سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-201 Fatwa no: 1447-201

سمندری سفر میں میت کی تجہیز و تدفین کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم اکثر بحری جہازوں میں سمندر کے سفر پر ہوتے ہیں اور ہمارا سفر کبھی دو یا تین ماہ تک جاری رہتا ہے اس دوران اگر ہمارا کوئی ساتھی فوت ہوجائے تو اس وقت اس کے غسل اور دفن کا کیا طریقہ اختیار کیا جائے؟شریعت کا اس حوالے سے کیا حکم ہے کیونکہ خشکی پر پہنچنے تک اگر ہم اس کو رکھتے ہیں تو اس صورت میں تو میت پر وقت گزرتے گزرتے اس کے خراب ہونے کا بھی خطرہ ہوتا ہے تو اس حوالے سے آپ ہماری رہنمائی فرمائیں کیا ایسے حالات میں کیا کیا جائے؟
جواب :

بصورت مسؤلہ  اگر بحری جہاز میں سرد خانہ یا کوئی ایسا  انتظام ہو کہ جہاں  نعش دو تین ماہ تک محفوظ رہ سکتی ہو یا  اس سے کم فاصلے پر کوئی جزیرہ ہو جہاں  تک نعش محفوظ رہ سکتی ہو اور اس كے خراب ہونے   یا بدبو پیدا ہونے کا خطرہ نہ ہوتو اس صورت میں  لازم ہے کہ نعش  مذکورہ جگہ میں رکھی جائے  اور جب ساحل یا  جزیرہ  پر پہنچے تو وہاں میت کو باقاعدہ  غسل اور کفن دے کر اور نماز جنازہ پڑھ کر قبر میں دفن کیا جائے ،بصورت دیگر مذکورہ میت کو جہاز ہی میں غسل اور کفن(اگر موجود ہو ورنہ عام چادر وغیرہ میں کفن دیا جائے)دیکر  اس پر نمازہ جنازہ پڑھی جائے اور اس کے ساتھ کوئی وزنی چیز باندھ کر اس کو سمندر میں ڈالا جائے۔
في صحيح ابن حبان – محققا:
 عن أنس أن أبا طلحة قرأ سورة براءة فأتى على هذه الآية: {انفروا خفافا وثقالا} [التوبة: 42] فقال: ألا ترى ربي يستنفرني شابا وشيخا جهزوني فقال له بنوه: قد غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى قبض وغزوت مع أبي بكر حتى مات وغزوت مع عمر فنحن نغزو عنك, فقال: جهزوني, فجهزوه وركب البحر فمات فلم يجدوا له جزيرة يدفنونه1 فيها إلا بعد سبعة أيام فلم يتغير.
(كتاب إخبارهﷺ عن مناقب الصحابة ، 16/ 152 ، مؤسسة الرسالة)
و في الدر المختار:
 (و) يسن أن (يفرش فيه التراب. مات في سفينة غسل وكفن وصلي عليه وألقي في البحر إن لم يكن قريبا من البر ...الخ
و تحته في الشامية:
(قوله وألقي في البحر) قال في الفتح: وعن أحمد يثقل ليرسب. وعن الشافعية كذلك إن كان قريبا من دار الحرب وإلا شد بين لوحين ليقذفه البحر فيدفن. اهـ. (قوله إن لم يكن قريبا من البر) الظاهر تقديره، بأن يكون بينهم وبين البر مدة يتغير الميت فيها. ثم رأيت في نور الإيضاح التعبير بخوف الضرر به ...الخ
(كتاب الصلاة ، باب صلاة الجنازة ، 2/ 235، دار الفكر)
و في فتح القدير للكمال ابن الهمام:
ومن مات في سفينة دفنوه إن أمكن الخروج إلى أرض، وإلا ألقوه في البحر بعد الغسل والتكفين والصلاة. وعن أحمد يثقل ليرسب، وعن الشافعية كذلك إن كان قريبا من دار الحرب، وإلا شد بين لوحين ليقذفه البحر فيدفن ...الخ
(كتاب الصلاة ، باب الجنائز ، 2/ 141، دار الفكر)
و في نور الايضاح و نجاة الارواح:
ومن مات في سفينة وكان البر بعيدا وخيف الضرر غسل وكفن وصلي عليه وألقي في البحر.
(كتاب الصلاة ، الموت في البحر ، ص: 98 ، دار الحكمة)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 11 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب