سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-204 Fatwa no: 1447-204

شراکت میں تمام شرکاء پر ان کے سرمایہ کے تناسب سے نقصان آئے گا

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہم دو ساتھیوں منصور اور فیصل نے مل کر مشترکہ کاروبار شروع کیا،منصور نے دس لاکھ ساٹھ ہزار سرمایہ لگایا جبکہ فیصل نے پانچ لاکھ سرمایہ لگایا۔اس کے بعد ہمیں مزید سرمایہ کی ضرورت پڑی تو ہم نے ایک تیسرے ساتھی ابراہیم کو بھی ساتھ ملایا ۔ابراہیم نے گیارہ لاکھ سرمایہ جمع کیا ،ابراہیم سے ہم نے گیارہ لاکھ سرمایہ لیکر اس کو اپنے ساتھ مذکورہ کاروبار میں شریک کیا۔کاروبار چلتا رہا اور پھر ہمیں مزید سرمایہ کی ضرورت پڑی لیکن بروقت سرمایہ مہیا نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں نقصان ہوا جس کی وجہ سے ہم نے اس کاروبار کو ختم کیا ۔کاروبار کیلئے تینوں ساتھیوں نے جو سرمایہ اکٹھا کیا تھا اس سے مختلف اشیاء خریدی گئی اور فیکٹری کا ایڈوانس کرایہ بھی دیا گیا ،ایسے ہی رجسٹریشن میں بھی پیسہ لگا لیکن نقصان کے بعد جب ساری اشیاء فروخت کی تو تقریباً چار لاکھ باون ہزار روپیہ ہاتھ آیا۔اب آپ حضرات سے درخواست ہے کہ اس حوالہ سے رہنمائی فرمائیں کہ یہ بقایا    چار لاکھ باون ہزار روپیہ ہمارے درمیان کن اصولوں سے تقسیم ہوں گے اور کس کس کو کتنی رقم ملے گی ؟ 

جواب :

شرکت کے اصولوں کے مطابق مشترکہ کاروبار میں تمام شرکاء باہمی رضامندی سے نفع کی کوئی بھی شرح طے کرسکتے ہیں لیکن نقصان کی صورت میں ہر شریک اپنے سرمایہ کے بقدر نقصان کا ضامن ہوگا  ۔
بصورت مسؤلہ مذکورہ سوال سے واضح ہوتا ہے کہ مذکورہ  کاروبار پر لگنے والا مجموعی سرمایہ چھبیس لاکھ ساٹھ ہزار روپے (2660000)تھا جس میں سے منصور کا سرمایہ  دس لاکھ ساٹھ ہزار روپے( 39.849  فیصد) تھا ، فیصل کا پانچ لاکھ روپے(18.796 فیصد )  اور ابراہیم کا سرمایہ گیارہ لاکھ روپے(41.353 فیصد )تھا،  اس لئے  جو نقصان ہوا ہے وہ ان تینوں پر ان کے سرمایہ کے تناسب سے تقسیم ہوگا اور سب کچھ فروخت ہونے کے بعد حاصل شدہ رقم  چار لاکھ باون ہزار روپے(452000) تینوں شرکاء پر ان کے سرمایہ کے تناسب سے تقسیم ہوں گے جس کی ترتیب یہ ہوگی کہ مذکورہ رقم چار لاکھ باون ہزار روپے  (452000) میں سے منصور کو  ایک لاکھ اسی ہزار ایک سواکیس  روپے(180122) ملیں گے،فیصل کو چوراسی ہزار نوسو ساٹھ روپے(84960) اور ابراہیم کو ایک لاکھ چھیاسی نوسوسترہ  روپے(186917) ملیں گے۔
في بدائع الصنائع:
إذا شرطا الربح على قدر المالين متساويا أو متفاضلا، فلا شك أنه يجوز ويكون الربح بينهما على الشرط سواء شرطا العمل عليهما أو على أحدهما والوضيعة على قدر المالين متساويا ومتفاضلا؛ لأن الوضيعة اسم لجزء هالك من المال فيتقدر بقدر المال . . . . .الخ
( کتاب الشركة، فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركة،6/62، دار االكتب العلمية)
و في حاشية ابن عابدين:
(قوله: وحكمها الشركة في الربح) الواو للحال ط: أي فيلزم انتفاء حكمها لو لم يربح غير المسمى، 
ويحمل كون الواو للعطف على قوله: وشرطها.
 (تنبيه) ويندب الإشهاد عليها، وذكر محمد كيفية كتابتهم فقال: هذا ما اشترك عليه فلان وفلان اشتركا على تقوى الله تعالى وأداء الأمانة ثم يبين قدر رأس مال كل منهما ويقول ذلك كله في أيهما يشتريان به ويبيعان جميعا وشتى ويعمل كل منهما برأيه ويبيع بالنقد والنسيئة، وهذا وإن ملكه كل بمطلق عقد الشركة إلا أن بعض العلماء يقول لا يملكه إلا بالتصريح به ثم يقول: فما كان من ربح فهو بينهما على قدر رءوس أموالهما، وما كان من وضيعة أو تبعة فكذلك، ولا خلاف أن اشتراط الوضيعة بخلاف قدر رأس المال باطل واشتراط الربح متفاوتا عندنا صحيح فيما سيذكر، فإن اشترطا التفاوت فيه كتباه كذلك . . . . .الخ
( کتاب الشركة،4/305، دار الفكر)
و في بحر الرائق:
وهو التفاضل في المال والتساوي في الربح، وقال زفر والشافعي لا يجوز؛ لأن التفاضل فيه يؤدي إلى ربح ما لم يضمن فإن المال إذا كان نصفين والربح أثلاثا فصاحب الزيادة يستحقها بلا ضمان إذ الضمان بقدر رأس المال؛ لأن الشركة عندهما في الربح كالشركة في الأصل ولهذا يشترطان الخلط فصار ربح المال بمنزلة نماء الأعيان فيستحق بقدر الملك في الأصل ولنا قوله - عليه السلام - «الربح على ما شرطا والوضيعة على قدر المالين» ولم يفصل . . . . .الخ
( کتاب الشركة، شركة العنان،5/188، دار الكتاب الإسلامي)                

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب