سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-203 Fatwa no: 1447-203

شاپنگ مال والوں كا كسٹمرز كو قرعہ اندازی میں انعام دینےکا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہم یہاں ایک عرب ملک میں کام کرتے ہیں ،یہاں ایک شاپنگ مال والے تین پروڈکٹس کی خریداری پر قرعہ اندازی کے ذریعے انعام دیتے ہیں جس کا طریقہ کار یہ ہے کہ تین پروڈکٹس (پرفیوم ، تیل اور میک اپ کا سامان) میں سے اگر کوئی کسٹمر کوئی پروڈکٹ خریدتا ہے تو ان کا نام قرعہ اندازی میں ڈال دیا جاتا ہے اور پھر قرعہ اندازی میں پانچ قسم کے انعامات دئے جاتے ہیں مثلاً پہلا  اور دوسرا انعام نقد پیسوں کی صورت میں ہوتا ہے ،تیسرا انعام موبائل اور اس طرح مختلف چیزیں دی جاتی ہیں ۔جن پروڈکٹس کا اوپر ذکر کیا ان میں سے ہر ایک پروڈکٹ کی قیمت متعین ہوتی ہے۔اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس طرح کی قرعہ اندازی کے ذریعے انعامات دینا اور ان سے انعام وصول کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب :

دکانداروں اور شاپنگ مال والوں کا خریداری کی صورت میں قرعہ اندازی کے ذریعے انعام دینا درحقیقت کسٹمرز کو ان سے خریداری پر ابھارنے اور آمادہ کرنے کیلئے ہوتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ کسٹمرز ان سے خریدداری کریں ،لہذا بصورت مسؤلہ مذکورہ شاپنگ مال کا قرعہ اندازی کے ذریعے اپنے کسٹمرز کو انعام دینا  درجہ ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے؛
(1)شاپنگ مال والے مذکورہ پروڈکٹس  کی قیمت اتنی ہی طے کریں جتنی عام مارکیٹ میں اس کی قیمت ہو،انعام کی وجہ سے ان پروڈکٹس کی قیمت میں اضافہ نہ کریں۔
(2)شاپنگ مال والے انعام کی آڑ میں اپنے کسٹمرز کو ناقص پروڈکٹس نہ بیچیں،یعنی  قرعہ اندازی کو ناقص پروڈکٹس کی ترویج کا ذریعہ نہ بنائیں ۔
البتہ کسٹمر کیلئے اس انعام کا وصول کرنا اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ خریداری سے اس کا مقصود  اس غیر یقینی انعام  کو حاصل کرنا نہ ہو بلکہ اس کا اصل مقصود سامان یعنی مذکورہ پروڈکٹس ہی کی خریداری ہو،بصورت دیگر یہ معاملہ جوئے کے زمرے میں آئے گا جس سے احتراز ضروری ہے۔
قال تبارك وتعالي:
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ         (المائدة: 90)
احكام القرآن للجصاص:
وقال قوم من أهل العلم: "القمار كله من الميسر".وأصله من تيسير أمر الجزور بالاجتماع على القمار فيه،وهو السهام التي يجيلونها،فمن خرج سهمه استحق منه ما توجبه علامة السهم،فربما أخفق بعضهم حتى لا يحظى بشيء وينجح البعض فيحظى بالسهم الوافر،وحقيقته تمليك المال على المخاطرة.وهو أصل في بطلان عقود التمليكات الواقعة على الأخطار،كالهبات والصدقات
وعقود البياعات ونحوها، إذا علقت على الأخطار  . . . . .  لأن معنى إيسار الجزور أن يقول: من خرج سهمه استحق من الجزور كذا، فكان استحقاقه لذلك السهم منه معلقا على الخطر. 
(سورة المائدة، 2/ 582، دار الكتب العلمية)
المبسوط للس رخسي:
لا بأس باستعمال القرعة في القسمة فقد «استعمل رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ذلك في قسمة الغنيمة مع نهيه صلوات الله عليه عن القمار» فدل أن استعماله ليس من القمار.
(كتاب القسمة ، 15/ 4، دار المعرفة)
رد المحتار:
لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص.
(كتاب الحظر والإباحة ، فصل في البيع، 6/ 403 ، دار الفکر)
بحوث في قضائا معاصرة فقهية:
و إن حكم مثل الجوائز أنها تجوز بشروط:
الشرط الأول: أن يقع شراء البضاعة بثمن مثله ، ولا يزاد في ثمن البضاعة من أجل احتمال الحصول على الجوائز ، و هذا لأنه إن زاد البائع على ثمن المثل ، فالمقدار الزائد إنما يدفع من قبل المشتري مقابل الجائزة المحتملة ، فصارت الجائزة بمقابل مالیّ فلم تبق تبرعاً ، وان هذا المقابل المالیّ إنما وقع به المخاطرة ، فصارت العملية قمارا ً. . . . .الخ
الشرط الثاني:أم لا تتخذ هذه الجوائز ذريعة لترويج البضاعات المغشوشة ، لأن الغش الخداع حرام لا يجوز بحال .
الشرط الثالث:أن يكون المشتري يقصد شراء المنتج للانتفاع به، ولا يشتريه لمجرد ما يتوقع من الحصول على الجائزة، لأنه إن لم يقصد شراء المنتج ،فإن ما يبذله من الثمن ،إنما يبذله من أجل الجائزة ،فكان فيه شبهة المخاطرة، فلا يخلو من شبهة القمار.
(البحث التاسع عشر، احكام الجوائز، 2/ 158 ، معارف القرآن كراتشي)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب