نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہمارے والد صاحب نے دو شادیاں کی تھی،ہم سب اکٹھے رہتے تھے لیکن پھر کسی وجہ سے میرے والد صاحب نے اپنی دوسری بیوی یعنی میرے سوتیلی ماں کو طلاق دے دی۔طلاق سے پہلے ہم سوتیلی ماں کا بہت خیال رکھتے تھے اور وہ بھی ہم سے بہت محبت کرتی تھی کبھی ہمیں سوتیلی اولاد کی طرح نہیں سمجھا ۔اب چونکہ طلاق ہوچکی ہے اور وہ ہماری سوتیلی ماں نہیں رہی اوراپنے والد کے گھر میں ہے تو ہم بھائیوں کیلئے اس سے ملنا جائز ہے یا نہیں ؟کیا وہ اس طلاق کے بعد اب ہمارے لئے غیر محرم ہوگی؟
سوتیلی ماں اور سوتیلی اولاد کے درمیان ہمیشہ محرمیت قائم رہتی ہے اگرچہ سوتیلی ماں کو طلا ق ہوجائے لہذا بصورت مسؤلہ آپ کی سوتیلی ماں آپ لوگوں کیلئے ہمیشہ محرمہ رہے گی اور آپ بھائیوں کا اس کے پاس جانا اور اس سے ملاقات کرنا جائز بلکہ مستحسن ہے ۔
قال تبارك وتعالي:
حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ . . . . .الخ (النساء: 23)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
فالمحرمات بالقرابة سبع فرق: الأمهات والبنات والأخوات والعمات والخالات وبنات الأخ وبنات الأخت قال الله تعالى: {حرمت عليكم أمهاتكم وبناتكم وأخواتكم وعماتكم وخالاتكم وبنات الأخ وبنات الأخت وأمهاتكم اللاتي أرضعنكم} [النساء: 23] الآية أخبر الله تعالى عن تحريم هذه المذكورات . . . . . الخ
(كتاب النكاح ، فصل أن تكون المرأة محللة، 2/ 256، دار الكتب العلمية)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق:
(قوله وامرأة أبيه وابنه وإن بعدا) أما حليلة الأب فبقوله تعالى {ولا تنكحوا ما نكح آباؤكم من النساء} [النساء: 22] فتحرم بمجرد العقد عليها والآية المذكورة استدل بها المشايخ كصاحب النهاية وغيره على ثبوت حرمة المصاهرة بالزنا بناء على إرادة الوطء بالنكاح فإن أريد به حرمة امرأة الأب والجد ما يطابقها من إرادة الوطء قصر عن إفادة تمام الحكم المطلوب حيث قال: ولا بامرأة أبيه،. . . . . الخ
(كتاب النكاح ،فصل في المحرمات في النكاح، 3/ 100، دار الكتاب الإسلامي)
صفوة التفاسير:
{وَلاَ تَنكِحُواْ مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِّنَ النسآء إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ} أي لا تتزوجوا ما تزوج آباؤكم من النساء لكن ما سبق فقد عفا الله عنه {إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَمَقْتاً} أي فإِن نكاحهن أمر قبيح قد تناهى في القبح والشناعة، وبلغ الذروة العليا في الفظاعة والبشاعة، إِذ كيف يليق بالإِنسان أن يتزوج امرأة أبيه وأن يعلوها بعد وفاته وهي مثل أمه {وَسَآءَ سَبِيلاً} أي بئس ذلك النكاح القبيح الخبيث طريقاً، ثم بيّن تعالى المحرمات من النساء فقال {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ} أي حُرّم عليكم نكاح الأمهات.
(النساء ، 1/ 246 ، دار الصابوني للطباعة والنشر والتوزيع)
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔