سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-205 Fatwa no: 1447-205

شرکت اموال میں شرط فاسد لگانے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیافرماتےہیں مفتيان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں کہ ایک آدمی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی خریدو فروخت کرتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس کے ساتھ موٹر سائیکلوں کے کام میں سرمایہ لگا کر شریک ہو جاؤں یعنی صرف موٹر سائیکلوں کے نفع میں شریک ہو جا ؤں جبکہ نقصان اس کا اپنا ہوگا۔کیا میں اس طرح شریک بن سکتا ہوں یا نہیں اگر نہیں تو پھر جواز کی کیا صورت ہو گی؟
جواب :

شراکت کے بنیادی اصولوں کے مطابق شرکاء نفع اور نقصان دونوں میں شریک ہوتے ہیں اس لئے دوران عقد صرف نفع میں شرکت اور نقصان سے برائت کی شرطِ لگانا شرط فاسد ہے اور اس طرح کی شرطِ فاسد لگانے کے باوجود عقد شرکت درست ہوتی ہے بشرطیکہ شرکت کے باقی شرائط  پائی جائیں اور یہ شرطِ فاسد لغو ہوجاتی ہے  اور نقصان کی صورت میں ہر شریک اپنے سرمایہ کے تناسب کے بقدر نقصان اٹھائے گا۔
بصورت مسئولہ آپ مذکورہ کاروبار میں شرکت کر سکتے ہیں لیکن دوران عقد دونوں  شریک آپس میں فیصد کے اعتبار سے نفع کی تقسیم طے کرلیں۔ نیز  کاروبار میں نقصان کی صورت کی آپ دونوں شریکوں پر اپنے سرمایہ کے بقدر نقصان برداشت کرنا لازم ہوگا۔ 
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي:
صورة إدخال الشرط الفاسد في الشركة والمضاربة بأن عقدا الشركة لأحدهما ألف وللآخر ألفان وشرطا الربح والوضيعة نصفين فالشرط فاسد والشركة صحيحة
(كتاب البيوع،باب المتفرقات،4/ 133، المطبعة الكبرى الأميرية)
الدر المختار:
وفي الجلالية كل شرط يوجب جهالة في الربح أو يقطع الشركة فيه يفسدها، وإلا بطل الشرط وصح العقد اعتبارا بالوكالة
(كتاب المضاربة،5/ 648، دار الفكر)
الفتاوى الهندية:
اشتركا فجاء أحدهما بألف والآخر بألفين على أن الربح والوضيعة نصفان فالعقد جائز والشرط في حق الوضيعة باطل، فإن عملا وربحا فالربح على ما شرطا، وإن خسرا فالخسران على قدر رأس مالهما، كذا في محيط السرخسي.
(كتاب الشركة ،الباب الثالث،2/ 320، دار الفكر)
البسوط للسرخسى:
الوضيعة على المال في المضاربة والشركة لأن الوضيعة هلاك جزء من المال والمضارب والشريك أمين فيما في يده من المال وهلاك المال في يد الأمين كهلاكه في يد صاحبه.
(باب شركة العنان،11 / 323، دار الفكر)
العناية شرح الهدايه:
والوضيعة بينهما على قدر رأس مالهما أبدا ( قوله وهو قول زفر والشافعي ) واضح ( قوله ولنا قوله صلى الله عليه وسلم { الربح على ما شرط العاقدان ، والوضيعة على قدر المال } ) رواه أصحابنا في كتبهم.
(كتاب الشركة ،باب شركة العنان ،6/ 177، دار الفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 11 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب