نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک آدمی کا نکاح ہوا اور نکاح کے چند سال بعد اس نے اپنی بیوی کو کسی گھریلوں تنازع کی وجہ سے ایک طلاق دے دی ،پھر تھوڑا عرصہ گزرنے کے بعد دوبارہ کسی تنازع کی وجہ سے اس نے اپنی اس بیوی کو مزید دو طلاقیں دے دی یہ سوچ کر کہ مجھے تین طلاقوں کا اختیار ہے اور اب اس کو دو طلاقیں دے دوں گا اور ایک طلاق کا اختیار مجھے پھر بھی حاصل ہوگا حالانکہ ان دو طلاقوں سے پہلے بھی تو وہ ایک طلاق دے چکا تھا ۔اب اس بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ اس مسئلہ میں کہ جب اس کو پہلی طلاق یاد نہ تھی اور اس نے مزید دو طلاقیں دے دی تو اس سے اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں یا دو طلاقیں ؟
بصورت مسؤلہ مذکورہ شخص کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور وہ طلاق مغلظہ کے ساتھ اپنے سابقہ شوہر پر حرام ہوچکی ہے۔عدت گزرنے کے بعد بیوی آزاد ہوگی جس کے ساتھ چاہیں دوسرا نکاح کرسکتی ہیں،تاہم اگر دونوں دوبارہ حلال طریقے سے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو اس صورت میں حلالہ شرعیہ ضروری ہے اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ بیوی طلاق کی عدت مکمل ہونے کے بعد کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے اور دوسرا شوہر حقوقِ زوجیت ادا کرنے کے بعد خود اپنی مرضی سے اس کو طلاق دے دے یا اس کا انتقال ہوجائے ،اس کے بعد جب اس کی عدت مکمل ہوجائے تو دونوں ازسر نو دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ نیا نکاح کرلیں۔
قال تبارك و تعالى:
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ (البقرة: 230)
و في صحيح البخاري:
قال الليث عن نافع كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال لو طلقت مرة أو مرتين فأن النبي صلى الله عليه و سلم أمرني بهذا فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك.
(كتاب الطلاق، باب من قال لامرأته أنت على حرام ، 5/ 2015 ، دار ابن كثير)
و في صحيح مسلم:
عن ابن شهاب، حدثني عروة بن الزبير، أن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم أخبرته، أن رفاعة القرظي طلق امرأته، فبت طلاقها، فتزوجت بعده عبد الرحمن بن الزبير، فجاءت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله، إنها كانت تحت رفاعة، فطلقها آخر ثلاث تطليقات، فتزوجت بعده عبد الرحمن بن الزبير، وإنه والله، ما معه إلا مثل الهدبة، وأخذت بهدبة من جلبابها، قال: فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم ضاحكا، فقال: «لعلك تريدين أن ترجعي إلى رفاعة،
لا، حتى يذوق عسيلتك.
(كتاب النكاح ، 2/ 1055 ، دار إحياء التراث العربي)
و في الدر المختار وحاشية ابن عابدين:
أما التحليل فقد شدد الشرع في ثبوته، ولذا قالوا: إن شرعيته لإغاظة الزوج عومل بما يبغض حين عمل أبغض ما يباح فلذا اشترطوا فيه الوطء الموجب للغسل بإيلاج الحشفة بلا حائل في المحل المتيقن احترازا عن المفضاة والصغيرة من بالغ، أو مراهق قادر عليه بعقد صحيح لا فاسد ولا موقوف ولا بملك يمين.
(كتاب الطلاق، مطلب في حيلة إسقاط عدة المحلل، 3/ 411 ، دار الفكر)
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛ لأن أهل التأويل اختلفوا في مواضع التطليقة الثالثة من كتاب الله قال بعضهم هو قوله تعالى {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230]
(كتاب الطلاق، الرجعة، 3/ 187 ، دار الكتب العلمية)
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔