كما في المحيط للسرخسي.. . . ..الخ
(كتاب النكاح ، باب المحرمات،1/ 326 ، دار إحياء التراث العربي)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق:
وأراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع: حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا كما في الوطء الحلال ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها ..... الخ
( كتاب النكاح ، فصل في المحرمات في النكاح،3 / 108 ، دار الكتاب الإسلامي)
الهندية:
فمن زنى بامرأة حرمت عليه أمها وإن علت وابنتها وإن سفلت، وكذا تحرم المزني بها على آباء الزاني وأجداده وإن علوا وأبنائه وإن سفلوا، كذا في فتح القدير.
( كتاب النكاح ، الباب الثالث في بيان المحرمات،1 /274 ، دار الفكر)
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 11 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔