نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک آدمی کی ایک بیوی دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں ، اس صاحب نے کئی سال قبل پشاور میں 38 مرلہ پلاٹ پر ایک گھر بنایا جس میں بیوی بچوں سمیت ابھی تک اکھٹے رہ رہے ہیں ۔اسی گھر کے قریب اس نے ایک 3 مرلہ کا پلاٹ خریدا اور ایک 6 مرلہ کا مکان ۔جو 6 مرلہ مکان تھا وہ ان صاحب نے اپنی اہلیہ کے نام سے خریدا اور چونکہ وہ کچہ مکان تھا اس لئے اس کو گرا کر پکا مکان بنایا جس کو بعد میں کرایہ پر چڑھایا۔
اس کے علاوہ جو 3 مرلہ کا پلاٹ تھا وہ بھی ان صاحب نے اپنی اہلیہ کو ہبہ کیا اور اس پر کوئی قبضہ نہیں دیا تھا اور مذکورہ بالا طریقہ کے مطابق کاغذات میں اپنی اہلیہ کے نام منتقل کیا ،پھر اس کی اہلیہ نے وہ پلاٹ اپنے چھوٹے بیٹے کو ہبہ کیا اور انہوں نے بھی اس پلاٹ پر اپنے بیٹے کو کوئی قبضہ نہیں دیا البتہ سٹامپ پیپر پر لکھ کر دے دیا کہ یہ مکان چھوٹے بیٹے کو دے دیا اور اس پلاٹ میں سے والدہ نے اپنا تصرف وغیرہ ختم کیا یعنی اس کے بعد اس پلاٹ میں کسی قسم کا کوئی دخل نہیں رکھا اور جب کبھی بھی جائیداد کی تقسیم کی بات ہوتی ہے تو اس 3 مرلہ پلاٹ کے بارے میں والدین ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ اس میں تو ہمارا کوئی کام نہیں ،وہ تو ہم نے چھوٹے بیٹے کو دے دیا ہے اور ہبہ کرنے کے بعد ایک مرتبہ اس پلاٹ کی دیوار گر گئی تھی جو اسی چھوٹے بیٹے نے اپنے پیسوں سے دوبارہ کھڑی کی اور اس دوران والدہ نے کوئی اعتراض نہیں کیا کہ دیوار کیوں بنارہے ہو وغیرہ وغیرہ۔
ان دونوں جگہوں کے علاوہ جو ان صاحب کا 38 مرلہ کا گھر ہے اس میں سے 15 مرلہ اس نے اپنے بڑے بیٹے کی شادی کے موقع پر اس کی گھر والی کے مہر میں لکھا اور باقاعدہ طور پر نکاح کے موقع پر ہی اپنی بہو کے نام منتقل کیا اور باقی گھر میں سے 5 مرلہ اپنے بڑے بیٹے کے نام پر منتقل کیا ،10 مرلہ چھوٹے بیٹے کے نام منتقل کیا جبکہ باقی کے 8 مرلہ اپنے لئے رکھ لیا۔
اب وہ صاحب چاہتے ہیں کہ اس 38 مرلہ گھر کی تقسیم کو ازسرنو کیا جائے ،لہذا وہ اب اپنے بڑے بیٹے سے فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کی بیوی کو جو 15 مرلہ مہر میں دیا ہے وہ بھی آپ ہی کا ہے کیونکہ آپ کا حصہ یا آپ کی بیوی کا حصہ ایک ہی چیز ہے لہذا وہی آپ کی بیوی کا 15 مرلہ حصہ آپ ہی کا ہے جبکہ باقی گھر میں سے میں چاہتا ہوں کہ آپ کا 5 مرلہ حصہ ختم کر کے 15 مرلہ دوسرے بیٹے كے نام منتقل كروں تاکہ آپ دونوں بھائیوں کا حصہ برابر ہوجائے جبکہ باقی کے 8 مرلہ اپنی بیٹیوں کے نام منتقل کروں۔
اب آپ حضرات سے درجہ ذیل چیزوں میں رہنمائی درکار ہے؛
(1)اس صاحب نے اپنی اہلیہ کو جو 6 مرلہ مکان ہبہ کیا ہے وہ ہبہ مکمل ہوچکا ہے یا نہیں ؟ اگر ہبہ مکمل نہیں ہوا تو اس صورت میں چونکہ وہ
دونوں حیات ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ ہبہ مکمل ہوکر وہ مکان ان کی اہلیہ کا ہی ہو تو اس ہبہ کو اب کیسے مکمل کیا جائے؟
(2)3 مرلہ پلاٹ جو ان صاحب نے اپنی اہلیہ کو ہبہ کیا تھا آیا وہ ہبہ بھی مکمل ہوگیا ہے یا نہیں اور آگے پھر جو ان کی اہلیہ نے اپنے چھوٹے بیٹے کو ہبہ کر کے ان کے نام انتقال بھی کیا ہے وہ ہبہ مکمل ہوگیا ہے یا نہیں ؟ اگر ہبہ مکمل نہیں ہوا تو ابھی اس کو مکمل کرنے کا کیا طریقہ ہوگا؟
(3)ان صاحب نے 38 مرلہ گھر میں پہلے جو تقسیم کی تھی اس کا شرعی حکم کیا ہے اور اب جس طرح تقسیم وہ کرنا چاہتے ہیں وہ کیسا ہے؟ اس کے علاوہ بھی اگر کوئی اچھے طریقہ تقسیم کے بارے میں آپ حضرات رہنمائی فرمائیں تو اچھا ہوگا۔
تنقیح:
(1)ان صاحب نے اپنی بہو کے نام مہر میں جو 15 مرلہ گھرانتقال کیا ہے اس میں مہر میں صرف اتنا لکھا گیا تھا کہ 15 مرلہ زمین جس میں تعمیر
بھی شامل ہوگی لیکن 15 مرلہ کو مخصوص نہیں کیا گیا کہ کونسے 15 مرلہ اور نہ ہی شادی کے بعد سے لیکر اب تک کوئی 15 مرلہ جدا کر کے بہو کے حوالہ کیا گیا ہے کہ جس پر اس کو مکمل اختیار دیا گیا ہو البتہ جب گھر کی تقسیم ہوگی تو اس وقت اپنی بہو کو کوئی سے 15 مرلہ دئے جائینگے اور اس پر بہو کو کوئی اعتراض بھی نہیں۔
(2)ان صاحب نے اپنی اہلیہ کو جو 6 مرلہ مکان ہبہ کیا ہے وہ خریدا ہی اپنی اہلیہ کے نام سے تھا، یعنی کاغذات میں اپنی اہلیہ کا نام درج ہوا اور اس نے اپنی اہلیہ کو اس مکان میں حق تصرف بھی دیا،پھر اس مکان کو اپنی اہلیہ کی اجازت سے توڑا اور اس پر پکا مکان بناکر اہلیہ کی مرضی سے کرایہ پر چڑھایا اور ابھی تک اس مکان سے جو کرایہ آتا ہے وہ لاکر اپنی اہلیہ کو دیتے ہیں اور اس گھر میں کئی مرتبہ مرمت اور رنگ وغیرہ کا بھی موقع آیا جو ان صاحب نے اپنے پیسوں سے کیا اور اس بارے میں اپنی اہلیہ کو مرمت یا رنگ سے پہلے یا بعد میں بتاتے ضرور ہیں لیکن اس طرح باقاعد ہ اجازت نہیں لیتے کہ میں اس میں یہ کام کروں یا نہ کروں وغیرہ وغیرہ۔
(3) ان صاحب کی بڑی بہو خاندان سے باہر تھی اس لئے بہو کے والد نے شرط لگائی تھی کہ مہر میں 15 مہر گھر آپ لوگوں نے لکھنا ہے ہر صورت میں جس کی وجہ سے 15 مرلہ گھر لکھ دیا گیا لیکن چھوٹی بہو خاندان ہی کی لڑکی تھی اس لئے ان کی طرف سے اس طرح کی کوئی شرط نہیں رکھی گئی جس کی وجہ سے اس وقت چھوٹی بہو کے مہر میں گھر نہیں لکھا گیا لیکن ان صاحب نے اپنی بڑی بہو کو مہر میں جتنا سونا اور نقدی دی اتنا ہی اپنی چھوٹی بہو کو بھی دینا چاہتے تھے لیکن چھوٹے بیٹے نے اپنے نکاح کے وقت خود اس سے منع کیا اور کہا کہ آپ لوگ میری اہلیہ کے نام مہر میں کچھ نہ لکھیں اور آپ نے جو کچھ دینا ہے وہ مجھے دے دیں۔پھر والدہ (ان صاحب کی اہلیہ) نے اپنا سونا اپنی بہو کو دیا اور ابھی دونوں بیٹوں کو برابر زمین دینے کی غرض سے وہ صاحب اپنے 38 مرلہ گھر کا تقسیم ازسرِ نو کرنا چاہتے ہیں۔
آپ کے سولات کے جوابات دینے سے پہلے تمہیدی طور پر ایک چیز ذکر کی جاتی ہے تاکہ مسئلہ سمجھنے میں آسانی ہو؛
انسان اپنی زندگی میں اپنے مال کا خود مالک ہوتا ہے اور اس کو اپنے اس مال میں ہر قسم کے جائز تصرف کا مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے،جب تک
وہ زندہ رہے اس کی اولاد کو اس کی اجازت کے بغیر اس کے مال میں تصرف کا کوئی حق نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کی اولاد اسکی جائیداد میں کسی قسم
کےمطالبہ کا حق رکھتی ہے۔تاہم اگر وہ اپنا مال اپنی زندگی میں اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو اس کا بھی اس کو اختیار حاصل ہوتا ہے اور یہ اس کی طرف سے ہبہ(گفٹ) ہوتا ہے ۔پھر اپنی جائیداد اپنی اولاد کو ہبہ کرنے میں انسان درجہ ذیل دو طریقے اختیار کرسکتا ہے؛
(الف) اصول ِ میراث کے مطابق تقسیم کرے جس کا طریقہ یہ ہے کہ بیٹے کو بیٹی سے دگنا دے۔
(ب) برابری کے اصول کے مطابق تقسیم کرے یعنی جتنا بیٹے کو دیتا ہے اتنا ہی بیٹی کو دے۔
چونکہ اپنی زندگی میں اپنی اولاد میں جائیداد تقسیم کرنا ہبہ ہوتا ہے میراث نہیں اس لئے اس میں دوسرا طریقہ(سب کو برابر دینا) اختیار کرنا زیادہ بہتر اور پسندیدہ ہے تاکہ والد کی جائیداد میں تمام اولاد کو برابر حصہ مل سکے ، نیز رسول اللہ نے اولاد کو اپنا مال ہبہ کرنے کی صورت
میں برابری کا حکم فرمایا ہے چنانچہ ایک صحابی رسول حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ روایت نقل کرتے ہیں؛
عن النعمان بن بشير، أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاما، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله»، قال: لا، قال: «فارجعه» (صحيح البخاري،3/ 157، دار طوق النجاة)
ترجمہ: (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر رضی اللہ عنہ) انہیں رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس
بیٹے کو ایک غلام ہدیہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا: ”نہیں“، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو۔
ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ …… آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔
تاہم اگر کوئی آدمی اپنی اولاد میں سے چند ایک کو کسی وجہ شرعی مثلا ً دینی شرافت ، خدمت یا مالی کمزوری کی بناء پر باقیوں سے کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اس طرح کرنے سے مقصود باقی اولاد کو اپنے مال سے محروم کرنا یا ان کو نقصان پہچانا نہ ہو۔
مذکورہ بالا تمہید کے بعد اب نمبروار آپ کے سولات کے جوابات ملاحظہ ہوں:
(1)سوال میں ذکر کردہ تفصیل سے اتنی بات تو واضح ہوتی ہے کہ شخص مذکور نے 6 مرلہ کا مکان اپنی اہلیہ کے نام سے خریدا تھا،اب اس خریدنے کے بعد اگر وہ باقاعدہ طور پر وہ جگہ اپنی اہلیہ کو ہبہ کرچکا ہو اور اپنی اہلیہ کو قبضہ یا اختیارِ تصرف بھی دے چکا ہو تو اس صورت میں وہ مکان ان کی اہلیہ کی ملکیت ہوگا جس میں اس کو ہر قسم کے تصرف کا حق حاصل ہوگا ،تاہم اہلیہ کی وفات کے بعد مذکوہ مکان ان کے تمام شرعی
ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے بقدر تقسیم ہوگا۔
(2)مذکورہ 3 مرلہ پلاٹ میں پہلا ہبہ (جو شخص مذکور نے اپنی اہلیہ کو ہبہ کیا تھا)مکمل ہوچکا ہے کیونکہ اس پلاٹ پر اس نے اپنی اہلیہ کو مالکانہ تصرف کا اختیار دیا تھا جس پر قرینہ ان کی اہلیہ کا آگے اس پلاٹ کو اپنے چھوٹے بیٹے کو سٹامپ پیپر پر لکھ کی ہبہ کرنا اور آگے اس پلاٹ میں
دوسرا ہبہ(جو اس کی اہلیہ نے اپنے چھوٹے بیٹے کو ہبہ کیا) وہ بھی مکمل ہوچکا ہے کیونکہ والدہ نے اس پلاٹ سے اپنا تصرف ختم کر کے بیٹے کو دیا اور بیٹے نے مذکورہ پلاٹ میں دیوار کھڑی کر کے اس میں تصرف کیا،لہذا یہ پلاٹ اب اسی چھوٹے بیٹے کی ملکیت ہے۔
(3)شخص مذکور نے مذکورہ 38 مرلہ گھر کی جو پہلی تقسیم کی تھی وہ ایک غیر منصفانہ تقسیم ہے لیکن اس تقسیم کے مطابق چونکہ کسی کو اپنے حصے پر ابھی تک قبضہ یا مالکانہ تصرف کا اختیار نہیں دیا گیا اس لئے اس تقسیم کی کوئی شرعی حیثیت نہیں اور ابھی اگر شخص مذکور اپنا مذکورہ گھر شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم کرنا چاہتا ہے تو اس کو چاہیے کہ اس میں اپنے بڑے بیٹے کے علاوہ اپنی تمام اولاد کو برابر برابر حصہ دے جس کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ سب سے پہلے تو وہ اس گھر میں سے اپنی بڑی بہو کو اس کا مہر (مذکورہ گھر میں سے 15 مرلہ) ادا کرے اور اس کے بعد پھر باقی گھر میں سے کچھ مرلہ اپنے لئے رکھ لے تاکہ بوقت احتیاج کام آسکے اور باقی ماندہ گھر اپنے چھوٹے بیٹے اور چار بیٹیوں میں برابر برابر تقسیم کرے ،یوں تمام اولاد کو برابر حصہ بھی مل جائے گا اور کسی کے ساتھ ناانصافی بھی نہ ہوگی ۔تاہم اگر وہ مذکورہ گھر میں سے بہو کے مہر کی ادائیگی اور اپنے لئےمذکورہ گھر میں سے کچھ مرلہ رکھنے کے بعد باقی ماندہ گھرکو میراث کے اصول (بیٹے کو بیٹی سے دگنا) کے مطابق تقسیم کرنا چاہتا ہے تو شریعت میں اس کی بھی گنجائش ہے ،تاہم بہتر اور منصفانہ وہی پہلے والا (برابر سرابر) طریقہ ہے۔
نوٹ: والد صاحب کی پوری جائیداد میں مذکورہ بالا تقسیم کے مطابق گھر میں بڑے بیٹے کو حصہ نہ دینے کی تجویز دی گئی ہےاس لئے کہ والد صاحب نے اپنی جائیداد میں سے بڑے بیٹے کی اہلیہ کے مہر کا ذمہ لیکراس پر احسان کیا ہے اور اس کو جائیداد میں سے جتنا حصہ دینا تھا اس سے زیادہ والد صاحب نے اس کی طرف سے مہر کا ضامن بن کر اس کی اہلیہ کو دے دیا ،لہذا اب باقی جائیداد چھوٹے بیٹے اور چار بیٹیوں میں تقسیم کرنا زیادہ مناسب ہوگا تاکہ ان کے ساتھ بھی احسان کا معاملہ ہو۔
في مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:
(وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ) : وَفِي خِطَابِ الْعَامِ إِشَارَةٌ إِلَى عُمُومِ الْحُكْمِ (قَالَ) : فَانْصَرَفَ أَبِي مِنْ عِنْدِهِ – عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - (فَرَدَّ عَطِيَّتَهُ) أَيْ: إِلَى نَفْسِهِ أَوْ فَرَجَعَ فِي هِبَتِهِ، وَقَوْلُهُ: فَرَدَّ تَفْسِيرٌ لَهُ وَفِيهِ جَوَازُ رُجُوعِ الْوَالِدِ فِي هِبَةِ وَلَدِهِ (وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّهُ) أَيِ: النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - (قَالَ: «لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ» ) أَيْ: ظُلْمٍ أَوْ مَيْلٍ فَمَنْ لَا يَجَوِّزُ التَّفْضِيلَ بَيْنَ الْأَوْلَادِ يُفَسِّرُهُ بِالْأَوَّلِ وَمَنْ يُجَوِّزُهُ عَلَى الْكَرَاهَةِ يُفَسِّرُهُ بِالثَّانِي، قَالَ النَّوَوِيُّ: " فِيهِ اسْتِحْبَابُ التَّسْوِيَةِ بَيْنَ الْأَوْلَادِ فِي الْهِبَةِ فَلَا يُفَضِّلُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ سَوَاءٌ كَانُوا ذُكُورًا أَوْ إِنَاثًا، قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا: يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ، وَالصَّحِيحُ الْأَوَّلُ لِظَاهِرِ الْحَدِيثِ فَلَوْ وَهَبَ بَعْضَهُمْ دُونَ بَعْضٍ فَمَذْهَبُ الشَّافِعِيِّ، وَمَالِكٍ، وَأَبِي حَنِيفَةَ - رَحِمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى - أَنَّهُ مَكْرُوهٌ وَلَيْسَ بِحَرَامٍ وَالْهِبَةُ صَحِيحَةٌ .... الخ
(كتاب البيوع ، باب العطايا ، رقم 3019 ،5/ 2009، دار الفكر)
و في شرح المجلة:
تنعقد الهبة بالايجاب والقبول، وتتم بالقبض الکامل، لانها من التبرعات،والتبرع لايتم الا بالقبض الكامل في المنقول ما يناسبه ....الخ
(الكتاب السابع في الهبة ، الباب الاول ،المادة 837 ، 1/ 367 ، مكتبة رشيدية)
و في الدر:
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها .... الخ
(كتاب الهبة،5/ 690 ، دار الفكر)
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في النحلى لقوله سبحانه وتعالى {إن الله يأمر بالعدل والإحسان}.... لما روي أن بشيرا أبا النعمان أتى بالنعمان إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال إني نحلت ابني هذا غلاما كان لي فقال له رسول الله - صلى الله عليه وسلم - كل ولدك نحلته مثل هذا فقال لا فقال النبي - عليه الصلاة والسلام - فأرجعه وهذا إشارة إلى العدل بين الأولاد في النحلة وهو التسوية بينهم ولأن في التسوية تأليف القلوب والتفضيل يورث الوحشة بينهم فكانت التسوية أولى ولو نحل بعضا وحرم بعضا جاز من طريق الحكم لأنه تصرف في خالص ملكه لا حق لأحد فيه .... الخ
(كتاب الهبة، فصل في شرائط ركن الهبة ، 6/ 127، دار الكتب العلمية)
و في الرد:
" (قوله كما حققه مفتي دمشق إلخ) أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه - صلى الله عليه وسلم - قال «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال» رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم» فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهموعليه الفتوى وقال محمد: ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزيا إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف، وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا يكون آثما في التخصيص وفي التفضيل. . . . . الخ
(كتاب الوقف ،مطلب مهم في قول الواقف على الفريضة الشرعية ، 4/444 ، دار الفکر)
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔